مار ڈالو کہ مَیں اکیلا ہوں

مار ڈالو کہ مَیں اکیلا ہوں
مار ڈالو کہ مَیں اکیلا ہوں

  

قوموں کے مزاج صدیوں کے رویوں سے تشکیل پاتے ہیں،حالات نے طنابیں کھینچ کر کس راہ پر گامزن کیا، کیا معاملہ رکھا، کیسے کیسے دوسروں نے اس ایک قوم پر اثر پذیری کی کوشش کی۔ اس سب کا تجزیہ تاریخ نگار کرتے ہیں۔عمرانی مفکرین ہیں لیکن بحیثیت قوم اگر کوئی بانجھ ہو جائے، مفکرین اور تجزیہ نگاروں کو جنم دینا ہی بند کر دے جو ان واقعات اور ان سے جنم لینے والے اربوں کی آپسی نسبت کو بغور دیکھیں۔ یہ ڈھونڈ نکالنے کی کوششیں کریں کہ اب جو قوم کا مزاج ہے وہ کیوں ہے، تو پھر وہ قوم، قوم نہیں رہتی،ہجوم ہو جاتی ہے اور ہجوم کا کوئی مستقل رویہ نہیں ہوتا، ہجوم ایک سیلابی ریلہ ہے جو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔جب جب ہم نے اپنی قوم کا مزاج سمجھنے اور اسے کوئی عنوان دینے کی کوشش کی ہے، کئی باتیں تو فہم کی گرفت سے ہی پھسل جاتی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتی، کہ ہم جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور کیسے یہاں تک پہنچے۔مَیں سمجھتی ہوں کہ صدیوں سے فاتحین کے راستے میں ہونے کے باعث چند رویے تو اس علاقے کے لوگوں کی جنیات کا حصہ بن گئے ہیں۔اپنے قارئین سے مَیں نے پہلے بھی اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم لوگ شخصیت پرست لوگ ہیں۔یہ شخصیت پرستی بھی اسی لئے ہمارے مزاج کا حصہ بن گئی ہے، کیونکہ ہم تو صدیوں سے قوموں کی لشکری مہموں کے سموں تلے بچھتے ر ہے ہیں۔ تبھی ہم جمہوریت پسند بھی نہیں،ہمیں عسکریت ہی بھاتی ہے، کیونکہ صدیوں کے چابک نے یہ پسند ہمارے مزاج کا حصہ بنا دی ہے، چونکہ ان علاقوں کی معیشت بھی دھیرے دھیرے ان لشکروں کے پڑاؤ سے وابستہ ہو گئی تھی، سو ایک خاص قسم کی تابعداری اور سازش بھی مزاج کا حصہ بن گئی،کیونکہ حملہ آور سازش کرنے والوں، غداری کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں، نوازتے ہیں۔ طبعاً جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور لشکروں کے راستوں کے یہ لوگ جو اب پاکستان کے نام کے باعث سے ایک قوم ہیں، سازش کی خواہش اور خوف دونوں ہی کو اپنے ذہنوں کی کوکھ میں پالتے ہیں، تبھی تو ہمیشہ کسی بیرونی سازش کے خوف کا شکار رہتے ہیں،انہیں ہر بات میں کوئی سازش دکھائی دیتی ہے۔اس سازش کا کوئی کونا ان کے کبھی ہاتھ نہیں آیا،لیکن وہ پھر بھی اسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔

ایک اور اہم بات جو صدیوں کے اس جبر نے ہمارے مزاجوں کا حصہ کر دی ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ بیرونی مدد کے منتظر رہتے ہیں۔ہمیشہ کسی مسیحا کی امید نے ہمیں اچھے دِنوں کی آس سے باندھ کر رکھا ہے۔بہادر شاہ ظفر کے آخری دِنوں میں مجرب کارتوسوں کے استعمال سے جھنجھلائے ہوئے لوگ، کبھی ایران کے شاہ کے منتظر تھے اور کبھی روس کے حملے کا تعین کرتے تھے۔ حد یہ تھی کہ ایک مصنوعی فرمان شاہ ایران سے منسوب بھی کیا گیا اور دہلی کے قلعے کی دیوار پر چسپاں بھی رہا، جس میں کہا جاتا ہے کہ شاہ ایران نے مسلمانوں کو اپنے تفرقات بھلا کر فرنگیوں کے خلاف یکجا ہو جانے کی ہدایت کی تھی۔اسی زمانے میں بادشاہ کے دربار میں ایک صاحب حسن عسکری کا بھی بہت آنا جاتا تھا،جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ خوابوں کی تعبیر بتاتے ہیں۔انہیں الہام بھی ہوا کرتا تھا۔ انہوں نے بہادر شاہ ظفر کو بتایا کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ مغرب کی طرف سے ایک دھواں اٹھا ہے، جو ہمارے مُلک پر چھا گیا ہے،اس آندھی نے سب کچھ نیست و نابود کر دیا،لیکن اس طوفان کے عین درمیان بادشاہ سلامت اپنے تخت پر بڑے اطمینان سے براجمان ہیں۔ایک کمزور اور ضعیف بادشاہ کے لئے ایسا خواب یقینا تقویت کا باعث ہو گا۔یہ الگ بات ہے کہ بہادر شاہ ظفر پر جب انگریز حکومت نے بغاوت کا مقدمہ چلایا تو یہ صاحب بھی اس مقدمے میں جرح کے لئے پیش کئے گئے اور وہ جن کے روحانی تصرفات کے حوالے سے اور بادشاہ کی قربت کی بابت دہلی میں چرچے تھے، ایسی ہی کرامات سے مر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بادشاہ کو اپنے خواب کے حوالے سے یہ تعبیر بتائی تھی کہ ایران کی جانب سے ہندوستان پر حملہ ہو گا، جو فرنگیوں کو نیست و نابود کر دے گا اور بادشاہ کو اپنی حکومت واپس مل جائے گی۔

روس کی جانب سے حملے کا خطرہ تو انگریزوں کو بھی مسلسل لاحق رہتا ہے،تبھی تو مسلسل جاسوسی کا ایک نظام کام کرتا تھا۔ بلوچستان کو بھی اسی لئے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیر آباد رکھا گیا تاکہ ان راستوں کو استعمال کرنے کا سوچا نہ جا سکے۔اسی خطرے کے احساس نے اس علاقے کے لوگوں میں امید کے طور پر قدم جما لئے ہوں گے۔ یہ رویہ بس ہمیں پر مفقود نہیں ہوا۔یہ مسلسل موجود ہے۔

مزید :

رائے -کالم -