101سالہ قیدی کی رہائی کیلئے عرضداشت پر فیصلہ کرنے کا حکم

  101سالہ قیدی کی رہائی کیلئے عرضداشت پر فیصلہ کرنے کا حکم

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے 7 افراد کے قتل میں ملوث 101سالہ قیدی مہدی خان کی رہائی کیلئے ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو جیل مینوئل رول 146 کے تحت عرضداشت پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا،مسٹر جسٹس راجہ شاہد محمود عباسی نے مہدی خان کی درخواست پر اپنے تحریری حکم میں ہدایت کی ہے کہ فیصلے کی مصدقہ نقول جاری ہونے کے بعد 3 ہفتوں میں عرضداشت پر فیصلہ کیا جائے، عدالت نے قرار دیا کہ تین مارچ 2020 کو اے آئی جی پنجاب جیل خانہ جات عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ مہدی خان کی عرضداشت ہوم ڈیپارٹمنٹ میں زیر التوا ہے، سیکشن آفیسر ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیش ہوئے اور کہا کہ درخواست پر جلد از جلد فیصلہ کیا جائے گا،عدالت نے ہدایت کی ہے کہ اس عرضداشت تین ہفتے میں فیصلہ کیا جائے۔مہدی خان کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 2006ء میں خاندانی دشمنی کے نتیجے میں 7 افراد قتل کاجب گجرات پولیس مقدمہ درج کیا تو اس وقت مہدی خان کی اس وقت عمر 86 سال تھی۔2009 میں ٹرائل کورٹ نے مہدی خان بری کیا تھالیکن 2019 میں لاہور ہائیکورٹ نے اسے عمر قید کی سزا سنائی، قیدی علیل ہے اور عمر 100 سال سے زائد ہے۔ اسکی طبی حالت جانچنے کے میڈیکل بورڈ قائم کیاجائے، درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ جیل مینوئل رول 146 کے تحت اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

عرضداشت

مزید :

صفحہ آخر -