ہنرمند افرادی قوت کی کمی برآمدات پر اثر انداز ہو رہی ہے‘فرنیچرکونسل

ہنرمند افرادی قوت کی کمی برآمدات پر اثر انداز ہو رہی ہے‘فرنیچرکونسل

لاہور(کامرس رپورٹر) ہنرمند افرادی قوت کی شدید کمی فرنیچر اور فرنشنگ مصنوعات کی برآمدات پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے، آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کو اس شعبہ میں تقریباً 20 لاکھ ہنرمند ورکروں کی ضرورت ہوگی جس کی بنیادی وجہ خریداروں کی ترجیحات اور آرگنائزڈ فرنشنگ سروسز کی مارکیٹ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ ہے، حکومت فرنیچر کی صنعت کیلئے ورکرز کی ٹریننگ، ایکسپورٹ ری فنانس اور آسان قرضوں کی سکیموں کا اعلان کرے اور اسے کاٹیج انڈسٹری کا درجہ دیتے ہوئے فرنیچر انڈسٹری کیلئے بھی سپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات جیسی سہولیات اور رعائیتوں کا اعلان کیا جائے تو برآمدات کو 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جا سکتا ہے۔بدھ کو جاری ایک بیان میں پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ گجرات، گوجرہ، پشاور،چنیوٹ اور ملک بھر کے دیگر علاقوں میں پھیلی ہوئی غیر ہنرمند اور نیم ہنرمند افرادی قوت کو جدید فنی تربیت کی فراہمی اشد ضروری ہے اور اس کے بغیر فرنیچر کی برآمدات کا 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کی 5 کروڑ 90 لاکھ کی پوٹینشل ورک فورس کا 6 فیصد یعنی تقریباً 35 لاکھ بے روزگار ہیں اور بیروزگاروں میں سے 90 فیصد غیر ہنرمند ہیں جبکہ باقی دس فیصد تعلیم یافتہ تو ہیں مگر ان کے پاس کوئی ہنر یا تجربہ نہیں ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان میں فرنیچر کی صنعت تیزی سے ایک منظم شعبہ میں تبدیل ہو رہی ہے اور امید ہے کہ منظم روزگار کی شرح 2017 میں 5 فیصد سے بڑھ کر 2022 میں 13فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں تیزرفتار تبدیلی اور اس کے پھیلاؤ کی وجہ سے فرنیچر انڈسٹری کو ہنر مند ورکرز اور پروفیشنل ڈیزائنرز کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فرنیچر اور سپیس ڈیزائن میں ثقافت، تاریخ، ہنر، خوبصورتی، میٹیریل، تصور اور حسن جمال کا یکجا ہونا انتہائی ضروری ہے اس لئے ورکرز اور ڈیزائنرز کو جدید ٹیکنالوجی، مشینری کے استعمال اور خریداروں کے ذوق کو مد نظر رکھ کر کام کرنے کا فن سیکھنا ہو گا۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ ہم کم وقت میں مشینوں کی تعداد تو بڑھا سکتے ہیں لیکن ہمیں ہنرمند افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے اور پاکستان میں موجود ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹرز فرنیچر اور ڈیزائننگ انڈسٹری کی ضروریات پوری نہیں کرتے اس لئے افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے اربوں ڈالر کی برآمدات کے مواقع ضائع ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور اقتصادی منصوبہ بندی کے ذمہ داران کو چاہیئے کہ وہ فرنیچر اور اس سے وابستہ شعبہ جات کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے کورسز تیار کریں کہ جن کی مدد سے ضروری ہنرمند مند تیار کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فرنیچر اور ہینڈی کرافٹس کی صنعت میں ترقی کا بہت بڑا سکوپ ہے اس لئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیئے کہ اس طرف فوری توجہ دیتے ہوئے فرنیچر کی برآمدات بڑھانے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائے کیونکہ اس وقت بہت زیادہ پوٹینشل ہونے کے باوجود پاکستان کا اس میں حصہ انتہائی کم ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان فرنیچر کونسل اگر 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کر لے تو یہ ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی برآمدی صنعت بن سکتی ہے جس کی برآمدات 14 ارب ڈالر ہیں۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ حکومت فرنیچر کی صنعت کیلئے ورکرز کی ٹریننگ، ایکسپورٹ ری فنانس اور آسان قرضوں کی سکیموں کا اعلان کرے اور اسے کاٹیج انڈسٹری کا درجہ دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فرنیچر اندسٹری کیلئے بھی ان تمام سہولیات اور رعائیتوں کا اعلان کیا جائے جو سپورٹس گڈز اور سرجیکل آلات کو حاصل ہیں جبکہ کراچی، لاہور اور پشاور میں فرنیچر کے الگ ایکسپورٹ سنٹر بھی قائم کئے جائیں۔

مزید : کامرس


loading...