ضلع مہمند،قومی جرگے کا رکن قومی اسمبلی ساجد خان سے ملاقات

ضلع مہمند،قومی جرگے کا رکن قومی اسمبلی ساجد خان سے ملاقات

  

ضلع مہمند(نمائندہ پاکستان)خاصہ دار تنخواہوں کی بحالی کے سلسلے میں قومی جرگے کا ایم این اے ساجد خان کے ساتھ ان کے رہائش گاہ پر ملاقات۔جرگہ عمائدین نے ایم این اے کو علاقے میں درپیش خاصہ دار تنخواہوں کے بندش سے آگاہ کر دیا۔قوم مسئلے کے حل کرنے میں بھر پور کردار ادا کرینگے۔قبائلی مشران کو ایک سے تین تک نوکریاں مراعات کی شکل میں دینا جائز ہے۔مگر تین سے زیادہ نوکریاں دلوانا قوم کے ساتھ نا انصافی ہوگا۔مسئلے کے حل کے لئے 6 اگست کو پشاور میں سٹینڈنگ کمیٹی کا میٹنگ بلایا ہے۔ایجنڈا میں خاصہ دار تنخواہوں سمیت دوسرے مسائل زیر بحث ہو نگے جبکہ مشران کے پیچھے چھپے سرکاری اور غیر سرکاری درجنوں بھوت تنخواہیں وصول کرنے والے لوگوں کو بے نقاب کر ینگے۔اور 2008 سے 2018 تک برطرف خاصہ داروں کے تنخواہیں وصولی کا لسٹ سٹینڈنگ کمیٹی میں پیش کر ئینگے۔چیرمین سٹینڈنگ کمیٹی ایم این اے ساجد خان۔تفصیلات کے مطابق گزشہ ماہ سے خاصہ دار تنخواہوں کے بندش اور ان کے خلاف احتجاجی دھرنوں کے سلسلے میں ملک آیاز خان،ملک سلطان،ملک اورنگزیب،ملک زیارت گل،ملک نثار احمد،ملک سلیم سردار،ملک جمشید،ملک کابل سیداورملک موسم خان کے سربراہی میں قومی جرگہ نے ایم این اے ساجد خان کے ساتھ ان کے رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ جرگہ مشران نے ایم این اے کو خاصہ دار تنخواہوں کے بندش سے آگاہ کیا۔اس موقع پر قومی مشران نے کہا۔کہ خاصہ داریاں ہمارے قومی مراعات ہیں۔اوریہ مراعات علاقے کے عوام اور مشران کو بیش بہا قربانیوں کے صلے میں دیا گیا ہے۔چونکہ گزشتہ ماہ سے خاصہ دار تنخواہیں رک لیا گیا ہے۔جن کے لئے آپ بحثیت ایک عوامی نمائندے کردار ادا کریں۔قومی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین سٹینڈنگ کمیٹی ایم این اے ساجد خان نے کہا کہ دوسرے مسائل سمیت خاصہ دار تنخواہوں کے مسئلے کے حل کے لئے 6 اگست کو اسلام آباد کے بجائے پشاور میں سٹینڈنگ کمیٹی کا میٹنگ بلایا ہے۔جس میں چند قومی مشران کوبھی شریک کر ینگے۔اور مسئلے کے لئے ایک پائیدار حل نکالیں گے۔جبکہ میٹنگ میں 2008 سے 2018 تک برطرف خاصہ داروں کے تنخواہوں کی وصولی اور خرد برد سمیت درجنوں بھوت تنخواہیں وصول کرنے والے زیر بحث لائیں گے۔اورمتاثرہ، مستحق افرادکے حقوق کے لئے بحثیت ایک عوامی نمائندے مسئلے کے حل کے لئے وفاقی اور صوبائی قیادت کے علاوہ پولیس کے اعلی حکام سے بات چیت کروں گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں خاصہ دار تنخواہوں میں بے انتہا کرپشن ہوئے ہیں۔جبکہ ایک سے تین تک نوکریاں قومی مشران کو مراعات کی شکل میں دینا جائزہیں مگر مشران کے پیچھے چھپے ہوئے کرپٹ اوردرجنوں تنخواہیں وصول کرنے والے سمیت بیواؤں اور لاعلم افراد کے شناختی کارڈ استعمال کرنے والے لوگوں کو بے نقاب کر ینگے۔جبکہ سابقہ گورنر شوکت اللہ خان کو مہمند کے قومی مسائل میں اثراندازی سے باز آنا چاہئے۔کیونکہ مہمند قوم اپنے مسائل حل کرنے کا صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -