پاناما کیس کا فیصلہ آنے میں تاخیر کا امکان ، تین جج صاحبان میں سے ایک بیرون ملک اور دوسرے لاہور رجسٹری میں سماعت کیلئے روانہ ہوجائیں گے

پاناما کیس کا فیصلہ آنے میں تاخیر کا امکان ، تین جج صاحبان میں سے ایک بیرون ...
پاناما کیس کا فیصلہ آنے میں تاخیر کا امکان ، تین جج صاحبان میں سے ایک بیرون ملک اور دوسرے لاہور رجسٹری میں سماعت کیلئے روانہ ہوجائیں گے

  

کراچی (ویب ڈیسک) پاناما کیس کے حوالے سے توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ سپریم کورٹ جمعہ تک اپنے فیصلے کا اعلان کردے گی تاہم اگر رواں ہفتے ایسا نہ ہوسکا تو محفوظ فیصلہ سامنے آنے میں کافی تاخیر بھی ہوسکتی ہے کیونکہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے ایک، اگلے ہفتے بیرون ملک کے دورے پر جارہے ہیں اور دوسرے جج، سپریم کورٹ کی لاہور بنچ کے رکن بن رہے ہیں۔ اس طرح پاناما کیس کی سماعت کرنے والا بنچ ٹوٹ جائے گا چنانچہ اگر اس ہفتے فیصلہ نہیں سنایا گیا تومعاملہ التوا کا شکار ہوسکتا ہے جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں سمیت حکومتی جماعت اور پس پردہ قوتوں میں بعض معاملات طے ہورہے ہیں۔

روزنامہ امت کے مطابق لاہور میں دہشتگردی کے واقعے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ نظر آرہا ہے، جس نے پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل کا فائدہ اٹھاکر دہشتگردی کی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ اسے پاک چین اقتصادی راہداری کا شدید صدمہ ہے۔ بھارت نے چین کی سرحدوں میں داخل ہوکر اسے بھی الجھانے کی کوشش کی ہے لیکن اسے بیجنگ کی جانب سے نہایت سخت وارننگ دی گئی ہے۔ اب اگر بھارت نے پاکستان میں عدم استحکام کی صورت پیدا کرنے کی کوشش کی تو یہاں اسے پاکستان کے ساتھ چین سے بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔ادھر پاناما کیس میں وزیراعظم کی ممکنہ نااہلی کے حوالے سے مسلم لیگ ن میں بہت سی لابیاں سرگرم ہوگئی تھیں۔ کچھ خواجہ آصف کا نام لیتے تھے، کوئی شاہد خاقان عباسی کا اور کسی کے نزدیک احسن اقبال زیادہ موزوں تھے تو کوئی ایاز صادق کا نام لے رہا تھا جبکہ کچھ لوگ خرم دستگیر کے سر پر وزارت عظمیٰ کا ہما بٹھارہے تھے یہاں تک کہ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب تک کو متبادل وزیراعظم قرار دیا گیا لیکن کسی نے چوہدری نثار کا نام بھولے سے بھی نہیں لیا۔ خواجہ آصف کا نام اس لئے بھی اہم رہا کہ وزیراعظم نے سیالکوٹ جاکر ان کے حلقے میں تقریری کی اور خواجہ آصف کی صلاحیتوں کی تعریف کی تاہم وزیراعظم کی جانب سے اب تک استعفے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا ہے کہ ان کی جگہ کسی متبادل کا نام پیش کیا جائے۔

مزید : قومی