مردان،سینئر افسران سمیت کئی ملازمین انتقام کی بھینٹ چڑھنے لگے

  مردان،سینئر افسران سمیت کئی ملازمین انتقام کی بھینٹ چڑھنے لگے

  

پشاور(پ ر)عبد الولی خان یونیورسٹی میں سینئر اور تجربہ کار افسران سمیت کئی ملازمین ایک مرتبہ پھر انتقام کی سولی پر چڑھنے کے قریب ہیں جنہوں نے سابق امپورٹیڈ وی سی کی پالیسوں سے اختلاف کیا تھا یا اسکی مالی و انتظامی بیقائدگیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا، پاکستان کے نظام کا المیہ اور لطیفہ دیکھیئے کہ یہ ساری کاروائی ایک ایسے شخص کی ایما پر کی جارہی ہے جس پر یونیورسٹی کے فنڈز میں سنگین بیضابطگیوں کے الزام میں اعلی سطحی تحقیقات ہو رہی ہیں بلکہ اس شخص نے اپنے قیام کی مدت کے دوران یونیورسٹی کا معیار 12 نمبر سے گرا کر 56 ویں نمبر پر لے آیا، یونورسٹی میں منافقت کی سیاست اور گروپ بندی کی بنیاد رکھی، اس کے ان ہتکنڈوں نااھلیت اور مالی و انتظامی بیقائدگیوں کی وجہ سے نامور جامعہ کی ساکھ خاک میں مل گئی، موصوف نے سینڈیکیٹ میں اپنے قریبی دوستوں کو بھی نمائیندگی دی جس میں پمرا کے ایک سابق چیئرمین کا نام بھی لیا جارہا ہے، موصوف نے دوسال قبل اپنے مخالفین کے خلاف مختلف من گھڑت الزامات کے تحت انکوائری کنڈکٹ کی تھی جس کا مقصد مخالفین کو راستے سے ہٹانا تھا پشاور ہائی کورٹ نے یونورسٹی کے تمام اقدامات اور رولز کو غیرقانونی قرار دے کر رد کیا تھا جس پر انکوائری رپورٹ بھی شامل تھی مگر سابق وی سی نے جامعہ کے فنڈ سے انتہائی مہنگا وکیل کرکے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی،سپرئم کورٹ نے قرار دیا کہ انکوائری رپورٹ کو سامنے آنے دیا جائے اس کے فیصلوں سے اختلاف رکھنے والے ملازمین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، اب دوسال سے زیر التوا اس انکوائری رپورٹ کا نوٹیفکیشن کسی بھی وقت جاری ہوسکتا ہے، سابق وی سی کے اقدامات اور غلط پالیسیوں کے باعث ایک طرف یونیورسٹی کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف سیاسی طور پر حکمران جماعت تحریک انصاف خصوصا" وزیراعظم عمران خان کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ ان تمام حالات کا ذمہ دار سابق امپورٹیڈ وی سی خود کو وزیراعظم، وزیراعلی، سپیکر قومی اسمبلی اور دیگر کئی وزرا اور بیوروکریٹس کا قریبی دوست قرار دیتا ہے، بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یونیورسٹی میں ہونے والی کرپشن کے پیسوں میں اوپر تک حصہ جاتا تھا اس لیئے تمام مقتدر قوتوں نے اس معاملے پر انکھیں بند رکھی ہیں، لیکن سینئر افیسرز کا موقف ہے کہ اعلی حکومتی شخصیات کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا، گورنر شاہ فرمان جو کہ جامعہ کے چانسلر ہیں کو بھی حقائق سے بے خبر رکھا گیا ہے، مگر اس کا نقصان نہ صرف حکومتی شخصیات اور پارٹی کو پہنچ رہا ہے بلکہ ممکنہ طور پر سامنے انے والی رپورٹ کے نتیجے میں ایک نئی قانونی اور عدالتی جنگ شروع ہوگی جس میں اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ صوبے کی دیگر یونیورسٹاں بھی اتحاد بنا کر مافیا کے خلاف میدان میں اتر آئیں، اگر ایسا ہوگیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ طلبہ خاموشی کے ساتھ یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے،آخر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابق امپورٹیڈ وی ڈی کے حامی تحریک انصاف کے کارکنوں کو خفیہ دستاویزات اور فیصلوں کا قبل از وقت علم کیسے ہو رہا ہے،؟

مزید :

پشاورصفحہ آخر -