جناب بلاول کا کہنا ہے کہ ———

جناب بلاول کا کہنا ہے کہ ———
 جناب بلاول کا کہنا ہے کہ ———

  

جناب بلاول کا کہنا ہے کہ جمہوریت اور میڈیا کی آزادی پر حملہ قبول نہیں اور انکا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں میڈیا کی آزادی کے لئے جنگ لڑی انکا کہنا تھا جب تک آئین اور انسانی حقوق کو تحفظ حاصل نہیں ہو گا مسائل حل نہیں ہونگے۔جی ہاں جناب بلاول نے یہ گفتگو وفاقی دارالحکومت کے صحافی مطیع اللہ جان جنھیں کچھ روز قبل چند غنڈہ عناصر نے اغواء کر لیا تھا کے گھر ان کی خیریت دریافت کرتے ہوئے کی جی ہاں جناب بلاول جناب بھٹو مرحوم کے نواسے بی بی بینظیر شہید کے لخت جگر ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جناب بلاول جلد پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرینگے، ابھی وہ تربیتی مراحل سے گزر رہے ہیں اور یقینا جناب زرداری کی نگرانی میں جناب بلاول کی صلاحیتوں کو چار چاند بھی لگ رہے ہیں اور سنا تھا کہ جناب زرداری بیمار ہیں تو دعا ہے ہماری اللہ پاک انھیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔

تو خیر بات کر رہے تھے جناب بلاول کی جنھیں انکے سیاسی مخالفین بے بی بلاول کہتے ہیں، ان کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ جب تک آئین و انسانی حقو ق کو تحفظ نہیں ملے گا مسائل حل نہیں ہونگے اور یقینایہ بات بھی غلط نہیں کہ جناب نواز شریف نے اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے بھی میڈیا پہ کبھی پابندیاں نہیں لگائیں بلکہ میاں نواز شریف اور بی بی شہید نے صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے بھی کوشش کی حق دار صحافیوں کو پلاٹ دیئے گھر دیئے اور تو اور بہت سے صحافیوں کی مالی مدد بھی کی، لیکن موجودہ حکومت نے تو میڈیا کے اشتہارات تک بند کر دیئے صحافیوں کا معاشی قتل بھی گویا موجودہ حکومت نے ہی کر دیا جی ہاں بڑے بڑے دعوے کر کے قائم ہونے والی حکومت تاحال عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہے اور بہت سے دوست کہتے ہیں جو حکومت عوام کے مسائل نہ حل کر سکے وہ صحافیوں کو کیا تحفظ دے گی۔

بہر حال اگر دیکھا جائے تو صحافیوں پہ حملے ان کی آواز دبانے کے لیے ہوتے ہیں اور یقینا صحافی برادری پہ حملہ کوئی نئی بات نہیں اور اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ جمہوریت کی سلامتی و بقا کے لئے صحافی بھی کسی سے کم نہیں، جی ہاں بے شمار صحافی بھائی جو فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھے دہشت گردوں کی کاروائیوں کا نشانہ بنے جی ہاں صحافی برادری ہر دور میں قربانیاں دیتی آئی ہے۔ اس کے باوجود بھی صحافی برادری مسائل کا شکار ہے اور یقینا حکومت کا کام بھی ہے اور فرض بھی کہ اپنی ریاست کی حدود میں رہنے والی تمام رعایا کا خیال رکھے اور یقینا صحافی بھی ملک پاکستان کے شہری ہیں اور صحافیوں کے حقوق کی ذمہ داری و پاسداری بھی حکومت پہ لازم و ملزم ہے اس لئے حکومت صحافیوں کے حقوق کا خیال رکھے اور ان کے مسائل حل کرے نہ کہ انکا معاشی قتل کرے۔ بہر حال اجازت چاہتے ہیں دوستوں آپ سے ملتے ہیں جلد ایک چھوٹی سی منی سی بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا۔

مزید :

رائے -کالم -