بھارت میں مسلمانوں کی بستی نذر آتش

بھارت میں مسلمانوں کی بستی نذر آتش
بھارت میں مسلمانوں کی بستی نذر آتش

  

بھارت میں متنازعہ شہریت ایکٹ کے بعد اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور نفرت انگیزی میں اضافہ ہوا۔کرونا وباء کے دوران اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار بڑھ گیا۔ اس پر بھارتی لیڈر شپ کی دیدہ دلیری، غیر انسانی رویہ اور انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پامالی بھی نظر آئی۔مغربی بنگال میں آر ایس ایس کے غنڈوں نے چند مسلمانوں کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر پوری بستی کی دکانیں جلا دیں۔ خریداری کیلئے نکلے مسلمانوں پربھی تشدد کیا گیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے اپنی رپورٹس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دہلی میں جاری مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کے گھر جلائے جانے سے پہلے لوٹ مار کی گئی۔ گھر جلانے سے پہلے ٹی وی،فریج سمیت جو گھریلو سامان لوٹا جاسکتا تھا ہندو دہشت گرد بلوائی لوٹ کر ساتھ لے جاتے تھے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران لوٹے گئے گھروں کو آگ لگا کر علاقے کے دوسرے گھروں پر دھاوا بولا گیا۔بھارت میں انتہا پسندوں کا نشانہ بننے والے 22 سالہ محمد شاہ کا کہنا تھا کہ ان کے گھر میں شرپسندوں کے حملوں کے دوران ایک چٹائی رہ گئی تھی جو اب بارش کے پانی میں ڈوب گئی ہے۔ بھارت میں ہندو دہشت گردوں کے حملوں میں 47 مسلمان شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ پہلے بھی کوئی بہت زیادہ پیار بھرا سلوک نہیں ہوتا تھا۔ مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری گردانا جاتا تھا مگرچین سے شکست کھانے بعد بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ چین پاکستان دوستی کی وجہ سے بھارتی مسلمان انتہا پسند ہندوؤں کا آسان شکار ہے۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی کا یہ کہنا ہے کہ تمام انسان برابر نہیں۔ خاص طورپر مسلمان برابری والی کیٹگری میں نہیں آتے۔ مشیر برائے یو این سیکرٹری جنرل ایڈم ڈپنگ نے بھارت میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں سے ناروا سلوک عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کی طرف سے سبرامنیم کے بیان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ہندو قوم پرست کرونا وائرس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ یہ قوم پرست آن لائن پلیٹ فارمز اور کچھ قومی میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں پر اس وبا کو پھیلانے کا الزام لگا رہے ہیں۔پڑھے لکھے اور اعتدال پسند لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ بھارت کو ایک 'ہندو راشٹر' بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سیکولر اور ہم آہنگی پر مبنی اساس کو مجروح کیا ہے۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی کئی ایسی جعلی اور مشکوک ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مسلمان ریڑھی بان کرونا وائرس پھیلانے کے لیے پھل اور سبزیاں چاٹ رہے ہیں اور لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔شمالی بھارت کے ایک گاؤں میں رات گئے غیار حسن کے ہندو پڑوسیوں نے ان کے گھر پر پتھراؤ کیا اور ان کی ورکشاپ کو آگ لگا دی۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کیوں کہ ان کے بیٹے نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کو 'لائیک' کیا تھا۔ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا اور فیس بک کی وہ پوسٹ، جس کو غیار حسن کے 19 سالہ بیٹے نے لائیک کرنے کا 'جرم' کیا تھا، میں اس وبا کے دوران بھارت کی مسلم اقلیت کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی تھی۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران اے ایف پی کی فیکٹ چیک ٹیم نے سینکڑوں ایسی سوشل میڈیا پوسٹوں کی چھان بین کی ہے، جن کا استعمال کرتے ہوئے بھارت میں کرونا وائرس کے حوالے سے مسلمانوں کو غلط طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔اخبارات اور ٹیلی ویڑن چینلز کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور کشیدگی بڑھانے کا الزام عائد کیا گیا۔ بعض اینکرز نے تو تبلیغی جماعت کے ارکان کو 'انسانی بم' تک قرار دے دیا۔اس طرح کی غلط معلومات پھیلنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور غصے کی لہر نے جنم لیا اور بھارت بھر میں مسلمان ٹرک ڈرائیوروں اور خانہ بدوشوں پر حملے کیے گئے اور مسلمان دکانداروں کا بائیکاٹ اور انہیں دھمکیاں دینے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑا۔

بھارت کے تقریباً 20 کروڑ مسلمان طویل عرصے سے مودی کے دور حکومت میں بڑھتی ہوئی نفرت اور تشدد کی شکایت کر رہے ہیں۔2002 میں جب نریندر مودی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، مذہبی فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے۔وزیر اعظم بننے کے بعد مودی کے دورِ حکومت میں 'گاؤ رکشک' کے نام پر کئی مسلمانوں کو مشتعل ہجوم نے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ گذشتہ سال مودی کی دوسری مدت حکومت بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی خود مختار حثیت کو منسوخ کرنے کے ساتھ شروع ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے شہریت کے متنازع قانون کے ذریعے مسلمان آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔

دہلی میں بھی کچھ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔شمال مشرقی دہلی میں گزشتہ دنوں فساد سے متاثرہ مسلمانوں کو کرونا وائرس کی وجہ ایک اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مصطفی آباد کے مسلمانوں پر پولیس نے کورونا وائرس پھیلانے کا الزام عائد کر دیا اور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریاں شروع کر دیں۔ مصطفیٰ آباد کی خواتین کا کہنا ہے کہ دہلی تشدد کے بعد ابھی ہم سنبھلے ہی نہیں تھے کہ اب پولیس نے کرونا کو لے کر ہمیں ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہاں کے مسلمان دہلی میں کرونا پھیلا رہے ہیں اس لئے سب کو جیل میں ڈالا جائے گا۔ خواتین نے مودی سمیت دیگر حکام سے اپیل کی کہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کو روکا جائے اور جو نوجوان گرفتار کئے گئے ہیں ان کو رہا کیا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -