کورونا حقیقت،اسے تسلیم کر کے احتیاط کریں!

کورونا حقیقت،اسے تسلیم کر کے احتیاط کریں!
کورونا حقیقت،اسے تسلیم کر کے احتیاط کریں!

  

عیدالاضحی کے قریب آتے آتے بازاروں میں خریداری میں بھی بہتری آئی اور عوام کا رش بڑھ گیا ہے۔اسی طرح ٹریفک بھی بہت بڑھی، بازاروں میں کسی قسم کی احتیاط نہیں کی جا رہی،تاجر خود حفاظتی اقدامات پر عمل کرتے اور نہ ہی گاہکوں کو ٹوکتے ہیں،حالانکہ ان تاجر حضرات کی تنظیموں کے عہدیدار حضرات کاروبار کھلوانے کے لئے ہر طرح کی ضمانت دیتے اور یقین دہانیاں کراتے ہیں، حکومت نے کاروبار کے لئے صبح نو بجے سے شام سات بجے تک کی اجازت دے رکھی ہے،لیکن دکانیں بند کرنے کے اوقات کی پابندی نہیں کی جا رہی،بلکہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اوقات کار اور ہفتے میں دو روز چھٹی والی پابندی ختم کر دی جائے۔یہ تاجر بھائی اپنی کمائی کے لئے کوئی فکرنہیں کرتے، بلکہ اُلٹا حکومتی بیانات کا سہارا لے کر کہتے ہیں کہ کورونا ورونا کچھ نہیں، ایسا ہی تاثر ہمارے دینی اکابرین کی طرف سے دیا جاتا ہے، اور یوں ایک نیا ماحول بنتا جا رہا ہے،جس کی وجہ سے وبا میں مزید بہتری کی امید کم نظر آئی ہے، اس کا ایک نظارہ مویشی مارکیٹوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جہاں ایس او پیز کی پابندی نہیں کی جا رہی۔بیوپاری اور گاہک کو اپنی اپنی وجوہ کی بنا پر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن انتظامیہ کی طرف سے جس حفاظتی اقدامات کا کہا جاتا ہے۔وہ بھی نظر نہیں آئے۔ اول تو سرکاری عملہ موجود نہیں،اور اگر ہے تو اپنے فرائض توجہ اور دیانت داری سے انجام نہیں دیتا، اسی طرح اب تک شہروں کے اندر عارضی منڈیاں یا گلی کوچوں اور بازاروں میں جانور لئے پھرنے والوں کو بھی روکا نہیں جا سکا۔یوں یہ خدشہ موجود ہے کہ جو ایس ا پیز وبائی امراض کو کنٹرول کرنے والے مرکزی ادارے نے بنا کر جاری کئے ان پر قربانی کے تین دِنوں میں بھی عمل مشکل ہو گا کہ قربانی دینے والے حضرات کی یہی کوشش ہو گی کہ وہ گھروں کے باہر ہی واجبات ادا کریں۔اگرچہ اجتماعی قربانی کے تصور کو بھی اہمیت ملی اور آن لائن قربانی والوں کی پذیرائی بھی ہوئی،لیکن یہ مطلوبہ تعداد نہیں،اکثریت کے عزائم اور معمول کی قربانی والے ہی ہیں۔

ہم نے یہ تفصیل اِس لئے عرض کر دی کہ مرکزی کنٹرول روم کی خوش فہمی کے باوجود ہمارے ڈاکٹر بھائی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ وبا میں کمی ہوئی اور یہ ختم ہونے جا رہی ہے۔اگرچہ عمومی تاثر یہی بن رہا اور لاپرواہی بھی بڑھ گئی ہے، ہم آپ کو اپنے تجربے میں شامل کرتے ہیں کہ اس سے ایک تو وبا کی اہمیت کا اندازہ ہو گا اور دوسرے ذاتی تحفظ کے بارے میں معلومات مل جائیں گی، ہم بائی پاس کلب کے ممبر تو 2009ء سے ہیں تاہم بلڈ پریشر اور معدہ کی تکلیف(جسے عموماً گیس کہا جاتا ہے) سے بھی متاثر ہیں، جبکہ اپنے پیشہ صحافت کے ”تازیانوں“ کی وجہ سے(ANXIETY) کے مریض بھی رہے۔ اللہ بھلا کرے، جواں سال ماہر امراض ڈاکٹر عدنان قاضی صاحب کا کہ وہ ہم کو مسلسل سنبھالے ہوئے ہیں اور ہم بھی ان کی ہدایات پر پوری طرح عمل کرتے ہیں۔ہوا یوں کہ گزشتہ ہفتے بستر سے اترتے وقت اچانک کمر میں تکلیف ابھر آئی، جو اعصابی مرکز سے شروع ہو کر ٹانگوں سے ہوتی ہوئی پاؤں تک جانے لگی، ایک دو روز ٹوٹکوں سے کام لینے کی کوشش کی ناکام ہو کر قریب تر منصورہ ہسپتال جانا پڑا، برادرم شوکت ہنجرا کے تعاون سے آرتھوپیڈ ک سرجن(انچارج)کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کی ہدایت سے مستفید ہونا پڑا، منصورہ نجی تو کہلائے گا،لیکن بہت اچھے انتظام والا رفاعی ہسپتال ہے، جو صاف ستھرا ہے اور یہاں حفاظتی تدابیر پر مکمل عملدرآمد تھا۔ سماجی فاصلہ اور ماسک والی پابندی پر عمل ہو رہا تھا۔ یوں بھی ہمیں انچارج پروفیسر صاحب کی خدمت میں جا کر ان سے طبی ہدایت لینے کے لئے سینکڑوں،ہزاروں روپے خرچ نہیں کرنا پڑے اور صرف50روپے کی پرچی میں مکمل اور بغور معائنہ ہو گیا اور مزید بوجھ بھی نہ بنا کہ محترم پروفیسر نے دو ادویات لکھ دیں کہ ایک ہفتہ استعمال کر لی جائیں، یہ ہماری قسمت کہ تکلیف دور ہو رہی تھی کہ ہم پلنگ سے اچانک گر گئے اور معاملہ نہ صرف جوں کا توں ہوا،بلکہ جسم کے ایک دو اور حصے بھی درد سے معمور ہو گئے اور اب ہم بھگت رہے ہیں۔

قارئین! آپ کا وقت ان باتوں میں لے لیا،ان سے آپ کو قدرے مایوسی ہوئی ہو گی،لیکن ہمارا اس سے ایک مقصد ہے کہ ہم یہ عرض کر سکیں، وبا نہ صرف موجود ہے، بلکہ اس میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں،اس لئے احتیاط لازم ہے اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنے فرائض ذرا تندہی سے انجام دیں اور لاپرواہی سے گریز کریں۔یہ اسی شب کا قصہ ہے جب ہم نے آرتھوپیڈک پروفیسر صاحب کو دکھایا تو بعد میں اپنے فزیشن محترم ڈاکٹر عدنان قاضی کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ ہم اور ہمارا صاحبزادہ عاصم چودھری ماسک اور سینی ٹائزر والے اہتمام سے پوری طرح لیس تھے، تاہم جب ڈاکٹر موصوف کے کمرے میں پہنچے تو وہ مکمل ترین حفاظتی کٹ میں ملبوس پائے گئے، ہم نے احوال بتایا تو انہوں نے جاری نسخے میں معمولی اضافہ کیا اور پھر ہدایت کی کہ کورونا کو مذاق نہ سمجھا جائے۔ یہ وبا ہے اور ابھی خطرہ موجود ہے،تاہم انہوں نے جو تجویز کیا اس کے مطابق بلڈ پریشر، معدہ،کھانسی، گلے کی خراش اور پھیپھڑوں کی صفائی کا اہتمام لازم ٹھہرا۔ ڈاکٹر صاحب کا مشورہ ہے کہ پاکستانی عمومی طور پر کھانسی، شوگر، بلڈ پریشر اور معدہ وغیرہ کی تکالیف میں مبتلا ہوتے اور ادویات بھی استعمال کرتے ہیں،لیکن وباء کی موجودگی میں یہ قطعی لازم ہے کہ ہر شخص ان امراض سے تحفظ کا مکمل اہتمام کرے۔ اپنے معالج کی ہدایت پر عمل کرے،ادویات اور خوراک کا خیال رکھے،کیونکہ یہ وائرس گلے، معدے اور پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے،اگر لوگ ان سب کو ٹھیک رکھیں تو ان میں قوت مدافعت بڑھے گی اور اب تک سب سے بہترین ویکسین یہی ہے تاوقتیکہ کہ موثر علاج دریافت نہیں ہو جاتا۔ ڈاکٹر کی ہدایت تھی کہ یہ شکایات نہ ہونے دیں اور احتیاط کرتے رہیں،تو حضرات مقصد اس تفصیل کا بھی یہی پیغام ہے۔ یہ نہیں کہ ہمارے پڑھے لکھے اور دانشور افراد ایسی ویڈیو وائرل کریں کہ کورونا دھوکا، یہ وائرس نہیں، بیکٹیریا ہے،اور اٹلی والوں نے پوسٹ مارٹم کر کے دریافت کیا اور علاج ایسپیرین ہے،اور اسی طرح جناب ٹرمپ کی ٹرمپی پر اعتبار کریں۔

مزید :

رائے -کالم -