جھرلو 2018

جھرلو 2018
جھرلو 2018

  


نہ ہم بدلے اور نہ ہی انداز مستانہ اور بالآخر وعدے پر عمل کرتے ہوئے عمران خا ن کو قوم پر مسلط کردیا گیا۔ یہ بجلی نو سال کے اقتدار کے بعد حزب اختلاف پر عوامی غضب نے گرائی ہے یا جھرلو 2018 کے پیچھے الیکشن سے پہلے کے محرکات ہی اس تباہی کا باعث تھے کہنا قبل از وقت ہے۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ اورانکے چیدہ چیدہ ساتھیوں کی نا اہلیاں، توہین عدالت کے ذریعے زباں بندی اور میڈیا کے اوپر ان دیکھے آرڈرز اس بات کی طرف اشارہ کررہے تھے کہ نواز شریف اپنے خدا پر یقین رکھتے ہوئے دنیاوی خداؤں سے الجھ بیٹھے ہیں۔ اپنے قائد اور لیڈر کے ہوتے ہوئے انکے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف نے خوب دوڑ لگائی لیکن وہ کافی نہ تھی اور وہی ہوا جسکا ذکر مہینوں سے زبان زد عام تھا۔

الیکشن میں عام عوام کا جوش و خرگوش دیدنی تھا۔ خواتین نے جس طرح اس انتخاب میں حصہ لیا خاص طور پر خیبر پختونخواہ میں وہ قابل رشک ہے۔ چھے بجے شام تک لوگ خوش تھے کہ انتخاب پر امن طور پر مکمل ہو ا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں تعریفی کلمات اور پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ حزب اختلاف نے پولنگ ایک گھنٹہ آگے کرنے کی درخواست کی اور اسکے مسترد کئے جانے ہر بھی شور نہ ہوا یہ پرامن انتخابات کی طرف اچھی پیش قدمی تھی۔لیکن جب میڈیا نے قبل از وقت غیر حتمی اور نامکمل نتائج دینے شروع کردئے اور جب مکمل گنتی سے پہلے اور فارم 45 دئیے بغیر پولنگ سٹیشن سے سیاسی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس کو نکال کر کنڈیاں لگائی گئیں تو تمام سیاسی پارٹیاں یک مشت چلا اٹھیں۔ عوامی ذہن سازی نامکمل نتائج سے کی جارہی تھی اور ن لیگ متحدہ مجلس عمل اور پیپلز پارٹی اسے بروقت سمجھنے سے قاصر رہے یا یہ انکی غفلت تھی۔ مشاہد حسین کا دھاندلی بچاؤ سیل کا عملہ بھی شائد پرامن انتخاب کے اختتام پر سونے چلا گیا اور جیسا کہ مشہور ہے کہ معاملہ یہ نہیں کہ ووٹ ڈالا کس نے ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اسے گنتا کون ہے اور کیا وہ آپکا ووٹ آپکے پولنگ ایجنٹ کے سامنے گن بھی رہا ہے یا نہیں یہ ہی ایک ملین ڈالر کا سوال ہے۔

الیکشن کمیشن نے گنتی میں غفلت کے تمام مروجہ قوانین اور روایات پامال کردیں۔ احتجاج نامنظور اور دھاندلی نہیں چلے گی اور انتخاب کالعدم بھی ہوسکتا ہے کی ملک بھر میں صدائیں سن کر پہلے سیکرٹری الیکشن کمیشن اور پھر چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خاں اپنے ممبران جو کہ زیادہ تر جج واقع ہوئے ہیں نمودار ہوئے اور علی الصبح راولپنڈی سے پہلا حتمی نتیجہ سنایا اور دیر سے نتیجے کی تمام تر ذمہ داری نئی ٹیکنالوجی پر ڈال کر یہ جا وہ جا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن سو فیصد شفاف ہے ۔ اس میں کوئی داغ انہیں نظر نہیں آرہا۔ آر ٹی ایس نظام کے فیل ہونے کی ذمہ داری انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور وہ کون سا جسٹس فخر الدین جی ابراہیم تھے کہ استعفی لکھ کر لائے ہوتے۔ انْکی بے تکی منطق اور نااہلی کی وجہ سی عوام نے پرامن انتقال اقتدار کا ایک اور موقعہ ضائع کردیا۔ اب چاہے لوگ عمران خان کے لئے مرے ہی جارہے تھے الیکشن کمیشن نے حزب اختلاف کو وہ چورن فراہم کردیا جسکو زیر استعمال کرتے ہوئے وہ حکومت کے بننے سے پہلے ہی اس پر چڑھ دوڑے گی۔ انہوں نے عوام کو انتخابات پر کامل یقین اور اعتماد اور ہارنے والے کو باعزت طریقے سے مینڈیٹ کا احترام کرنے کے حق سے محروم کردیا ، قوم کبھی انہیں معاف نہیں کرے گی۔ پاکستان ایسے تماشوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جیتنے والے کا حق تھا کہ ہارنے والا اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے اسے مبارک دیتا یہاں وقت پر نتیجہ آتا تو ہی مبارک سلام ہوتا۔ پولنگ پر امن تھی 6 بجے کے بعد کیا ہوا اب واللہ عالم الصواب۔الیکشن کمیشن جواب دے ، پارلیمان جواب لے اور چیف جسٹس اس جواب کے لینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ الیکشن کمیشن نے 21 ارب میں قوم کی واٹ لگادی یہ کام تو فری میں بھی ہوسکتا تھا جیسے ہوتا آیا ہے لیکن عوام کے ذریعے احتساب کا مزہ کرکرا کردیا گیا۔(بیرسٹر امجد ملک ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چئیرمین اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن پاکستان کے تاحیات رکن ہیں)

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...