پاکستانی عوام غور کریں

پاکستانی عوام غور کریں
پاکستانی عوام غور کریں

  


تمام پاکستانی عوام کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا معاشرتی ڈھانچہ ابھی اس مقام تک نہیں پہنچا، جہاں جمہوریت معاشرے کے ہر طبقے کے لئے ایک سیاسی ضرورت بن جاتی ہے، اِس لئے اہل قلم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جمہوری نظام حکمرانی کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔

عوام کو سمجھائیں کہ سیاسی نظام میں آزادئ اظہار اور ضمیر کی آزادی کے علاوہ ریاستی منصوبہ بندی میں بھی عوام کی شراکت داری ہونی ہے،مگر اہل دانش و قلم خود فکری ابہام میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نظام حکمرانی اور جمہوری اقدار کے بارے میں واضح نہیں ہیں۔ اہلِ قلم بذاتِ خود مختلف نظریات کے حامل لوگوں کے سپورٹر ہیں۔ دوسری طرف سیاسی جماعتیں بھی عوام کو متحرک و موبلائز کرنے کی بجائے سیاسی طاقت کا بے جا استعمال کر کے جمہوریت کی رسوائی کا سبب بن رہی ہیں،اِس بات پر توجہ دینے پر کوئی حلقہ آمادہ نہیں کہ یہ جمہوری نظام حکمرانی ہے، جس نے آزادی، مساوات اور اخوت جیسے اعلیٰ تصورات کی آبیاری کی ہے، اختلاف رائے کو قبولیت بخش کر فکر اور روشن خیالی کی راہ ہموار کی ہے۔آج جمہوریت محض سرمایہ دار طبقے کی نہیں،بلکہ معاشرے کے غریب، مفلوک الحال اور محروم طبقات کے بنیادی حقوق کی بھی ضامن ہے۔ اگر کہیںیہ نظام صحیح ڈیلیور نہیں کر رہا تو یہ جمہوریت یا جمہوری عمل کا نقص نہیں،بلکہ اس معاشرے کے اندر موجود سقم اور پائے جانے والے تضادات ہیں،جن کی وجہ سے جمہوری نظام کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ان میں پاکستانی حکمرانوں کی ذاتی خواہشات کا عمل دخل بھی ہے۔

دوسرا قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ ایک سوشل انجینئر کا کام کسی مخصوص جماعت کی حمایت اور دیگر جماعتوں کی مخالفت نہیں ہوتا،بلکہ اسے پورے سیاسی و سماجی ڈھانچے کا وسیع بنیادوں پر مطالعہ کرتے ہوئے اپنے مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں تجاویز مرتب کرنا ہوتا ہے۔

تجزیہ نگار بھی اپنے کام کے اعتبار سے سوشل سائنٹیسٹ ہی ہوتا ہے،کیونکہ وہ سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیتے ہوئے حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کے سیاسی منشور اور اقدامات کے کچھ حصوں کی توصیف، جبکہ کچھ پر تنقید کرتا ہے، اِس مقصد کے لئے اِس میں سیاسی و سماجی شعور و آگہی کے علاوہ باریک بینی کی بھی اہلیت ہوتی ہے،مگر ساتھ ہی ایک حقیقت پسندانہ جائزے کی خاطر اس کا غیر جانبدار ہونا بھی انتہائی ضروری ہوتا ہے، اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں جاری نظام حکمرانی اپنے اندر اَن گنت کمزوریاں، خامیاں اور خرابیاں رکھتا ہے۔یہ ایک قسم کا اشرافیائی نظام ہے جو اپنی سرشت میں انتہائی فرسودہ اور عوام دشمن ہے،مگر سوال یہ ہے کہ اس کی درستگی کا طریقہ کار کیا ہو، کیا اس نظام کو ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی جائے؟ان سوالات کا پاکستان کی مختصر تاریخ کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وطنِ عزیز میں چار فوجی حکومتیں اِسی جواز کے ساتھ قائم ہوئیں کہ سویلین حکومتیں کرپٹ، بدعنوان اور نااہلِ ہیں،مگر طویل عرصے تک مُلک پر قابض رہنے والی فوجی حکومتیں نہ تو مُلک کو کرپشن سے پاک کر سکیں اور نہ ہی نظام حکمرانی میں کسی قسم کی بہتری لا سکیں،بلکہ مُلک کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں ایسی پیچیدگیاں اور اُلجھنیں پیدا کر گئیں جن کی وجہ سے آج پاکستان اَن گنت مسائل اور بحرانوں میں گھرا ہوا ہے،جن سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آ رہی، لہٰذا یہ طے ہے کہ بہترین فوجی حکومت بھی بدترین جمہوریت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

اب جہاں تک انقلاب کا تعلق ہے، اگر جدید دُنیا کی صرف دو مثالوں کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے، پہلا انقلاب فرانس میں نمودار ہوا۔ اِس انقلاب نے بے شک بعض نئے تصورات متعارف کروائے، لیکن ساتھ ہی نپولین کی شخصی آمریت ورثے میں ملی، جس نے انقلاب کے مقصد کو بُری طرح متاثر کیا۔

دوسری مثال اکتوبر1917ء کا سوویت یونین کا انقلاب ہے ،اِس انقلاب نے محنت کشوں سمیت معاشرے کے محروم طبقات کے اقتدار میں آنے کے تصورات کو اُجاگر کیا تھا، مگر اسٹالن کی آمریت کے نتیجے میں کمیونسٹ پارٹی اور بیورو کریسی کی اقتداراعلیٰ پر بالادستی نے اِس تصور کو بہت زیادہ مجروح کیا۔

یوں سوویت یونین عوامی انقلاب کے فوائد سے محروم ہو گیا، لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہر انقلاب کے بعد ایک ایسی آمریت مسلط ہو جاتی ہے جو جبر و ظلم کی نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔

تاریخ اور جدیدسیاست کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ابھی تک جمہوریت کا متبادل نظام سامنے نہیں آ سکا، اِس لئے آج کی دُنیا میں جمہوریت وہ واحد نظام حکمرانی ہے، جو عوام کو فیصلہ سازی کا حق دیتا ہے، جہاں تمام قومی نوعیت کے فیصلے صرف پارلیمینٹ میں ہوتے ہیں، اِس لئے یہ اہل قلم اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈالیں کہ تمام فیصلے پارلیمینٹ میں کئے جائیں،لیکن وہ فیصلے مُلک اور عوام کی بہبود کی خاطر کئے جائیں، وہ حکمرانوں کے مفادات کے تحفظ یا حقوقِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لئے نہ ہوں یا صرف حکومت کے ممبران کے مفادات کا تحفظ نہ کیا جائے، اس کے لئے جمہوریت کی بقا اور استحکام کے لئے جن فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ان میں تاخیر جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی ہے، اِس لئے ان اقدامات پر اولین توجہ دینا ضروری ہے۔

اول: انتخابی قوانین، طریقہ کار اور انتظام میں مناسب تبدیلیاں لائی جائیں۔ دوم: جمہوری عمل کو شراکتی بنانے اور عوام کو ترقیاتی منصوبہ سازی کا حصہ بنانے کے لئے پورے مُلک میں یکساں نظام حکومت فوری متعارف کرایا جائے۔

سوئم نظام کی شفافیت کے لئے اراکین پارلیمان کو طاقت کے بے جا استعمال سے روکنے کے لئے انہیں ذہنی طور پر احتساب اور جوابدہی پر آمادہ کیا جائے۔چوتھا اقتدار و اختیار میں مناسب فاصلے کے لئے قانون سازی کی جائے۔72 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ کون سا نظام حکمرانی ہمارے لئے مناسب ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی جمہوریت کے بارے میں بحث ہوتی ہے اور ابھی تک یہ طے نہیں ہو پا رہا کہ مُلک میں صدارتی نظام ہو یا پارلیمانی؟حالانکہ ہم نے ابھی تک پارلیمانی نظام کا صحیح طور پر تجربہ ہی نہیں کیا کہ اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کر سکیں۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ اِس مُلک میں موجود دو مضبوط عناصر، جاگیردارانہ نظام اور ناخواندگی کی موجودگی میں بھوک اور افلاس سے چھٹکارہ حاصل کرنا محض خواب و خیال ہی نظر آتا ہے،کیونکہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے زیر اثر ہماری پارلیمینٹ تعلیم اور ترقی کو پروان نہیں چڑھنے دے گی، کیونکہ اس سے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام پوری طاقت سے ترقی کر رہا ہے اور باقی عوام کو وقتی نعروں کے ذریعے ٹرخایا جا رہا ہے اور چند لوگوں کو ساتھ ملا کر تمام مُلک کے عوام کو کچلا جا رہا ہے ، صرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے۔

مزید : رائے /کالم


loading...