ریڑھی والا پوزیشن ہولڈر،دیکھنا پھر ریڑھی والا ہی نہ رہ جائے

ریڑھی والا پوزیشن ہولڈر،دیکھنا پھر ریڑھی والا ہی نہ رہ جائے
ریڑھی والا پوزیشن ہولڈر،دیکھنا پھر ریڑھی والا ہی نہ رہ جائے

  

میٹرک کے رزلٹ آ چکے،جشن بھی رواں آنسو بھی رواں،کسی کا باپ سر پر نہیں تو کسی کا باپ مزدور نکلا،ہر ایک کی داستان انوکھی اور الگ۔۔۔ پوزیشنز ایک اچھی کوشش ہیں،ریڑھی چلا کر،مزدوری کرکے بھی وہ پہلی پوزیشن پر آ گے۔اچھے مہنگے ،سکولز بہترین ٹیویشنز،ماں باپ کی توجہ،بہترین پک اینڈ ڈراپ،لیکن پھر بھی کوئی نمایاں پوزیشن نہیں ،امتحانات میں تو پوزیشنز حاصل نہ کر سکنے والے،اچھی پوزیشنز پر پہنچ جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔افسوس مجھے ان کے پہنچنے کا نہیں بلکہ افسوس اس نظام پر ہے جس میں یہ باور کروا دیا جاتا ہے۔تم نے محنت کی ،پوزیشن لی اعلٰی کار کردگی دیکھائی ،لیکن تم ایک عام آدمی ہوتمہاری سفارش کرنے کے لیے کسی پرائیویٹ نمبر سے ،بڑے دفتر سے اور بڑی لینڈ کروزر سے کوئی نہیں آیا اس لیے تم کسی اچھی پوسٹ پر نہیں جا سکتے۔اگر چلے بھی گئے تو چل نہیں سکوگے۔تمہارے لیے آ جا کے پولیس ،فوج یا پھر سکول ماسٹر ،اگر مزید چھلانگ لگائی تو لیکچرر ہی بن پاؤ گے۔ٹاپ کی یونیورسٹی میں داخلہ نہیں مل سکتا تمہیں ،کیونکہ تمہاری فیس ادا کرنے کی اوقات نہیں۔تمہیں پھر آ جا کر پبلک یونیورسٹی میں بڑی مشکل سے داخلہ لے کر اخراجات ،ماحول کو نہ سمجھتے ہوئے واپس اپنی اصل پر واپس آنا ہوگا ۔پھر تمہیں ماں کی دوائی ،باپ کی بیماری کے لیے وہی گولڈ میڈل بیچنا پڑے گا۔اور تم اس زعم سے باہر آ جاؤ گے کہ تم بھی کچھ تھے اور ہو۔

وزیر اعلٰی کے اقدامات قابل تعریف ہیں ۔اگر ان میں پائیداری ہو۔میں ایسے پوزیشن ہولڈرز کو جانتا ہوں جو فیس نہ ہونے کی وجہ سے ادھار مانگ کر داخلہ اور خیراتی اداروں کے پیسوں سے ہاسٹل فیس ادا کرنے پر مجبور ہوئے۔بہت سا وقت ان کاموں میں لگا کر اچھی تعلیمی کارکردگی نہ دیکھا سکے اور پہلے سمسٹر سے ہی آؤٹ ہو کر مایوسی کا شکار ہو گئے۔ہر سال غریب پہلی پوزیشنز پر آ کر پھر منظر سے یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے تھے ہی نہیں۔پھر گورنمنٹ کی طرف سے ملنے والی رقم کے چکروں میں تعلیمی چکر بھول جاتے ہیں۔اس نظام تعلیم نے رٹے باز ہی پیدا کیا ہیں ،اس پر پھر سہی۔موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے گوہر ضائع ہو جاتے ہیں۔باقاعدہ کونسلنگ نہ ہونے سے بچے سمجھ نہیں پاتے کہاں جائیں۔اس لیے ایک نظام ہونا چاہیے جو ان بچوں کو گاہے گاہے باور کرواتا رہے اور ان کو ان کی منزل تک پہنچائے۔ورنہ غریب والدین ملنے والے پیسوں سے گھر ،پلاٹ تو بنا لیں گے ،بچے کے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیں گے۔پوزیشنز لینا آسان لیکن ان کو قائم رکھنا بہت مشکل ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ