ترقی یافتہ ممالک میں انسان ختم ہونے جا رہے ہیں؟؟؟برطانوی جنرل نے نئی بحث چھیڑ دی ۔

ترقی یافتہ ممالک میں انسان ختم ہونے جا رہے ہیں؟؟؟برطانوی جنرل نے نئی بحث ...
ترقی یافتہ ممالک میں انسان ختم ہونے جا رہے ہیں؟؟؟برطانوی جنرل نے نئی بحث چھیڑ دی ۔

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا میں انسان ختم ہونے جا رہے ہیں ؟؟؟ہیومن رپروڈکشن اپ ڈیٹ نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق نے نئی بحث چھیڑ دی جس میں ماہرین نے کہا ہے کہ شمالی امریکہ ،یورپ ،نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مردوں میں سپرم کی تعداد میں واضح کمی آرہی ہے۔اور اگر یہ سلسہ ایسا ہی جاری رہا تو انسان کی بقاءکو بہت خطرہ ہے۔

ریسرچ کرنے والے ماہرین نے یہ رپورٹ 200الگ ،الگ کی جانی والی تحقیقات سے اخذ کی ہیں ،جس کے مطابق دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک میں آئندہ آنے والے چالیس سالوں میں مرد کے اندر سپرم کی تعداد، آج کی تعداد سے بھی آدھی رہ جائے گی۔ریسرچ کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ہاگائی لیون نے کا کہنا تھا کہ وہ انسان کے مستقبل کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں۔

بکری کا دودھ پینے والوں کو ثواب توملے گا ،غذائی اعتبار سے بچوں بوڑھوں اور جوانوں کے لئے اس سے بہتر اور کوئی دودھ بھی نہیں ہے،حیران کن انکشافات

ڈاکٹر ہاگائی لیون وبائی امراض کے ماہر ہیں انہوں نے یہ تحقیق 1973سے لے کر 2011کے دوران ہونے والی 185مطالعوں سے لگائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسان کے رہن سہن کا موجودہ طریقہ،ماحولیاتی تبدیلی ،اور کیمیکلز کا استعمال اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔اس ریسرچ کو مزید تقویت اس وقت ملتی ہے جب یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر لیون نے یورپ، شمالی امریکہ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے مردوں کے سپرمز کی کل تعداد میں 59 اعشاریہ تین فیصد کمی دیکھی،اس کے برعکس غیر ترقی یافتہ ممالک میں سپرم میں کوئی خاص کمی نظر نہیں آئی۔کچھ ریسرچر جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے ان کا کہنا ہے کہ یہ ریسرچ تو اچھی ہے مگر جن لوگوں کے نمونے اس ریسرچ میں لیئے گئے ہیں وہ جسمانی طور پر یا تو صحت مند نہیں تھے ،یا اپنا جنسی علاج کروا رہے تھے ۔ شیفیلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن پاسے کے مطابق اس ریسرچ کو بہت احتیاط سے دیکھنا چاہیے،تحقیق کرنے والے لوگ تیزی سے کم ہوتے ہوئے سپرمز کی تعدا د کی وجہ کو بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں ،حالانکہ انہوں نے اس رپورٹ میں انسان کی خوراک ،رہن سہن کاانداز،کیمکلز اور ماحولیاتی تبدیلی کواس بات کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔

مزید : تعلیم و صحت