لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جج سے بدتمیزی ،لارجر بنچ تشکیل،وکلاءکو شوکازنوٹس جاری ، ملتان بنچ اور رجسٹری بھی کھول دی گئی

لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جج سے بدتمیزی ،لارجر بنچ تشکیل،وکلاءکو ...
لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ کے جج سے بدتمیزی ،لارجر بنچ تشکیل،وکلاءکو شوکازنوٹس جاری ، ملتان بنچ اور رجسٹری بھی کھول دی گئی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سیدمنصور علی شاہ نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں سینئر جج کے ساتھ بدتمیزی کے واقعہ پر متعلقہ وکلاءکے خلاف کارروائی کے لئے اپنی سربراہی میں5رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا ہے ۔

عمران خان سیاسی گدھ ہیں، کسی اور کے شکار سے اقتدار کی بھوک نہیں مٹے گی: خواجہ آصف

چیف جسٹس سید منصور عل شاہ ،مسٹر جسٹس محمد انوارالحق، مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، مسٹر جسٹس محمد امیر بھٹی اور مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا پرمشتمل اس فل بنچ نے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی اور قیصر عباس کاظمی ایڈووکیٹ کو توہین عدالت کے تحت شوکازنوٹس جاری کردیئے ہیں ۔فاضل بنچ نے ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز کے تحت ان وکلاءکی وکالت کے لائسنسوں کی معطلی اور منسوخی کے لئے بھی انہیں اظہار وجوہ کے نوٹس بھیج دیئے ہیں ۔فاضل بنچ نے شیر زمان قریشی اور قیصر عباس کاظمی کو31 جولائی کو ذاتی طور پرپیش ہونے کا حکم بھی دیا ہے۔ پیر31جولائی سے فل بنچ باقاعدہ سماعت شروع کرے گا اورتوہین عدالت کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ رولز اینڈ آرڈرز کے تحت وکالت کی معطلی اورلائسنسوں منسوخی کے معاملہ پر مزید کارروائی کرے گا۔سائلین اور عوامی سہولت کے پیش نظر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ رجسٹری27جولائی سے کام شروع کرے گی جبکہ ملتان بنچ پر مقدمات کی باقاعدہ سماعت پہلے سے جاری کردہ روسٹر کے مطابق 31جولائی سے شروع ہو جائے گی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی اور ان کے ساتھی وکلاءکی جانب سے 3 روز قبل بغیر کسی وجہ کے سینئر جج مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، کمرہ عدالت کے باہر لگی ان کے نام کی تختی کو اکھاڑکر نیچے پھینکا اور پاﺅں تلے روندا اور بعد ازاں بلا جواز ہڑتال کردی گئی۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے واقعہ پر فوری نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سید خورشید انور رضوی سے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی اورملتان بنچ پر تعینات فاضل جج صاحبان کو لاہور ہائی کورٹ لاہور پرنسپل سیٹ پر واپس بلا لیا تھاتاہم شہریوں کی سہولت کے لئے پرنسپل سیٹ لاہوراور بہاولپور بنچ پر ملتان بنچ سے متعلقہ مقدمات کی دائری اور سماعت جاری رہی۔ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمینوں کو بھی واقعہ کی اطلاع کی گئی تاکہ وہ اس پر اپنا لائحہ عمل تیار کریں اور واقعہ میں ملوث وکلاءکے خلاف فوری ایکشن لیں۔ مزید برآں فاضل چیف جسٹس کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج صاحبان مسٹر جسٹس محمد یاور علی اور مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی تاہم ملتان بنچ کے وکلاءکی جانب سے معاملے کے حل کےلئے کمیٹی سے رابطہ نہیں کیا گیا۔ رجسٹرار سید خورشید انور رضوی کی جانب سے مذکورہ واقعہ کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے فاضل چیف جسٹس نے فل بنچ تشکیل دیاجس نے مذکورہ کارروائی کے بعد مزید سماعت31جولائی پر ملتوی کردی ہے ۔

مزید : لاہور