مولانافضل الرحمان کے بھائی کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر کس نے لگوایا؟

مولانافضل الرحمان کے بھائی کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر کس نے لگوایا؟
 مولانافضل الرحمان کے بھائی کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر کس نے لگوایا؟

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمان کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کرنے پر نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔

مختلف سیاستدان اور سول سوسائٹی کے ارکان اس اقدام کو خلاف قانون قرار دے رہے ہیں۔ 

ایس جی اے اینڈ سی جی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ انیسیوں گریڈ کے کے پی کے کے صوبائی انتظامیہ کےافسر ضیاالرحمان اس وقت کراچی  کے وسطی ضلع میں بطور ڈپٹی کمشنر تعینات ہیں  اور ان کے تبادلے کے احکامات ان کے محکمے نے 23 جولائی کو جاری ہوئے تھے۔

سیاسی بنیادوں پر تبادلے کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے ایس جی اے اینڈ سی جی  کے عہدیدار نے مزید کہا کہ سندھ ہائیکورٹ پہلے ہی فیصلہ سنا چکی ہے کہ کوئی بھی صوبائی افرسندھ میں تعینات نہیں ہوسکتا۔ سندھ ہائیکورٹ کے حکمنامے کے بعد سندھ میں کام کرنے والے متعدد لوگوں کو        پنجاب ، کے پی اور بلوچستان واپس بھجاگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیا الرحمان کی سندھ میں بطورڈپٹی کمشنر تعیناتی کا فیصلہ حال ہی میں مولانا فضل الرحما ن اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیاگیا۔ اسی ملاقات میں ہی دونوں رہنماوں نے تحریک انصاف حکومت کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کے ایجنڈا پر بھی بات کی ۔

ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ اس موقع پر فضل الرحماان نے سابق صدر زرداری سےکہا کہ " کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت ان کے بھائی کو ڈپٹی کمشنر بنانے سے انکار کررہی ہے اس لیے وہ انہیں سندھ میں کہیں سہولت فراہم کریں"۔ذرائع کے مطابق اس کے بعد آصف زرداری نے سے کہا کہ وہ اس حوالے سے کوئی حل نکالے۔

ذرائع نے کہا کہ ابتدامیں مرادعلی شاہ نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جس کے بعد قانونی آرا لینے کے بعد انہوں نے ضیا کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ فضل الرحمان اس سے قبل بھی وزیراعلیٰ سے وقت طلب کرتے رہے ہیں تاہم وزیراعلیٰ نے کچھ نہیں کیاالبتہ اب انہوں نے پارٹی کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

ایس جی اے اینڈ سی ڈی کے ایک اہلکار کے مطابق  ابتدا میں سندھ حکومت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ضیا کی خدمات ڈیپوٹیشن پر لینے کے حوالے سےخط لکھا تھا۔

سندھ میں ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والے آفیسرز کے خلاف کئی کیسز دائرکرنے والے ایڈووکیٹ جبار میمن نے کہا یہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ کسی ایک صوبے کا انتظامی افسر سندھ میں کیونکر تعینات ہوسکتا ہے؟

ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ایس ایس اور وفاقی پبلک سروس کمیشن آفیسرز ہی ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں تعینات ہوسکتے ہیں۔

 

مزید :

قومی -علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -ڈیرہ اسماعیل خان -سندھ -کراچی -