قطر سے قطع تعلقی اور دنیا کا امن

قطر سے قطع تعلقی اور دنیا کا امن
قطر سے قطع تعلقی اور دنیا کا امن

  

سعودی عرب اور خلیجی ممالک کر قطر پر پابندیوں کا سلسلہ پچھلے پچاس دونوں سے بدستور جاری ہے۔ فریقین کے درمیاں غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لئے ترُکی اور کویت جیسے مما لک کی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں سکیں۔ بلکہ یُوں کہنا زیادہ مُناسب ہو گا کہ قطر اور دوسرے ممالک کی حکومتوں کے درمیان مزید دُوریاں اور تلخیاں بڑ ھتی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا موقف یہ ہے کہ قطر کو ایسے ممالک سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہئے۔ جن کے تعلقات ایسے عناصر سے ہیں جو کہ دہشت گردی جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔ سعودی عر ب اور دوسرے خلیجی ممالک کا مطمعِ نظر یہ ہے قطر کو ایران ، شام اور یمن جیسی حکومتوں سے تعلقات میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ ایران اپنے پڑوسی ممالک کو اپنی فوجی طاقت سے مرعوب کرکے اپنا رُعب جمانا چاہتا ہے۔ ایران کی خواہش ہے کی وُہ شیعہ تعلقات کو علاقے میں فروغ دے۔ جبکہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک سُنی عقائد کے پرچار کے لئے سب کُچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک یمن میں اپنی حمایت یافتہ حکومت قایم کرنا چاہتے ہیں۔ ایران یمن مین سعودی عرب اور اِس کے اتحادی ممالک کی مخالفت کرتا ہے۔ گو کہ قطر کی حکومت سعودی عرب کی افواج کے ساتھ یمن میں ایران کے خلاف آپریشن میں مصروف رہی ہے ، تاہم سعودی عرب کو شک تھا کہ ایرانی حکومت کیساتھ قطر ی حکومت اور اِس کی افواج کے گہرے مر اسم تھے۔

یاد رہے کی ایسی تمام انٹلیجنس رپورٹ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے سات روزہ دورے پر سعودی حُکمرانوں کو دی تھی۔ جو کہ مصر سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بنی۔ آج سے دو ماہ پہلے سعودی عرب میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں تمام اتحادی ممالک کے سر براہاں یا اُن کے نمائیندے موجود تھے لیکن چند روز کے درمیاں ہی یہ گھی شکر نظر آنے والی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا امریکہ کی کسی سوچی سمجھی سکیم کا نام۔ بعض تبصرہ نگار اِس کو امریکہ کی مکاری پر محمول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سعودی عرب اور اِس کے اتحادی ممالک کا بائیکاٹ اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ قطر کو اپنے مُلک کا انتظام اور انصرام کو چلانے کے لئے اشیاء خوردنی کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ لیکن قطر کو اپنے عوام کی بنیادی ضرورتیں پُوری کرنے کے لئے ایران اور تُرکی جیسے ممالک امداد پر بھروسہ کرنا پڑا۔فوجی اعتبار سے خلیجی ممالک کی فوجی طاقت سے لڑ نے کے لئے قطر کو امریکہ اور تُرکی کی حکومتوں سے ہر طرح کی مدد حاصل کرنا پڑی۔لیکن اِس تمام قضیے میں ایران، تُرکی اور امریکہ نے بھر پُور فائدہ اُٹھایا۔ ایران کو خلیج میں قطر کی صورت میں ایک دوست مِل گیا۔ امریکہ نے قطر کے دفاع کا معاہدے کرکے کئی ملین ڈالرز کی مالیت کے ڈرون طیارے بیچ دئیے ہیں۔ایران نے بُرے وقت میں قطر کی مدد کرکے اپنے دوستانہ تعلقات استوار کر لئے ہیں۔ قطر کو اپنے ساتھ مِلا کر ایران نے سعودی عرب کو ہمیشہ ہمشیہ کے لئے قطر سے دُور کر دیا ہے۔

کویت کی حکومت سعودی عرب اور دوسرے ممالک کے درمیان معاملات کو سُلجھانے کے لئے روزِ اوّل سے ہی کوشاں ہے لیکن بد قسمتی سے متحارب ممالک اپنے اپنے موقف میں لچک د کھانے کی بجائے اِس میں مزید پیچیدگیاں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اور سعودی عرب کی حکومتوں کو قطری حکومت کے روئیے سے بے حد تکلیف پہنچی ہے۔ اَب یہ مسئلہ قطری حکومت اور خلیجی ممالک کی حکومتوں کے درمیاں ہی نہیں رہا بلکہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نے ایران قطر اور تُرکی کے اشتراک عمل کو اپنے مُفادات کے خلاف پایا ہے۔ تُرکی قطر کی حفاظت کے لئے تیں ہزار فوجیوں پر مشتمل فوجی قایم کر رہا ہے۔ جسکا مقصد قطر کو سعودی عرب اور خلیجی ممالکے سے بچانا ہے۔ایران نے قطر کی حکومت کی غذائی ضرورتوں کو پوُرا کرنے کے لئے ہنگامی طور پر سینکڑوں ٹن اشیا خوردنی قطر کے عوام کے لئے بھیجی ہیں۔ ایران اور تُرکی کے ایسے اقدامات نے قطری عوام اور حکومت کے دِل جیت لئے ہیں۔لیکن آنے والے وقت میں یہ معاملات نفاق کی بڑھتی خلیج کا وسیع کرنے کا باعث بن گئے تو امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ