الیکشن مکمل ہوا، مگر اصل چیلنج اب شروع ہوگا

الیکشن مکمل ہوا، مگر اصل چیلنج اب شروع ہوگا
الیکشن مکمل ہوا، مگر اصل چیلنج اب شروع ہوگا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مقروض ملک میں مہنگے ترین الیکشن کا عمل 25 جولائی 2018 کو مجموعی طور پر خوش اسلوبی سے مکمل ہو چکا ہے۔ اس الیکشن میں سیکیورٹی کے لئے 3 لاکھ 70 ہزار فوجیوں اور 4 لاکھ سے زائد پولیس اہلکاروں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 18 لاکھ 19 ہزار سے زائد انتحابی عملے نے اپنی ڈیوٹی سرانجام دی۔ اس الیکشن کے لئے 22 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ الیکشن کے تمام مراحل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے تقریباً 21 ارب روپے خرچ کئے گئے۔ یاد رہے کہ یہ خرچ صرف الیکشن کے عمل کا ہے، انتخابی امیدواروں نے اپنی تشہیر کے لئے جو کروڑوں، اربوں روپے خرچ کئے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

جمہوری طرزِ حکومت میں الیکشن کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ الیکشن یا انتخابات جمہوری عمل کا ایک حصہ ہوتے ہیں، جبکہ جمہوریت میں الیکشن کے علاوہ بھی بہت سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ کامیاب جمہوری ممالک میں الیکشن کا ٹرن آؤٹ 60 سے 85 فیصد تک ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں اس قدر ٹرن آؤٹ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں مثال کے طور پر الیکشن کا عمل صرف ایک دن پر محیط ہوتا ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جاتا، آن لائن ووٹ ڈالنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا کہ اگر کوئی شخص کسی ضروری کام سے اپنے آبائی حلقے سے دور ہو تو دوسرے شہر میں بھی ووٹ ڈال سکے، بیلٹ پیپر میں "Vote for None" کا آپشن نہیں دیا جاتا یعنی اگر کسی حلقے میں کوئی بھی امیدوار پسند نہ ہو تو اس پر مہر لگائی جا سکے۔

اس الیکشن نے بہت سے حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے اور کئی مواقع پر حیران کن اور غیر متوقع صورتحال بھی نظر آئی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت نے اس مرتبہ کرپٹ مافیا کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ کئی عشروں سے اقتدار پر مسلط نون لیگ کو بڑے مارجن کے ساتھ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کئی ایسے حلقوں میں بھی اسے شکست ہوئی ہے جو ان کے آبائی حلقے تھے یا جہاں سے وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے تھے جس کی بڑی مثال رانا ثناء اللہ کی شکست ہے۔

اس الیکشن نے ایک اور بات بھی ثابت کر دی ہے اور وہ یہ کہ پاکستانی الیکشن میں ہمیشہ "الیکٹیبلز" ہی جیتتے ہیں، عام آدمی نہیں چاہے وہ جتنا زیادہ تعلیم یافتہ اور اعلی صلاحیتوں سے مالا مال ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی واضح مثالیں NA۔78 نارووال میں پی ٹی آئی کے ابرارالحق کی شکست اور نون لیگی رہنماء احسن اقبال کی جیت اور NA۔161 لودھراں سے نون لیگی امیدوار صدیق بلوچ کی جیت ہے۔

الیکشن کے ابتدائی نتائج آنے کے بعد ہمیشہ کی طرح ہارنے والی سیاسی جماعتوں نے نا صرف دھاندلی کے الزامات لگا کر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ احتجاج کی صدائیں بھی بلند کر رہی ہیں۔ شہباز شریف نے ابتدائی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 فراہم نہیں کیے گئے اور پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکال دیا گیا۔ کم و بیش یہی باتیں تحریک لبیک کی طرف سے بھی سننے میں آ رہی ہیں۔

حتمی نتائج آنے میں تو کچھ وقت مزید لگ سکتا ہے مگر اب تک کی رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی نے سب سے زیادہ سیٹس حاصل کی ہیں۔ عمران خان صاحب کا اصل چیلنج اب شروع ہوگا۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان صاحب عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتے ہیں اور جن الیکٹیبلز کو ٹکٹس دے کر وہ اتنی سیٹس جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کیا وہ ترقی یافتہ پاکستان بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں یا رکاوٹ بنتے ہیں اور یہ کہ جن سیاسی جماعتوں نے ہار کا سامنا کیا ہے ان کی اپوزیشن سے وہ کتنی سیاسی بصیرت سے عہدہ برآ ہوتے ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ