پراپرٹی ویلیو ایشن ریٹس میں اضافہ سے کام ٹھپ ہوکر رہ گیا،میاں تنویر ریاض

پراپرٹی ویلیو ایشن ریٹس میں اضافہ سے کام ٹھپ ہوکر رہ گیا،میاں تنویر ریاض
پراپرٹی ویلیو ایشن ریٹس میں اضافہ سے کام ٹھپ ہوکر رہ گیا،میاں تنویر ریاض

  


فیصل آباد(نامہ نگار خصوصی)فیصل آباد میں پراپرٹی کے ایف بی آر کے نئے ویلیوایشن ریٹس کے بارے میں لوگوں کو کنفیوڑ کیا جا رہا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن کی کوششوں کے نتیجے میں یکم فروری 2019ءکے مقرر کردہ ویلیوایشن ریٹس میں 8فیصد اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اخراجات کی سابقہ اضافہ شدہ شرح نہ تو حکومت کیلئے فائدہ مند ہے اور نہ ہی عوام کیلئے اس لئے ضرورت اس امر کیا ہے کہ سٹامپ ڈیوٹی‘ سی وی ٹی‘ ایڈوانس ٹیکس‘ ٹی ایم اے ٹیکس سمیت تمام ٹیکسز کی شرح ایک تا دو فیصد کی جائے جس کے نافذالعمل ہونے سے ٹیکسوں کے ضمن میں حکومت کی آمدنی میں ایک بڑا اضافہ بھی ممکن ہے اور عوام کو کو بھی ایک بڑا ریلیف مل سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار رئیل اسٹیٹ ایجنٹس وہاو¿سنگ ایسوسی ایشن پنجاب (رجسٹرڈ) کے صدر و رئیل اسٹیٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) فیصل آباد کے صدر میاں تنویر ریاض نے انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یکم فروری 2019ءکو ایف بی آر نے پراپرٹی ویلیوایشن کے 2016ء کے مقرر کردہ ریٹس سے کئی گنا زیادہ اضافہ کر دیا‘ اس کے بعد جولائی 2019ءمیں ایک بار پھر ایف بی آر نے یکم فروری 2019ءوالے ریٹس میں مزید 2سوگنا اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے پراپرٹی کی خریدوفروخت کا کام بالکل ٹھپ ہو کر رہ گیا اس کے خلاف رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن نے آواز اٹھائی اور ملک بھر کی رئیل اسٹیٹ کی تقریباً تمام تنظیموں سے مل کر رئیل اسٹیٹ کنونشن بھی منعقد کیا اور اس کے خلاف احتجاج بھی کیا اسی دوران اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی سے بار بار ملاقاتیں کر کے انہیں مسائل سے آگاہ کیا۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں ایسوسی ایشن چیئرمین ایف بی آر کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ جویکم فروری 19ءکو 200گنا زیادہ ریٹس بڑھائے گئے تھے وہ ختم کر دیئے گئے اور یکم فروری 2019ءکو جو ریٹس مقرر کئے گئے تھے ان میں صرف 8فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا‘ اس طرح وہ ریٹس تقریباً مارکیٹ ویلیو تک چلے گئے لیکن اس کے بعد رجسٹری پرتمام ٹیکسوں کی صورت میں مکمل اخراجات 9تا 10فیصد کر دیئے گئے اب رئیل اسٹیٹ کا بزنس کرنے والوں اور براہ راست عوام کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہی رہ گیا ہے جس کے لئے رئیل اسٹیٹ ایسوسی ایشن ملک بھر کی تنظیموں کے ساتھ رابطے کر کے ایف بی آر کو رجسٹری پر تمام ٹیکسوں سمیت مکمل اخراجات ایک تا 2فیصد لانے پر قائل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ اس صورت میں حکومت کے ریونیو میں کہیں زیادہ اضافہ ہو سکے گا۔

مزید : رئیل سٹیٹ