3 نوجوان لڑکیوں کو مذہبی رہنما کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار کرلیاگیا

3 نوجوان لڑکیوں کو مذہبی رہنما کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں ...
3 نوجوان لڑکیوں کو مذہبی رہنما کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں گرفتار کرلیاگیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ہرارے(مانیٹرنگ ڈیسک) زمبابوے میں ایک پادری نے کسی کو قرض دے رکھا تھا لیکن جب وہ قرض خواہی کے لیے اس قرض دار کے گھر گیا تو اس کے ساتھ ایسا شرمناک کام کر دیا گیا کہ کوئی مرد اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق پادری اس گھر میں گیا تو وہاں 3لڑکیاں21سالہ سینڈرا نکوبے، 23سالہ ریاموہیتسی اور 25سالہ مونگیوی پوفو موجود تھیں۔ ان تینوں لڑکیوں نے پادری کو پکڑ لیا اور اندر لیجا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کر ڈالی۔

خاتون نے بچے کو اپنا دودھ پلانے کی تصویر فیس بک پر لگادی، لیکن اس میں ساتھ ہی اور کیا شرمناک کام کررہی ہے؟ ایسا کام کہ تصویر نے انٹرنیٹ پر طوفان برپا کردیا، لوگوں کا غصہ آسمان پر جاپہنچا کیونکہ۔۔۔

پولیس نے واقعے کی رپورٹ کیے جانے پر تینوں لڑکیوں کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا کہ ”پادری جب گھر پر گیا تو لڑکیوں نے اسے کہا کہ اندر آ کر رقم لے لو۔ جب وہ اندر گیا تو انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ دو لڑکیوں نے اسے پکڑ کر لٹائے رکھا جبکہ تیسری اس کے ساتھ زیادتی کرتی رہی۔“ رپورٹ کے مطابق لڑکیوں نے عدالت کو بتایا کہ ”یہ پادری علاقے میں خواتین کو برہنہ حالت میں دیکھا کرتا تھا جب وہ نہا رہی ہوتی تھیں۔ منع کرنے پر یہ کہتا کہ میں نیک آدمی ہوں، میرے دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ آیا یہ واقعی نیک ہے اور واقعی خواتین کو برہنہ دیکھ کر اسے کچھ محسوس ہوتا ہے یا نہیں۔ یہ جھوٹ بولتا ہے۔جب ہم نے اسے پکڑا اور چھونا شروع کیا تو فوری طورپراس کے جھوٹ کا پول کھل گیا۔ ہم صرف یہی جاننا چاہتی تھیں، اس کے بعد ہم نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ اس حوالے سے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس