A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

تبدیلی نظر آنی چاہیے

تبدیلی نظر آنی چاہیے

Jul 26, 2018 | 14:32:PM

محمد علی خان

لیں جی ایک کھیل ختم ہوا ،نیا کھیل شروع ہواچاہتاہے۔ اب ہے مرحلہ حکومت سازی کا، سب کے پتے شو ہوچکے ہیں کہ کس کے پاس کیا ہے۔ بظاہر مرکز۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں تحریک انصاف حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ بلوچستان میں " باپ " کی حکومت بننے کے چانس ہیں کیونکہ " مما " وہاں سے ہار گئی ہے۔ ماں باپ کے جھگڑوں میں زیادہ نقصان اولاد کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سندھ میں حسب روایت حسبِ معمول پیپلزپارٹی حکومت بنائے گی مگر شہری سندھ میں تحریک انصاف بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جو کہ مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔

یوں تو خان صاحب سو دن کا ٹارگٹ دے چکے ہیں تو کم از کم سو دن تو انہیں دینا چاہیے کہ وہ کیا رزلٹ دیتے ہیں۔ کاغذی باتوں سے قطع نظر اگر تبدیلی کی خالق سرکار چند بنیادی معاملات پر توجہ دے تو یقیناً عوام کی دعائیں اسکا مقدر ہونگی۔

1۔ کرپشن کا خاتمہ اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی۔

2۔ عدلیہ اور احتساب بیورو کی مضبوطی اور مکمل آزادی۔

3۔پولیس کی اصلاحات اور سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل آذادی۔

4۔ عدالتی قانون نظام میں اصلاحات۔

5۔ انتخابی نظام کی مکمل اصلاحات اور کرپٹ پریکٹس کا مکمل خاتمہ

6۔ مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی اور اقتدار و اختیار کہ گراس روٹ لیول پر منتقلی۔

اگر تحریک انصاف صرف درج بالا نکات پر اپنے منشور کے نفاذ اور وعدوں کی تکمیل میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقیناً ایک نیا پاکستان معرض وجود میں آجائے گا۔کم از کم ان معاملات کو ہی مناسب طریقے سے ہینڈل کر لیا تو عوامی پذیرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔خان صاحب ایک ارب درخت لگائیں ایک کروڑ نوکریاں بھی دیں پچاس لاکھ گھر بھی بنائیں مگر ان سب سے زیادہ پاکستان کو تحفظ کا احساس دلائیں آپکی خارجہ پالیسی مثالی ہونی چاہیے امورِ خارجہ دنیا میں آپکا چہرہ ہوگا ہمسایوں سے برابری اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں۔ عدم تشدد اور امن سب کے لئیے آپکا موٹو ہونا چاہیے۔

معاشی پالیسی کے نتائج گراس روٹ لیول پر نظر آنے چاہیں ۔پسند نا پسند سے قطع نظر پروفیشنل لوگوں کو آگے لائیں۔ اسی طرح داخلی معاملات میں سنجیدگی دکھائی جائے۔ کوئٹہ اور پشاور کی سیکورٹی بھی کراچی لاہور کے برابر لائیں۔ نیکٹا کو اختیارات دیں۔ نیب کو کہیں کہ عملی اقدامات کرے جو کہ نظر آئیں۔

ہر وہ قدم جو کہ عام آدمی کے لئیے آسانی کا باعث بنیں ضرور اٹھائیں ؟کچھ ناپسندیدہ فیصلے کرنے پڑیں تو بالکل نہ ہچکچائیں لوگوں کی اکثریت نے آپ پر اعتماد کیا ہے وہ آپکو مسیحا سمجھتے ہیں ۔ اگر آپ نے بھی چارہ گری نہیں کی تو احتجاج اور دھرنے تو آپ سے ہی سیکھے ہیں اس روایت کو بڑھنے میں ٹائم نہیں لگے گا۔

آپ پاکستان کے وزیراعظم بنیں گے سارا پاکستان آپکا حلقہ ہے کسی ایک شہر یا ضلع کے بجائے یورا ملک آپکی ترجیح ہونا چاہیے۔یاد رکھی شیرشاہ سوری کہ دور حکومت کو لوگ آج تک نہیں بھولے۔سلطنتِ مغلیہ ہوا کرتی تھی۔سلطنتِ شریفیہ بھی ہوا کرتی تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک نوازشریف ہوا کرتا تھا۔

آپکے کام آپکے مقام کا تعین کرتے ہیں۔ ورنہ لوگ تو سمندر خان بھی نام رکھ لیتے ہیں۔آپ نے اب انصاف خان بن کر دکھاناہے ۔قوم عمران خان کو بھول جائے گا اور انصاف کو یاد رکھے گی،خان صاحب ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں