قبائلی اضلاع کو نظر انداز کئے جانے، مہنگائی، کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

قبائلی اضلاع کو نظر انداز کئے جانے، مہنگائی، کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

  

باجوڑ (نمائندہ خصوصی) باجوڑ، پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام باجوڑ پریس کلب خار میں موجودہ حکومت کے جانب سے قبائلی اضلاع کو نظر انداز کیے جانے، مہنگائی، کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ، فاٹاانضمام کے وقت کی جانے والے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے تحریک چلانے کا اعلان۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام باجوڑ پریس کلب خار میں موجودہ حکومت کے جانب سے قبائلی اضلاع کو نظر انداز کیے جانے، مہنگائی، کرپشن کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی نائب صدر اور سابقہ ایم این اے سید اخونزادہ چٹان، شہاب الدین شہاب، ملک خانزیب سمیت دیگر رہنماؤں نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ فاٹا انضمام کے وقت کی جانے والے وعدوں کو پورا کرنے کے بجائے ہم پر ٹیکسز لاگو کردیئے ہیں۔مدینہ کے ریاست والوں نے قبائلی اضلاع کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے۔قبائلی عوام کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ سالانہ سو ارب روپے ملنے سمیت ان پر کسی قسم کے ٹیکسز لاگو نہیں ہوگے مگر یہاں کہانی برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں فاٹا انضمام پر عملدرآمد کیلئے تحریک کا آغاز کرچکے ہیں۔ یہ آغاز ہے انشا اللہ انجام اپنے مقاصد کا حصول ہوگا۔ہم اس وقت ٹیکسز ادا نہیں کریں گے جب تک حکومت قبائلی اضلاع کیلئے این ایف سی ایوارڈ کی ادائیگی نہیں کرے گی۔مدنی ریاست کے دعویداروں پر کرپشن کے کیسز ہیں، سرکاری ہیلی کاپٹر کا کیس ہے، ہیلی کاپٹر کو کباڑ بنادیا، کون پوچھے گا۔حکومت نیب کے ذریعے معزز سیاستدانوں کی کردار کشی کررہی ہے، احتساب کے نام پر کردار کشی بند کردیں۔ صوبائی وزیر صحت تیمور خان جھگڑا کے دورہ باجوڑ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید اخونزادہ چٹان نے کہا کہ صوبائی وزیر صحت باجوڑ کیلئے کوئی پیکج لانے کے بجائے صرف ایم ایس کے تبدیلی پر اکتفا کیا حالانکہ یہ کام وہاں سے بھی کرسکتے تھے۔نئے ایم ایس سابقہ ادوار میں یہاں ہسپتال کے انتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور کرپشن کے بادشاہ کے طور پر شہرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ میں پارلیمنٹرین اپنا کام بھول کر رشوت کیلئے پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خار ہسپتال کے تباہی میں موجودہ ایم این ایز کا کردار واضح ہے، صرف گذشتہ چند سالوں میں 8 ایم ایس تبدیل ہوچکے ہیں، صرف چہرے تبدیل ہورہے ہیں، قصہ وہی پرانا۔موجودہ ڈی ایچ او او ایم ایس خار ہسپتال کے پوسٹ پر نان لوکل جونیئر کو تعینات کرکے لوکل سنیئرز ڈاکٹروں کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -