یہودی قومیت قانون نے فلسطین کا حل خطرے میں ڈال دیا،انڈونیشیا

یہودی قومیت قانون نے فلسطین کا حل خطرے میں ڈال دیا،انڈونیشیا

جکارتا (اے این این)انڈونیشیا کی حکومت نے اسرائیلی کنیسٹ(پارلیمنٹ) میں اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے متنازع قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کنیسٹ میں یہودی قومیت سے متعلق قانون کی منظوری نے تنازع فلسطین کا حل مزید مشکل اور خطرات سے دوچار کردیا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک متنازع آئینی بل کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت اسرائیل کو دنیا بھر کے یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر غیراعلانیہ طورپر ارض فلسطین میں فلسطینی قوم کے وجود سے انکارکیا گیا تھا۔ بل کی حمایت میں 62 اور مخالفت میں 55 ارکان نے ووٹ ڈالا۔ آئندہ ہفتے اس بل پردوسری اور تیسری رائے شماری ہوگی جس کے بعد اسے نافذ العمل کردیا جائے گا۔انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ ریٹنو لیٹزاری مارسوڈی نے یہودیت قومیت کے متنازع قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دینے کے قانون کے بعد تنازع فلسطین کا منصفانہ حل مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے صہیونی ریاست کو یہودیوں کے حق خود ارادیت کے ملک کے طورپر تسلیم کرکے فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت کے وجود کی نفی کی ہے۔

اس کے نتیجے میں فلسطین ۔ اسرائیل کشمکش ختم ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوجائے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا مشرقی بیت المقدس کو آزاد فلسطینی ریاست کے دارالحکومت قرار دینے کے مطالبے کا پرزور حامی اور فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کی مخالفت کرتا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...