ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ اور دیہاڑی دار ملازمین فارغ؟

ریڈیو پاکستان کے کنٹریکٹ اور دیہاڑی دار ملازمین فارغ؟

  

کورونا کی وجہ سے نجی شعبہ کو معاشی مشکلات کا سامنا ہوا، کاروبار بند ہوئے تو نجی ملازمین بھی بے روزگار ہوئے، اس دوران سرکاری شعبوں کے ملازمین کو تحفظ تھا، لیکن اب مختلف محکموں سے خسارہ کم کرنے کے حوالے سے ملازمین کو فارغ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ خبر ہے کہ ریڈیو پاکستان کے 66فیصد کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین فارغ کئے جا رہے ہیں۔ مقامی معاصر کی اطلاع کے مطابق ریڈیو پاکستان کی ڈائریکٹر پروگرامنگ کی طرف سے ریڈیو کے تمام سٹیشنوں کے سربراہوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے ملازمین کی فہرستیں بھیجیں جو کنٹریکٹ پر ملازمت کرتے ہیں یا پھر روزانہ اجرت کے عوض خدمات انجام دیتے ہیں، یہ خط یاد دہانی کے لئے ہے کہ اس سے پہلے یہ فہرستیں طلب ہوئیں۔ خط میں واضح کیا گیا کہ پہلی فہرستیں نامکمل اور مبہم ہیں اس لئے دوبارہ نام بھیجے جائیں کہ 66فیصد افراد کو فارغ کیا جانا مقصود ہے۔ آج کے اس دور میں جب معاشی گراوٹ کے باعث عوام مشکلات میں مبتلا اور بے روزگار ہیں، ان میں مزید اضافہ نئے مسائل کا باعث بنے گا، موجودہ حکومت تو ایک کروڑ ملازمتیں دینے کے وعدے پر برسراقتدار آئی، لیکن اب تک ملازمتیں تو دی نہ جا سکیں، لیکن خسارہ کم یا ختم کرنے کے حوالے سے مزید ملازم بے روزگار کئے گئے ہیں اور اب سٹیل ملز کے تمام ملازمین کی فراغت کے فیصلے کے بعد ریڈیو پاکستان سے بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو بے روزگار کرنے کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے جہاں تک کنٹریکٹ ملازمین کا تعلق ہے تو وہ طویل عرصہ سے عارضی ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں اور مستقلی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں، اتنی زیادہ مدت تک یوں بھی کنٹریکٹ پر رکھے رکھنے کا جواز نہیں بنتا اور یہی صورت روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی ہے۔ ان ملازمین کی ضرورت ہے، تبھی تو یہ چلے آ رہے ہیں،یوں اتنی بھاری تعداد میں لوگوں کو بے روزگار کرنا مناسب نہیں کہ بے روزگاری بڑھنے سے معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -