ہائیکورٹ نے پولیس آرڈر 2002ءکے تحت پبلک سیفٹی کمیشنزبنانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دے دی

ہائیکورٹ نے پولیس آرڈر 2002ءکے تحت پبلک سیفٹی کمیشنزبنانے کے لئے ایک ماہ کی ...
ہائیکورٹ نے پولیس آرڈر 2002ءکے تحت پبلک سیفٹی کمیشنزبنانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دے دی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب حکومت کو پولیس آرڈر 2002ءکے تحت پبلک سیفٹی کمیشنزبنانے کے لئے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عمران خان سیاسی گدھ ہیں، کسی اور کے شکار سے اقتدار کی بھوک نہیں مٹے گی: خواجہ آصف

درخواست گزار کے وکیل سعد رسول نے موقف اختیار کیا کہ نیشنل پولیس سیفٹی کمیشن کے غیر فعال ہونے کے باوجود عارف نوازکو مستقل آئی جی کے عہدے پرتعینات کر دی گیاہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس آرڈر کے تحت آئی جی پنجاب کی تعیناتی سے قبل نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کی سفارشات ضروری ہیں۔عدالتی معاون عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ تین سال کی مدت ملازمت والے پولیس افسر کو آئی جی لگانے سے سینئر نظر انداز ہوجائیں گے اور سینئر کی جگہ جونیئرپولیس افسر آئی جی پولیس بن جائے گا، پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ مستقل آئی جی کی حیثیت سے کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کا تقرر کر دیا ہے۔چیف جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ پبلک سیفٹی کمیشنز کب تک بنائیں گے جس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے بتایا کہ اس کی تشکیل میں ابھی کچھ وقت درکار ہے ،اس لئے مہلت دی جائے جس پر عدالت نے پبلک سیفٹی کمیشن کی تشکیل کے لئے وقت دیتے ہوئے مزیدسماعت ملتوی کرتے ہوئے آئندہ تاریخ پیشی پرعمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے ۔

مزید : لاہور