مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسلامی کو ’’کتاب‘‘میں بند کرنے کی کوشش

مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسلامی کو ’’کتاب‘‘میں بند کرنے کی کوشش
مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسلامی کو ’’کتاب‘‘میں بند کرنے کی کوشش

  

پاکستان کی سیاست اس وقت عجب تبدیلی کی موڈ میں نظر آتی ہے،تمام جماعتیں اس وقت پانامہ کیس کے’’محفوظ‘‘فیصلے کے انتظار میں ہیں کہ کب اس کا گھونگھٹ اٹھایا جاتا ہے،اپوزیشن ہویا حکومت دونوں اپنے آئند لائحہ عمل اسی فیصلہ کی صورت میں مرتب کرینگی،آئندہ انتخابات کیلئے اپنے منصوبے بے نقاب کریں گی۔

سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتیں بھی ان حالات پر نظر رکھے ہوئی ہیں،جے یو آئی (ف)ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے کوشاں ہے جسے اندازہ ہوچکا ہے کہ اتحاد کے بغیر اس کی اہمیت ویسی نہیں جیسی مجلس عمل میں رہتے ہوئے تھی،خیال کیا جاتا ہے کہ اس اتحاد کا نقصان بھی اسی جے یو آئی (ف)کے رویے کی وجہ سے ہوا ہے،اس اتحاد کو باقاعدہ ختم نہیں کیا گیا تھا بلکہ غیر فعال ہوگیا تھا،شایداس اتحاد میں شامل بڑی جماعتیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی (ف )کی انائیں اس کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار بھی ہیں۔

ایک بار پھر جے یو آئی (ف)کے جنرل سیکرٹری اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے ان کو اتحاد کیلئے قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،گزشتہ روز انہوں نے سینیٹر ساجد میر اور پیر اعجاز ہاشمی سے ملاقات کی ،جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ساجد میر جو ہمیشہ مسلم لیگ ن کے حلیف رہے ہیں اس اتحاد کی بحالی پر متفق ہوگئے ہیں جبکہ جے یو پی کے اعجاز ہاشمی نے کڑی شرط رکھ دی ہے کہ جے یو آئی(ف)وفاق اور جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ حکومت سے الگ ہوکر متحدہ مجلس عمل کی فعالیت کی بات کریں تو پھر ہم سوچ سکتے ہیں۔

میرے خیال میں حکومتوں کے ساتھ شامل دونوں جماعتوں کیلئے یہ شرط کڑوی گولی نگلنے کے مترادف ہے،جے یو آئی(ف)جس نے ہرحکومت میں رہ کر مزے لوٹے ہیں ابھی نواز شریف کو نہیں چھوڑے گی اور جماعت اسلامی کے پاس یہ وقت پھل اکٹھے کرنے کا ہے نہ کہ پکی پکائی فصل کو تباہ کرنے کا۔جماعت اسلامی بھی یہ مطالبہ نہیں مانے گی،اس طرح فی الحال مجلس عمل کی بحالی یا فعالیت کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

اگر بغو ر جائزہ لیا جائے تو اس وقت جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی ایک جیسی سیاسی صورتحال کا شکار ہیں۔ اگر پہلے جے یو آئی (ف) کا جائزہ لیا جائے تو جے یو آئی (ف) کے لیے دو صوبوں کے پی کے اور بلوچستان کی سیاست سب سے اہم ہے۔ وہ انھی دو صوبوں میں حکومت بنانے کی خواہاں ہے۔ اور یہی دو صوبے اس کی پہلی ترجیح ہیں۔ اس وقت جے یو آئی کوایسے اتحادیوں کی تلاش ہے جو ان دو صوبوں میں اس کی مدد گار ثابت ہو سکیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کے جے یو آئی (ف) کے پاس ان دو صوبوں میں ووٹ بینک ہے۔ کیا کسی سیکولر اور سیاسی جماعت سے اتحاد کی صورت میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ووٹ بینک کو استعمال کر سکیں گی۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسی لیے سیاسی تجزیہ نگارمسلم لیگ ن لیگ اور جے یو آئی کے اتحاد کی جیت کی پیشن گوئی نہیں کر رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی اس سیاسی شو میں شرکت نہ کرنا بھی ایک پیغام ہے کہ ابھی کچھ طے نہیں ہے۔ جب کہ دوسری طرف جماعت اسلامی اور جے یو آئی ماضی میں مل کر جیت چکے ہیں۔ اور جب سے دونوں جماعتیں الگ ہوئی ہیں۔ جیت بھی ان سے دور ہو گئی ہے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی بھی شدید شش و پنج کا شکار ہے۔ ایک تو تحریک انصاف کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ انتخابات کے موقع پر کوئی سیاسی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کرے گی یا نہیں، دوسرا جماعت اسلامی اور تحریک انصا ف کے ووٹ بینک کو بھی وہی مشکل ہے جو جے یو آئی اور ن لیگ میں ہے۔ دینی اور سیکولر کا معاملہ۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

جماعت اسلامی کے ن لیگ سے دروازے اسی طرح بند ہیں جیسے مولانا فضل الرحمٰن کے تحریک انصاف سے بند ہیں۔ لیکن اگر عمران خان جماعت اسلامی سے ملک بھر میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا عندیہ دے دیں تو یہ جماعت اسلامی کی پہلی ترجیح ہو سکتا ہے جیسے اگر میاں نواز شریف مولانا فضل الرحمٰن کو یہ عندیہ دے دیں تو یہ مولانا کی پہلی ترجیح ہو گا۔ لیکن نہ تو میاں نواز شریف جے یو آئی کو اور نہ ہی عمران خان جماعت اسلامی کو آیندہ انتخابات کے لیے کوئی یقین دہانی دے رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کیلئے ایک اور بڑی مشکل اس کے اپنے کارکن ہیں جو جے یو آئی کے سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے اس جماعت کے ہوتے ہوئے اس اتحاد کے مخالف ہیں،چونکہ امیر جماعت اسلامی نے جے یو آئی کے اجتماع میں مجلس عمل کی بحالی کا اختیار مولانا فضل الرحمان کو دیا تھا اور اس بیان کا کارکنوں کی طرف سے ردعمل کا بھی سامنا رہا۔

یہ دونوں جماعتیں مجلس عمل کا روح رواں رہی ہیں، اپنے اپنے اتحادیوں کے حو الہ سے ایک جیسی صورتحا ل کا شکار ہیں،موجودہ صورتحال میں دونوں کی ایک دوسرے سے اتحاد ہی میں عافیت ہے، اسی سے دونوں کی سیاسی گیم بن سکتی ہے۔ لیکن یہ اتحاد بطاہر جتنا سادہ نظر آتا ہے۔ اس میں مسائل بھی بہت ہیں۔ جماعت اسلامی ماضی کے تجربات کی روشنی میں چھوٹا اتحادی بننے کے لیے تیار نہیں او ر جے یو آئی برابر رکھنے کو تیار نہیں،جماعت اسلامی نے علیحدہ ہوکر جو پہچان بنائی ہے وہ اتحاد میں رہ کر پھر سے کھو دے گی،میرا ذاتی خیال ہے کہ اپنی سیاسی وقعت کو ’’ترازو‘‘سے ہی تولے تو اس کیلئے بہتر ہوگا،کتاب کا باب بند ہوچکا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ