نواب رئیسانی کے خاندان کا المیہ!

نواب رئیسانی کے خاندان کا المیہ!
نواب رئیسانی کے خاندان کا المیہ!

  

بلوچستان ابھی تک قبائلی نظام کی گرفت میں ہے اور اس کے مضحمل ہونے کے آثار شروع ہو چکے ہیں، ایک دور تھا کہ قبائلی نظام کے سربراہان آزاد گھومتے تھے ، باڈی گارڈ نہ ہوتے تھے۔

نواب صاحبان اور سردار صاحبان جناح روڈ پر گھومتے نظر آتے تھے اور عام ہوٹلوں میں زندگی کے پُرسکون لمحات سے لطف اندوز ہوتے تھے ، نواب خیر بخش خان اپنی جیپ میں 303 رائفل رکھتے تھے اور قندھاری بازار میں ملک صادق کاسی شہید سے ایک میڈیکل سٹور میں ملاقات روز کا معمول تھا ۔نواب بگٹی جناح روڈ کے میڈیکل سٹور میں کافی سے لطف اندوز ہونے کے لئے روزانہ آتے یہ ان کا معمول تھا۔

عبدالصمد خان شہید جناح روڈ پر پیدل سرشام ٹہلتے تھے اور ریگل ہوٹل میں چائے پیتے تھے۔ نیپ کے قائدین اسی ہوٹل میں محفل جماتے۔

غوث بخش بزنجو گل خان نصیر اور دیگر زعماء ان کے ساتھ ہوتے،ملک صادق کاسی شہید شام ڈھلے کیفے بلدیہ میں محفل جماتے تھے، جبکہ ڈان ہوٹل تو سیاسی لیڈروں اور صحافیوں کی آماج گاہ تھی۔ کاسی قبیلے کے نواب شام ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے اپنی پیلی گاڑی میں میکانگی روڈ سے کینٹ جاتے نظر آتے۔

وئٹہ کے مختلف ہوٹلوں میں شہری لطف اندوز ہوتے کوئی نو گوایریا نہیں تھا نہ نفرتوں کے الاؤ تھے نہ فرقہ واریت تھی محرم کے جلوس محبتوں اور احترام کا حسین امتزاج ہوتے تھے، نفرتوں کی کوئی دیوار نہ تھی، تھڑوں پر محفلیں جمتی تھیں کوئی مسلح گروہ نہ تھے پولیس بھی مسلح نہیں تھی کوئی قتل ہوتا تو پورا شہر افسردہ ہو جاتا ۔

خدائیداد روڈ پر ایک گھڑی ساز قتل ہوا تو پورا شہر اداس تھا حالانکہ وہ نہ پشتون تھا نہ بلوچ تھا لیکن اس کا درد ہر ایک کو اپنا درد محسوس ہورہا تھا وہ شام بڑی اُداس تھی اس کی موت کا غم ہر ایک کو اپنا محسوس ہو رہا تھا ایک عام انسان کا قتل پورے شہر کو ہلاکر رکھ دیتا تھا۔

پھر اس دلکش اور سحر انگیز شہر کو کسی کی نظر لگ گئی کوئٹہ کا یہ نقشہ 1970ء سے پہلے کا تھا پھر سیاست کا دور شروع ہوا ایک جمہوری دور کا آغاز تھا تو اس کا آغاز سیاست دانوں کے قتل سے ہوا اس کا پہلا نشانہ ملک صادق کاسی بنا یوں یہ سحر انگیز اور پُرکشش شہر صادق کے خون سے سرخ ہونا شروع ہوا پھر یہ خون آلود دور رکا نہیں۔ دست قاتل گردش میں رہا اور انسانوں کی لاشیں گرنا شروع ہوئیں اور دست قاتل عام لوگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے لوگوں کی طرف مڑ گیا حاجی مراد کو دن دہاڑے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے جاتے ہوئے قتل کردیا گیا اس نے بلوچ معاشرے کو دہلاکر رکھ دیا اور بلوچ زعماء نے اجلاس بلا لیا کہ ایک عام آدمی کے قتل میں ایک معزز شخصیت کو کیوں قتل کیا گیا بلوچی جرگہ منعقد ہوا نواب بگٹی سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی بہت پریشان تھے یہ تو بلوچی روایات کے خلاف واقعہ ہواہے ایک معزز شخصیت کو بے گناہ قتل کیا گیا، جبکہ وہ اس میں ملوث نہیں تھا، صادق کاسی کا قتل بھی ایسا ہی تھا پھر 1973ء میں خان عبدالصمد خان کو قتل کیا گیا مولوی شمس الدین قتل ہوئے ۔

پھر اس کے منہ کو خون لگ گیا اور خفیہ ہاتھ تیزی سے گردش کرتا رہا اور گھروں کو اُجاڑتا رہا دست قاتل رکا نہیں مختلف چھوٹے چھوٹے واقعات نے بڑے لوگوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا۔ایک عام لوکل باڈیز کے الیکشن نے نواب غوث بخش رئیسانی کی زندگی کا چراغ گل کردیا،یوں ایک قتل مختلف قبائل کے درمیان خون ریز تصادم کا سبب بن گیانواب خیر بخش خان مری جب کابل سے لوٹے تو بغیر مسلح گارڈ کے کوئٹہ میں گھومتے تھے۔ پھر ایک اور تصادم ہوا، جس میں نواب بگٹی کا پوتا اور دو نواسے قبائلی تصادم کی بھینٹ چڑھ گئے۔

نواب رئیسانی کا بیٹا اسماعیل تصادم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔چاکر خان کے دوبیٹے مارے گئے۔ پھر ہم نے دیکھا دن دیہاڑے نواب بگٹی کے بیٹے کو جناح روڈ پر قتل کر دیا گیا ۔جسٹس نواز مری کو قتل کر دیا گیا نواب مری کا بیٹا پاک افغان بارڈر پر قتل ہوگیا یہ بالاچ مری تھا نواب بگٹی کا بہیمانہ قتل بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ باب تھا جس کو جنرل پرویز مشرف نے تحریر کیا اس کے بعد بلوچستان بے گناہ انسانوں کی قتل گاہ بن گیا اس قتل گاہ میں ریڑھی والا پکوڑے والا، دکاندار، ماسٹر، پروفیسر،ڈاکٹر، پولیس، اہلکار، صحافی جو سامنے آیا اس کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا اس کے بعد خود کش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوگیا یہ فاٹا آپریشن کا نتیجہ تھا۔

جنرل پرویز مشرف کا نیٹو کو افغانستان میں حملے کے لئے بلوچستان اور جیکب آباد ایئرپورٹ فراہم کرنا سبب بنا پھر بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا خون میں نہاگئے اور دوسرے شہر بھی اس کی زد میں آگئے پولیس ٹریننگ سکول پر حملہ ہوا وکلاء کو قتل کیا گیا یہ بلوچستان کا نقشہ ہے، جس کے ہم سب گواہ اور شاہد ہیں ، اب نواب غوث بخش رئیسانی کے بیٹے نواب زادہ سراج رئیسانی کو نشانہ بنایا گیااس حادثے میں 200 انسانوں کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا سراج رئیسانی کے ساتھ تو ایک گھر نہیں کئی گھروں کے چراغ گل ہوگئے ۔

عام اور غریب لوگ مارے گئے ان کی زندگی میں پہلے بھی خوشیاں نہیں تھیں سونا اُگلتی ہوئی زمین کے باسی محروم زندگی گزار رہے ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے سونا اگلتی ہوئی زمین کوبے دریغ لوٹا ہے اور ارب پتی بن گئے ہیں سراج رئیسانی کا بھی المیہ ہے پہلے جوان بیٹا حملے میں مارا گیا، اب اس دھماکے میں اُن کی زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے، رئیسانی خاندان سوگوار ہے۔

نواب ثناء اللہ بھی ایسے ہی حادثے کا شکار ہوئے ہیں بیٹا اور دیگر عزیز دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں اور اب بلوچستان کا کوئی بلوچ سردار اور نواب سرعام گھومنے پھرنے سے رہ گیا ہے، اب ان کا دائرہ زندگی بہت محدود ہوگیا ہے زندگی ہر لمحہ خطرے کے سائے میں نظر آرہی ہے نہ جانے وہ خوبصورت بلوچستان کہاں کھوگیا کیا یہ بلوچستان ماضی کے حسین لمحات کو دوبارہ سحر انگیز کر سکے گا۔

سراج رئیسانی ایک دلیر انسان تھے چودہ اگست کو پاکستان کا طویل سبز پرچم تھامے سریاب سے جناح روڈ تک لہراتا ہوا یادگا رہے گا اسے فوجی اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسے پاکستان کا سپاہی قرار دیا اور اس کے جنازے میں شریک ہوئے یہ اس کی پاکستان سے محبت کا خراج تھا،جو جنرل باجوہ نے اور اعلیٰ حکام نے دیا، لیکن سراج رئیسانی کا صدمہ اور زخم رئیسانی قبیلے کے لئے بڑا گہرا ہے اور فراموش نہ ہوسکے گا اور اس کے خاندان کے لئے بہت ہی گہرا ہے دُعا ہے کہ بلوچستان اس خون آلود دور سے نکل جائے اور محبت و آشتی کے دور میں لوٹ جائے۔

مزید :

رائے -کالم -