مہنگائی اور بھوک، حکومت کہاں سو رہی ہے؟

مہنگائی اور بھوک، حکومت کہاں سو رہی ہے؟
مہنگائی اور بھوک، حکومت کہاں سو رہی ہے؟

  

پیارے وزیر اعظم عمران خان کی کورونا سے نمٹنے کے لئے حکمتِ عملی کا بنیادی نقطہ یہ رہا کہ لاک ڈاؤن کیا تو لوگ کورونا سے تو شاید بچ جائیں لیکن بھوک سے مر جائیں گے، اس پر خاصی تنقید بھی ہوئی تاہم اب اسے سراہا جا رہا ہے۔ مگر اب تو معاملہ کسی اور طرف چلا گیا ہے۔ لوگ اب مہنگائی سے پھیلنے والی بھوک سے مر رہے ہیں، روز گار ہے نہ آمدنی کا کوئی ذریعہ لیکن مہنگائی ہے کہ اسکا عفریت بے قابو ہو چکا ہے عوام بھوک سے تنگ آ کر خودکشیاں کر رہے ہیں اپنے بچوں کو مار رہے ہیں مگر اس طرف حکومت کی توجہ کم ہی نظر آتی ہے۔ گاہے بہ گاہے کابینہ کا ایک اجلاس ہو جاتا ہے، جس میں یہ نوید سنائی جاتی ہے کہ کسی کو مصنوعی مہنگائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جیسے پہلے تو مہنگائی اجازت لے کر کی جاتی رہی ہو موجودہ حکومت کی جو سب سے بڑی ناکامی ہے، وہ عوام کو آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی میں ناکامی ہے، نارووال کے جس قدیر نے تین بچوں کے ساتھ زہر کھا کے خود کشی کی، اس کا المیہ بھی یہی تھا کہ گھر میں تین دن سے روٹی نہیں پکی تھی اور بچے بھوک سے بلک بلک کر اس کا دل تڑپا رہے تھے۔ یہ کیسی مدینے کی ریاست بن رہی ہے کہ جہاں لوگ بھوک کی وجہ سے زندگی جیسی خوبصورت نعمت کو بھی اپنے ہاتھوں سے موت کی نذر کر رہے ہیں اور حاکمانِ ریاست کو اس کی خبر تک نہیں۔

اب تو یہ سوچ کر خوف آ رہا ہے کہ آگے چل کر کیا ہوگا۔ پنجاب جیسے صوبے میں کہ جہاں گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہے، ابھی سے قحط سالی کا سامان پیدا ہو رہا ہے۔ حالانکہ نئی فصل آئے ابھی تو دو مہینے بھی نہیں گزرے۔ خرابی کہاں ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں وزیروں کے بیان سنو تو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پنجاب میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، آٹے کی کسی جگہ کوئی قلت نہیں۔ بازار میں دیکھو تو وہی آٹا جسے 860 روپے فی بیس کلو تھیلہ دستیاب ہونا چاہئے تھا، عنقا نظر آتا ہے اور تیرہ ساڑھے تیر ہ سو روپے میں دستیاب ہوتا ہے جن کے گھر دانے ہیں ان کے تو کملے بھی سیانے ہیں لیکن جو بدنصیب قدیر جیسے لوگ ہیں، اُن کے لئے ستر روپے کلو ملنے والا آٹا اس زہر سے مہنگا ہو جاتا ہے جو ایک چٹکی کھانے سے ہر غم بھلا دیتا ہے۔ یہ بدترین کرپشن نہیں تو اور کیا ہے کہ حکومت فلور ملوں کو اپنے گوداموں سے سستی گندم فراہم کر رہی ہے، مگر وہاں سے جو آٹا نکلتا ہے وہ مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے کہاں ہے حکومتی رٹ اور کہاں ہے گڈ گورننس کا دعویٰ اس دن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتی کو اگر حکومت نہیں روک سکتی تو باقی جو کرپشن اور ظلم ہو رہا ہے اسے کیسے روکے گی؟ وزیر اعظم نے شاید ایک درجن سے زائد مرتبہ یہ ہدایت جاری کی ہے کہ گندم اور آٹے کے بلیک مافیا کے خلاف سخت کارروئی کی جائے مجال ہے ان کی کسی ہدایت پر پنجاب حکومت نے رتی بھر عمل کیا ہو۔ فائن آٹا تو درکنار فلور ملیں گھٹیا آٹا بھی سرکاری نرخوں پر بیچنے کے لئے تیار نہیں، حالانکہ وہ گندم کا کوٹہ سرکاری سبسڈی پر حاصل کر رہی ہیں یہ حکومت کی ناکامی ہے لیکن کوئی اس کا نوٹس لینے کو تیار نہیں۔

ایک عام تاثر یہ ہے کہ اس حکومت نے سفید پوشوں کو بھی غریبوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو اپنی سفید پوشی کا جیسے تیسے بھرم رکھے ہوئے تھے۔ اب ضروریات زندگی کے لئے اپنے وسائل کو بہت کم محسوس کر رہے ہیں سفید پوش طبقے میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے حیرت ہے کہ ایک طرف بجٹ میں اس کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں اور دوسری طرف مہنگائی کے جن کو بے قابو چھوڑ دیا گیا ہے۔ جس طبقے کے وسائل محدود ہیں، اسے جب چینی، آٹے، ادویات ا ور دیگر اشیائے خورو نوش میں بیس تیس فیصد اضافہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے تو نوبت ادھر اُدھر سے مانگنے پر آ گئی ہے۔ نجانے حکومت کے معاشی مینجرز کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ یہ عبدالحفیظ شیخ بھلا کیا جانیں کہ غربت کیا ہوتی ہے۔ انہوں نے تو ہمیشہ عیش ہی کی ہے۔ وہ مہنگائی میں دس فیصد اضافے کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں، ان کے نزدیک یہ بہت کم اضافہ ہے، لیکن اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں کہ لوگوں کی آمدنی میں تو ایک فیصد اضافہ بھی نہیں ہوا، پھر وہ یہ بوجھ کیسے برداشت کریں گے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر کے بھی اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ عوام متاثر نہیں ہوں گے تو اس کی بے حسی پر ایک تمغہئ شرمندگی تو لازمی ملنا چاہئے۔ سب سے زیادہ ظلم پنشنروں پر ڈھایا گیا ہے جو محدود پنشن میں بڑی مشکل سے گزارا کرتے ہیں ایک طرف قومی بچت سکیموں کے منافع میں تقریباً پچاس فیصد کمی کر کے اور دوسری طرف بجٹ میں پنشن نہ بڑھا کے حکومت نے ان کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے غرض آپ دیکھیں تو معاشرے کا کوئی طبقہ بھی اس وقت معاشی جبر کا شکار ہوئے بغیر نہیں رہ گیا۔

ایسے میں یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حکومت خود ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کے نرخوں میں اضافے کی منظوری دیتی ہے، بجائے روکنے کے قیمتوں میں اضافے کی چھٹی دینا پالیسی سازوں کی زمینی حقائق سے بے دردانہ لاتعلقی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب حکومت کے اپنے اعداد شمار بناتے ہیں کہ عام آدمی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، تو پھر ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت کس بنیاد پر دی جاتی ہے۔ اگر عوام کم آمدنی پر گزارا کر سکتے ہیں تو یہ کاروباری لوگ کم منافع پر گزارا کیوں نہیں کر سکتے۔ بعض ضروری ادویہ کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ کیا گیا ہے، اس کی اجازت کس نے اور کس فارمولے کے تحت دی ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے اندر بھی لگتا ہے مافیاز کے نمائندے بیٹھے ہوئے ہیں جو من چاہا اضافہ کرا لیتے ہیں جب سے پٹرول سستا کرنے پر نایاب ہونے کا واقعہ رونما ہوا، حکومت نے شاید ہر نوع کے مافیا سے ٹکر نہ لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی لئے چینی مہنگی بک رہی ہے حکومت خاموش ہے، آٹا نایاب ہو رہا ہے، حکومت چپ سادھ کر بیٹھی ہے ادویات مہنگی ہو رہی ہیں حکومت نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہے۔ ہاں البتہ ایک دو بڑھکیں ضرور سننے کو ملتی ہیں کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کو چھوڑیں گے نہیں کاش وزیر اعظم اس بات کو بھی اہمیت دیں کہ نہ صرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ بھوک سے مرتے ہیں بلکہ مہنگائی کیو جہ سے پیدا ہونے والی بھوک بھی انہیں خود کشیوں پر مجبور کر سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -