پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت میں محمد میاں سو مرو وزیر اعظم بن سکتے ہیں

پی ٹی آئی کی مخلوط حکومت میں محمد میاں سو مرو وزیر اعظم بن سکتے ہیں

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اس وقت جب یہ سطور رقم کی جا رہی ہیں قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں ہے، بس اتنا معلوم ہے کہ80 کے قریب نشستوں پر تحریک انصاف آگے ہے اور 55 کے لگ بھگ نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کو سبقت حاصل ہے۔15سے 20فیصد پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ سامنے آیا ہے، چینل یہ نتیجہ کہاں سے لے رہے ہیں اپنے رپورٹروں سے، الیکشن کمیشن سے، یا پولنگ ایجنٹوں سے یہ معلوم نہیں چونکہ ایسی شکایات بھی ملی ہیں کہ پولنگ ایجنٹوں کو دھکے دے کر سٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا۔ اگر یہ سبقت بدستور موجود رہتی ہے تو بھی اتنا تو نظر آ رہا ہے کہ بھلے پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے لیکن اس کے پاس سادہ اکثریت نہیں ہو گی، ایسی صورت میں سیاسی منظر اس سے مختلف ہو گا جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ہے یا پی ٹی آئی سمجھی بیٹھی ہے، اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں تو ظاہر ہے عمران خان وزیر اعظم ہوں گے کیونکہ انہیں کسی دوسری جماعت کے تعاون کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو سادہ اکثریت نہ ملی تو ایسی صورت میں کیا ہو گا؟ کیا وہ دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنا پائیں گے اور کیا دوسری جماعتیں ان کے نام پر آسانی سے اتفاق کر لیں گی؟ یہ ایک مشکل سوال ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں عمران خان کو بعض سمجھوتے کرنے پڑیں گے اگر وہ اپنے ہائی پیڈسٹل سے نیچے اتر کر اس کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر اس امر کا امکان ہے کہ ان کی بجائے ان کی جماعت کے کسی رہنما کو وزیر اعظم بنانے پر اتفاق کر لیا جائے، لیکن یہ وزیر اعظم کون ہو گا اس کے بارے میں اندازے ہی لگائے جا سکتے ہیں کیونکہ تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد بہت سے دوسرے رہنما وزیر اعظم بننے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو یہ سطور لکھے جانے تک نتائج کے اعتبار سے کبھی آگے اور کبھی پیچھے ہوتے ہیں، ہمارے خیال میں ایسی صورت میں محمد میاں سومرو وزیر اعظم ہو سکتے ہیں جو جیکب آباد سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کی امید رکھتے ہیں وہ اپنے مدمقابل سے آگے ہیں تاہم شرط یہ ہے کہ وہ جیت جائیں اگر وہ جیت نہیں پاتے تو ظاہر ہے ایسی صورت میں یہ امکان تو ختم ہو جائے گا۔محمد میاں سومرو بنیادی طور پر ایک بینکر ہیں وہ بیرون ملک اپنا یہ پیشہ چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان آگئے تھے انہیں سندھ کا گورنر بنایا گیا بعدازاں وہ سینیٹر منتخب ہوئے پھر چیئرمین بن گئے۔ 2008ء کے الیکشن پہلے جنرل پرویز مشرف نے انہیں نگران وزیر اعظم بھی بنا دیا تھا اور ان کے پاس بیک وقت مملکت کے دونوں بڑے عہدے تھے۔ بلکہ اگر اس دوران صدر پرویز مشرف ملک سے باہر جاتے اور بحیثیت چیئرمین سینیٹ وہ قائم مقام صدر بھی ہوتے اور یوں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر، وزیر اعظم اور چیئرمین سینیٹ کا عہدہ ایک ہی ذات میں جمع ہو جاتا، عجیب اتفاق ہے ہم بات تو اختیارات گراس روٹ لیول تک دینے کی کرتے ہیں لیکن عہدے بانٹنے میں فراخ دل اتنے ہیں کہ ایک ہی شخص کو ایک سے زیادہ عہدے بھی سونپ دیتے ہیں نواز شریف کی دوسری وزارت عظمیٰ میں جب چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ خالی ہوا تو جنرل پرویز مشرف اس پر اپنی پسند کا تقرر چاہتے تھے اور جن کا نام سامنے آ رہا تھا ان کے خلاف تھے، نواز شریف نے یا تو اپنے کسی ساتھی کے مشورے پر یا پھر خود ہی جنرل پرویز مشرف کو خوش کرنے کے لئے انہیں آرمی چیف کے ساتھ ساتھ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی دے دیا، لیکن خوش وہ پھر بھی نہ ہوئے اور وزیر اعظم کو ہٹانے کی سکیمیں سوچتے رہے جن کی اطلاع ملنے پر نواز شریف نے انہیں آرمی چیف کے منصب سے ہٹا تو دیا لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اقتدار سنبھال لیایہ تو خیر جملہ معترضہ تھا ہم محمد میاں سومرو کی بات کر رہے تھے جو ہنگ پارلیمنٹ میں بننے والی تحریک انصاف کی مخلوط حکومت میں وزیر اعظم ہو سکتے ہیں وہ تھوڑا عرصہ پہلے ہی تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔ عام طور پر انہیں بھی الیکٹ ایبلز کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، جیکب آباد ان کا آبائی حلقہ ہے ان کے والد احمد میاں سومرو مغربی پاکستان اسمبلی (ون یونٹ) کے ڈپٹی سپیکر تھے، الٰہی بخش سومرو ان کے چچا ہیں جو قومی اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں۔

محمد میاں سومرو

مزید : تجزیہ


loading...