حاجیوں کے لئے اصلی آبِ زمزم

حاجیوں کے لئے اصلی آبِ زمزم
حاجیوں کے لئے اصلی آبِ زمزم

  

اِس مرتبہ کورونا وائرس کے باعث حج بیت اللہ میں محدود شرکت کے پیشِ نظر چھ برس پہلے کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب ایک پاکستانی اخبار نے جعلی آبِ زم زم کی بوتلیں فروخت ہونے کی ’بریکنگ نیوز‘ چلائی تھی۔ اُس وقت اندازہ نہ ہو سکا کہ ہماری قوم نے اِس خبر میں کتنی دلچسپی لی، اور اگر لی تو ذہن میں کن کن سوالوں نے سر اٹھایا۔ ایک تو یہ واردات اُس مقدس سرزمین میں ہوئی جسے ماضی کے معروف افسانہ نگار اور میرے بزرگ دوست غلام الثقلین نقوی نے ’ارض ِتمنا‘ کہا تھا۔ دوسرے، سعودی انسپکٹروں نے پانی کی دو لاکھ بوتلیں قبضہ میں لے کر جن دس مبینہ جعل سازوں کو گرفتار کیا اُن میں دو ایک پاکستانی بھی تھے۔ کچھ لوگوں نے شاید یہ بھی سوچا ہو کہ آب زم زم کے کبھی ختم نہ ہونے والے ذخائر کے ہوتے ہوئے اِس حرکت کا جواز آخر تھا کیا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ مقدمے کا نتیجہ کیا نکلا، مگر اقبال کا یہ مصرع ضرور یاد آتا رہا کہ ’خبر نہیں کیا ہے نام اِس کا خدا فریبی کہ خود فریبی۔

کہتے ہیں خواتین کی گھرداری کے سلیقہ کو جانچنے کے لئے اُن کا باورچی خانہ دیکھنا چاہیے۔ اِسی طرح ہمارے سماجی رویوں میں تبدیلی کا اندازہ الفاظ و معانی کے بدلتے ہوئے رشتوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ کئی سال ہوئے جب میں بیرونی دنیا سے مستقل طور پہ وطن لوٹا تو رمضان المبارک کے آخری دن تھے۔ ایک شام افطاری سے ذرا پہلے لاہور کے ریگل چوک میں گھوم رہے تھے کہ چل پھر کر کتابیں بیچنے والے ایک نوجوان نے قرآن پاک کا ایک رنگین پاکٹ سائز نسخہ دکھا یا اور کہنے لگا ”ہدیہ صرف پچاس روپے“۔ مَیں نے نوٹ اُس کے ہاتھ پہ رکھا تو آواز آئی ”عید قریب ہے، کچھ مدد بھی کر دیں“۔ ”آپ بیچنے والے ہیں یا مانگنے والے؟“ ساتھ ہی میرے منہ سے نکلا کہ پیسے واپس کر دیں۔ اِس پر نوجوان نے مجھے کلاسیکل طعنہ دیا تھا:”آپ کیسے مسلمان ہیں، قرآن لینے سے انکار کر رہے ہیں“۔

واقعہ میرے چھوٹے بھائی کے سامنے ہوا، جنہوں نے نوجوان کے بارے میں کہا ’دو نمبر آدمی‘۔ میرے ذخیرے میں یہ نیا لفظ تھا مگر مَیں یہ سمجھا کہ اِس سے مراد ہے اول درجہ کی بجائے، ذرا نچلی سطح کی چیز۔ جیسے ہمارے لڑکپن میں پارکر ففٹی ون عمدہ ترین انک پین خیال کیا جاتا تھا، کچھ نیچے جا کر ٹونٹی ون اور پھر پارکر سیونٹین۔ ایک مشہور کمپنی کی امپورٹڈ ٹائیوں کی معیار کے لحاظ سے تین اقسام تھیں، ٹُوٹل اسپیشل، ٹُوٹل اسٹینڈرڈ اور ٹُوٹل پاپولر۔ ولایت میں بعض دکانوں پہ اعلی پیمانے سے کچھ ہی کمتر ملبوسات بھی بکتے ہوئے دیکھے، جن کے لئے باقاعدہ سیکنڈ یا دوئم کا لفظ استعمال ہوتا۔ لیکن کسی شے کے یکسر جعلی متبادل کے لئے دو نمبر کی اصطلاح بالکل اور بات تھی۔ اِس مفہوم کی نشوونما وطن عزیز میں ہوئی اور دو نمبر صحافی، دو نمبر وکیل اور دو نمبر استاد بھی بتدریج اِس دائرے میں آ گئے۔

یہاں اپنی نوجوان نسل کی خاطر یہ وضاحت کرتا چلوں کہ دو نمبری کی اصطلاح تو بعد میں عام ہوئی، مگر اِس کیفیت کی شروعات بہت پہلے ہو گئی تھی۔ دودھ مکھن والے گھی کو لے لیں کہ اِس کے ہوتے ہوئے جب کم قیمت بناسپتی گھی بازار میں آیا تو دونوں کے لئے ایک نمبر اور دو نمبر کے نام تو رائج نہ ہوئے، لیکن اصلی گھی اور نقلی گھی کے الفاظ بچپن میں اللہ کے فضل سے مَیں نے بھی سنے۔ اصلی کو بعض لوگ کھرا، دیسی یا خالص گھی بھی کہتے اور پنجاب کے دور افتادہ دیہات میں جوش ِ خطابت سے یہ ’اصلی نخالص گھی‘ بن جاتا۔ بناسپتی کو بیشتر صارفین نے ولایتی گھی یا پھر ڈالڈا کہا۔ ڈالڈا تھا تو کھجور کے درخت والا ایک مخصوص برانڈ مگر یہ لفظ ہر رنگ و نسل کے مصنوعی گھی کے لئے رائج ہو گیا۔ بالکل اُسی طرح جیسے بعد کے زمانے میں قصباتی روٹ پہ چلنے والی ہر مسافر پک اپ مدت تک ’سوزوکی‘ ہی کہلائی۔

اب ذاتی کہانی سنانا چاہوں تو اپنے پینڈو اوریجن کا پول کھل جائے گا، مگر ابتدا میں بناسپتی گھی کی رغبت صرف انہی شہری مراکز تک محدود رہی جو دیہی علاقوں سے دور تھے۔ چنانچہ بچپن میں چھوٹے سے آبائی شہر میں رہتے ہوئے ہمیں دودھ، دہی اور گھی کی سپلائی اُسی طرح ملتی رہی جیسے روز کے روز کنوؤں کے تازہ پانی سے نتھری ہوئی سبزی ملتی تھی۔ فریج، جسے بعد ازاں بیرونی ملکوں سے ہو کر آئے ہوئے محنت کشوں نے پانی والی ٹنکی کہا، سَو میں سے ایک گھر میں بھی نہیں تھا۔ اس لئے کھانے کی ری سائیکلنگ یا دو نمبر پکوائی کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔ اگر میرا حافظہ غلطی نہیں کر رہا تو 1958 ء کے فوجی انقلاب کے زمانے تک اُس غذائی انقلاب کی ابتدا ئی شکل دیکھنے کو ملی جس کی انتہا اب سے چھ سال پہلے جعلی آبِ زم زم پہ جا کر ہوئی ہے۔ لیکن کیوں اور کیسے۔؟

اصل میں بچوں کی یادوں کا تسلسل ایک اپنی ہی منطق رکھتا ہے۔ سو، سات آٹھ سال کی عمر میں کسی وجہ سے مجھے بناسپتی گھی کا اولین ڈبہ اور ’مسواک‘ نام کا ٹوتھ برش ایک ہی ساتھ دیکھنا یاد پڑتا ہے۔ ’مسواک‘ کی دوہری شہریت نے میرے ذہن میں یہ مسئلہ پیدا کیا کہ ایرا سمک شیونگ سوپ، سر کو لگانے والی بریل کریم اور رنگا رنگ پنیوں والے چاکلیٹوں کے برعکس، جن کی پیکنگ پر ’میڈ اِن انگلینڈ‘ انگریزی میں چھپا ہوتا، ’مسواک‘ کی سفید لمبوتری ڈبیہ پر ’انگلینڈ میں بنایا گیا‘ اردو میں کیوں لکھا ہوا ہے۔ یہ ایک بچے کی نفسیاتی الجھن تھی، لیکن جس بحران نے گھر کے دو قومی نظریہ کو ہلا کر رکھ دیا وہ مصنوعی گھی کا ڈبہ ہے۔ وزن پانچ پاؤنڈ، رنگ ہلکا پیلا اور ووٹ پکے کرنے کے لئے کھجور کے درخت والا انتخابی نشان۔ ڈبہ لائے تھے ابا کے کزن چاچا جی یعقوب۔ اِس سے آگے کیا ہوا؟ یہ تو اب بتانا ہی پڑے گا۔

ڈبہ دکھائی دیتے ہی امی اور پھوپھو ممتاز کا پہلا تاثر شدید خوف کا تھا۔ ذرا سا وقفہ لے کر کچھ نیم خفیہ اشارے ہوئے، پھر ایک کا منہ دوسری کے کان کے پاس گیا اور ڈری ڈری سی آواز نکلی:”ٹھیک ہے بھابھی جی، کوئی چیز تل کر دیکھتے ہیں“۔۔۔ اُس سہ پہر جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی طرح ولایتی گھی میں سموسے تلنے کا تجربہ کامیاب رہا تو دونوں خواتین کی حیرت اُس مریض کی سی تھی جو ریڈیائی لہروں کے علاج سے مایوس ہو جانے کے بعد حکیم عزیز جگرانوی کی پڑیا سے صحت یاب ہو جائے۔ دو تین سال کے اندر ہمارے گھر میں بناسپتی گھی کے پراٹھے بھی تلے جانے لگے۔ اِس دوران لال آٹے والی میکسی پاک گندم، شیور اور برائلر انڈے مرغی، فارمی سبزیاں اور پھل اتنے عام ہوئے کہ میری دادی کو اِس دونمبری پہ پنجابی میں کہنا پڑا:”آہو، ہن تے بندے وی فارم ہوگئے نیں“۔

ایک شخص کی دو نمبری کئی اور اشخاص کی دو نمبری کو جنم دیتی ہے۔ اسی لئے بطور کالج لکچرر مجھے نظامت تعلیم سے اپنے ایک ڈپٹی ڈائرکٹر دوست کی اُس ٹیلی فون کال پہ کوئی حیرانی نہیں ہوئی تھی کہ یار شاہد، تمہاری سالانہ رپورٹ کی ہر انٹری آؤٹ اسٹینڈنگ ہے، سوائے مذہبی خانے کے جہاں پرنسپل صاحب نے ایوریج یا اوسط کارکردگی لکھ دیا ہے۔ اُن دنوں بھی موجودہ حکومت کی طرح انتظامیہ نے اساتذہ کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لئے سالانہ خفیہ رپورٹ میں یہ کالم بڑھا دیا تھا کہ آیا متعلقہ ملازم پنجگانہ نماز ادا کرتا ہے یا نہیں۔ ہمارے مرحوم پرنسپل ڈاکٹر عزیز محمود زیدی نہ صرف اچھے آدمی تھے بلکہ بہت اچھے سرکاری آدمی بھی تھے۔ پھر بھی وہ ماتحتوں کے گھروں اور مسجدوں میں جاجاکر اُن کی رکعتیں گِن بھی لیتے تو یہ معلوم کرنے کا کیا طریقہ تھا کہ کس کس نے اللہ میاں کے ڈر سے نماز پڑھی ہے اور کس نے صدر ضیا الحق کے حکم پر۔

جیسا کہ شروع میں اشارہ دیا، سعودی عرب میں جعلی آب زم زم تیار کرنے والوں کا انجام میرے علم میں نہیں۔ ہاں، ایک دہائی ہونے کو ہے جب مجھے اِس سے ملتے جلتے ایک ذاتی صدمہ سے اُس وقت دوچار ہونا پڑا تھا جب حج سے واپسی پر بظاہر ائر لائن کی غفلت کے باعث میری بیوی کا آبِ زم زم تبدیل ہو گیا۔ اِس دوران نیک بی بی اور اُن کے ہم سفر بھائی اور بھاوج کی جو حالت ہوئی، اُس کی حساسیت میرے لئے آج بھی اُتنے ہی تذبذب کا باعث ہے جتنا چھ سال پہلے کی سنگین واردات پر فرزندان ِ توحید کا.ساہنوں کیہہ‘ والا رویہ۔ چلئے، اتنا تو ہے کہ آب زم زم والے ’وارداتئے‘ مسلمان تھے اور پھر واقعہ بھی اُس سرزمین میں ہوا جس کے بارے میں حکیم الامت کا کہنا تھا کہ ’سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف‘۔ اِس سال حج بیت اللہ میں محدود شرکت کے باعث مسلمانوں کے دل افسردہ ہیں، مگر اتنا اطمینان بہرحال ہے کہ خالق و مخلوق کے ساتھ پانی والی دونمبری کا احتمال نہیں رہا۔

مزید :

رائے -کالم -