ہم الزامات لگاتے ہیں نہ ہی فیصلہ سناتے ہیں، یہ کام سپریم کورٹ کا ہے اسے ہی کرنے دیں: کامران خان

ہم الزامات لگاتے ہیں نہ ہی فیصلہ سناتے ہیں، یہ کام سپریم کورٹ کا ہے اسے ہی ...
ہم الزامات لگاتے ہیں نہ ہی فیصلہ سناتے ہیں، یہ کام سپریم کورٹ کا ہے اسے ہی کرنے دیں: کامران خان

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف تحقیقاتی صحافی کامران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں عمران خان اور میاں محمد نواز شریف کے خلاف یکساں کیسز چل رہے ہیں ، ہم یہ نہیں کہتے کہ عمران خان کی منی ٹریل زیادہ صحت مند ہے یا وزیر اعظم کی منی ٹریل بہت ہی کشیدہ ہے ہم نے یہ بھی نہیں کہا کہ وزیر اعظم کی منی ٹریل زیادہ مضبوط ہے اور عمران خان کی منی ٹریل دلبرداشتہ کرنے والی ہے ہم تو صحافی ہیں ہم بس الزامات کا جائزہ لیتے ہیں فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرنا ہے اور یہ ہمار ا کام کسی بھی صورت میں نہیں ہے۔میری دعا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں وزیر اعظم پاکستان اور عمران خان دونوں کو صادق و امین قرار دے کیوں کہ ان دونوں کی نا اہلی سے میں دکھی ہوں گا اور میرا دل ڈوب جائے گا 

حکومت سے مذاکرات کامیاب، آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا ہڑتال ختم کرنے کا اعلان، شام 4 بجے تیل کی ترسیل شروع ہوجائے گی: یوسف شاہوانی

معروف تحقیقاتی صحافی اور اینکر پرسن کامران خان نے  اپنے پروگرام میں کہا  کہ پاکستان تحریک تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مجھ پر  الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے  کہ ایک صحافی جس کے نام کے آخر میں خان آتا ہے اور اس کا  دوسرا نام میں نہیں بتاﺅں گا  ۔ مگرخان صاحب کو بتا دیتا ہوں میرے نام کا پہلا حصہ کامران ہے۔ عمران خان اور وزیر اعظم پاکستان دونوں کے مقدمات یکساں ہیں ۔ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم سے13سوالات پوچھے ہیں جبکہ عمران خان سے 14سوالات کے جوابات معزز عدالت کو چاہیں۔ دونوں رہنماﺅں کوآئین کے آرٹیکل62اور63کے تحت نا اہلی کا سامنا ہے میری دعا ہے کہ وزیر اعظم نا اہل نہ ہوں کیوں کہ وہ 3بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں اور اب4سال سے وہ اقتدار میں ہیں اگر وزیر اعظم نااہل ہو جاتے ہیں تو اس قوم کا کیا بنے گا جس نے انہیں 3بار منتخب کیا ہے اور میری یہ بھی دعا ہے کہ عمران خان بھی نا اہل نہ ہوں کیوں کہ انہوں نے بھی ملک کا نام روشن کیا ہے انہوں نے اس قوم کو شوکت خانم دیا ہے۔میں اس سے قطعا خوش نہیں ہوں گا کہ عمران خان اور نواز شریف نااہل ہوں میری خواہش ہے کہ عدالت دونوں رہنماﺅں کو صادق اور امین قرار دے دے۔ لیکن یہاں ایک بات اور بھی ہے کہ جب تک وزیر اعظم کے حوالے سے کیس نہیں تھا تو وہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا پر آئین کے آرٹیکل 62اور63کی ڈٹ کر مخالفت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ایم کیو ایم اور مشرف نے یہ آرٹیکلز بنائے ہیں اور اگر یہ آرٹیکل لاگو ہو جائے تو پارلیمنٹ میں صرف فرشتوں کو ہی بٹھایا جا سکتا ہے۔

عمران خان اور وزیر اعظم پر لگنے والے الزامات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کامران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پر آفشور کمپنیز نیلسن اور نیسکول کا الزام تھا اب نیازی سروسز بھی سامنے آگئی ہے۔ وزیر اعظم نے مریم نواز کو تحائف دئیے یا حسین نواز نے وزیر اعظم کو تحائف دئیے تو دوسری جانب عمران خان کو جمائمہ سے تحائف ملے ، اسی طرح لندن میں وزیر اعظم کے فلیٹس ہیں تو عمران خان کا فلیٹ بھی لندن میں ہے ، جس بینک سے وزیر اعظم نے ٹرانزیکشن کی ہے وہ بند ہو گیا ہے مگر خان صاحب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے جس بینک سے ٹرانزیکشن کی وہ بھی بند ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چند صحافیوں اور میڈیا ہاﺅسز پر الزامات عائد کئے تھے جن کے جواب میں کامران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان جس سے محبت کرتے ہیں تو اسے ٹوٹ کر چاہتے ہیں جبکہ جس سے نفرت کرتے ہیں تو وہ بھی غضب کی کرتے ہیں ۔ میرے صحافتی کیرئر میں خان صاحب سے اچھے تعلقات رہے ہیں جبکہ ہمارے تعلقات کشیدہ بھی رہے ہیں۔ بہرحال فیصلہ عدالت میں ہے اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے اگر عدالت عالیہ وزیر اعظم اور عمران خان کے خلاف فیصلہ دے تو میرا دل ڈوب جائے گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں