نغمہ نگار اور اداکار افضل عاجز کے ساتھ آن لائن مکالماتی نشست کا انعقاد

نغمہ نگار اور اداکار افضل عاجز کے ساتھ آن لائن مکالماتی نشست کا انعقاد

  

لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (پِلاک)، محکمہ اطلاعات و ثقافت، پنجاب کے زیر اہتمام مشہور شاعر، نغمہ نگار اور اداکار افضل عاجز کے ساتھ آن لائن مکالماتی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں قیصر خان، جاوید اقبال اعوان، خاقان حیدر غازی، محمد عاصم چودھری، ممتاز ملک اور ڈائریکٹر جنرل پلاک ڈاکٹر صغرا صدف نے افضل عاجز کو شریک گفتگو کرتے ہوئے انکی شخصیت اور فن کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی۔ افضل عاجز نے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ابتدائی زندگی اور فن کے حوالے سے بتایا کہ اُن کا تعلق میانوالی سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اُن کے زیادہ تر گیت معروف لوک گلوکار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے گائے جو کہ عوام میں بے حد مقبول ہوئے۔ اسکے علاوہ بھی کئی فنکاروں نے ان کے لکھے ہوئے گیت گائے جن میں میڈم نور جہاں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان میں ان کے کئی گیت مشہور ہیں اور ایک رومانی گانا تو بھجن کے طور پڑھا جاتا ہے۔ ان کی شاعری پنجاب کی ثقافت کی آئینہ دار ہے۔ جس کے اندر دیہی زندگی کی منظر نگاری، پسماندہ طبقے کے احساسات و جذبات، ہجر و وصال، سوزوگداز اور رومانیت بھرپور انداز میں موجود ہے۔ افضل عاجز نہ صرف شاعر ہیں بلکہ موسیقار بھی ہیں۔ اپنے سارے گیتوں کی موسیقی انہوں نے خود ترتیب دی۔ انہوں نے اپنے گیتوں میں سے ”میں ستی پئی نوں جگایا ماہی“، ”اچا چوبارہ میرے ڈھول دا“، ”انج لگدائے چن ماہیا نویں سجن بنا لئے نی“ اور دیگر گیت پیش کر کے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔

مزید :

کلچر -