10 سالہ بچی کے پیٹ میں اچانک درد، والدین ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے ایسی شرمناک ترین وجہ بتادی کہ گھر کے ہر شخص کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا کہ۔۔۔

10 سالہ بچی کے پیٹ میں اچانک درد، والدین ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے ایسی ...

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست پنجاب کے شہر سے تعلق رکھنے والی ایک کمسن لڑکی کو اس کے اپنے ماموں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنا ڈالا جس کے نتیجے میں بچی حاملہ ہوگئی۔ اس لرزہ خیز واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب حقائق کا انکشاف ہوا تو بچی پانچ ماہ سے زائد کی حاملہ تھی اور بھارتی قانون کے مطابق حمل کی مدت پانچ ماہ سے زائد ہونے کی صورت میں اسقاط حمل نہیں کروایا جاسکتا۔ بچی کے والدین اس بات پر بے حد پریشان تھے کہ اس کی عمر محض 10 سال ہے اور ڈاکٹروں کا بھی کہنا تھا کہ بچے کو جنم دینا اس کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں انسانی حقوق کے اداروں، وکلاءاور ڈاکٹروں کی جانب سے ایک مہم چلائی جارہی تھی کہ اس بدقسمت بچی کو اسقاط حمل کی اجازت دی جائے، اور اب عدالت نے اس بات کی اجازت دے دی ہے کہ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بچی کا معائنہ کرے اور بتائے کہ اس کیلئے اسقاط حمل بہتر ہے یا حمل کی مدت مکمل کرکے آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کا فیصلہ کیا جائے۔

خاتون کو شوہر پر شک، پیچھا کرتے کرتے ہوٹل کے کمرے میں جاپہنچی تو ایک اور لڑکی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑلیا، پھر بیگم نے اس ہوٹل کے کمرے میں کیا کیا؟ انتہائی شرمناک تصاویر سامنے آگئیں، پورا انٹرنیٹ خوف میں ڈوب گیا

ورلڈ وائرڈ ویئرڈ نیوز کی رپورٹ کے مطابق بچی کی عصمت دری کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب اس نے اپنے پیٹ میں ہونے والے شدید درد کے بارے میں ا پنی والدہ کو آگاہ کیا۔ والدہ اسے معائنے کیلئے ہسپتال لے گئیں تو پتہ چلا کہ وہ پانچ ماہ سے زائد کی حاملہ تھی۔ اس سے پہلے چندی گڑھ کی عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ پانچ ماہ سے زائد حمل کی صورت میں اسقاط حمل کروانا قانون کے خلاف ہے، تاہم کچھ ڈاکٹروں نے رائے دی تھی کہ حمل کو جاری رکھنا بچی کی صحت کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔ بدقسمت والدین نے چندی گڑھ کی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کیلئے بھارتی سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے پوسٹ گریجوایٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایویڈنس اینڈ ریسرچ کو حکم دیا ہے کہ وہ بچی کے معائنے کیلئے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بنائے۔ا س ٹیم کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ بچی کو اسقاط حمل کی اجازت دی جائے یا دوسری صورت میں حمل کی مدت مکمل ہونے پر آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش ہو۔

مزید : ڈیلی بائیٹس