سرگودھا یونیورسٹی سے پنجابی ڈیپارٹمنٹ ختم کر نے کے خلاف سماجی تنظیموں کا احتجاج ،فیصلہ واپس نہ لیاتو پنجاب بھر میں احتجاج کریں گے :احمد رضا پنجابی

سرگودھا یونیورسٹی سے پنجابی ڈیپارٹمنٹ ختم کر نے کے خلاف سماجی تنظیموں کا ...
سرگودھا یونیورسٹی سے پنجابی ڈیپارٹمنٹ ختم کر نے کے خلاف سماجی تنظیموں کا احتجاج ،فیصلہ واپس نہ لیاتو پنجاب بھر میں احتجاج کریں گے :احمد رضا پنجابی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سرگودھایونیورسٹی میں پنجابی ڈیپارٹمنٹ ختم کرنے کے خلاف سماجی تنظیم ”پنجابی پرچار“ کے زیر اہتمام پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں پنجاب بھر سے مختلف تنظیموں اور پنجابی زبان کی ترویج  کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں ، طلبا اور اساتذہ رہنماﺅں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔

اس موقع پر احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پنجابی پر چار کے صدر احمد رضا  پنجابی نے کہا کہ ملک میں 65 فیصد بولی جانے والی زبان کو ختم کرنا دہشتگردی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہوگا،  آزادی حاصل کئے ہوئے 75 برس سے بھی زیادہ وقت ہوگیا ہے لیکن افسوس حکمرانوں نے اپنی روش نہیں بدلی اور بدستور پنجابی زبان کے ساتھ زیادتیاں جاری ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ماں بولی زبان کو سکولوں میں پرائمری کی سطح پر لازمی قرار دیا جاتا لیکن حکومت تو اس کو یونیورسٹی کی سطح پر سے بھی ختم کررہی ہے۔ پروفیسر (ر) طارق جٹالہ نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرگودھا یونیورسٹی سے پنجابی ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے ورنہ احتجاج کا سلسلہ پنجاب بھر میں شروع کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ  پنجابی اولیا اللہ کی زبان ہے جس کو ختم کرنے کی ایک منظم سازش کی جارہی ہے ، ہم اس سازش کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ احتجاجی مظاہرے میں معروف پنجابی شاعر بابا نجمی،جمیل پال ،حسین مجروح،محمد زبیر،شہزاد عامر ،سیعد بھٹہ ،اقبال قیصر ،بابر جالندھری ، غزالہ نظام الدین سمیت درجنوں افراد نے شرکت کی۔

مزید : لاہور