ٹی ٹونٹی کپ اور ہماری تیاریاں۔۔۔

 ٹی ٹونٹی کپ اور ہماری تیاریاں۔۔۔
 ٹی ٹونٹی کپ اور ہماری تیاریاں۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ان دنوں ویسٹ انڈیز کے دورے پر پہنچ چکی ہے جہاں شروع ہونے والی پانچ ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کا پہلا میچ بار باڈوس کے مقام پر کھیلا جائے گا۔قومی ٹیم کا اس ٹور سے قبل انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے پہلے تین روزہ میچز میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ذلت آمیز شکست اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ سیریز سے قبل انگلینڈ کی سینئر ٹیم کو کو رونا وائرس کے باعث قرنطینہ اختیار کرنا پڑ گیا اور اچانک نمودار ہونے والے نئے انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے ہماری قومی کر کٹ ٹیم کو شکست سے دوچار کر دیا تھا۔ بعد ازاں ٹی ٹونٹی میں پہلے میچ میں فتح کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کا مورال اس طرح گرا کہ دوسرا اور تیسرا ٹی ٹونٹی ہار کر یہ سیریز بھی ان کی جھولی میں ڈال دی۔ہاں اس شکست کو ذلت آمیز اس وجہ سے نہیں کہہ رہا کہ انگلینڈ کی ٹی ٹونٹی ٹیم سینئرز پر مشتمل تھی جو قرنطینہ اختیار کرنے کے بعد ٹیم میں واپس آئے تھے لیکن ہار تو ہار ہے چاہے آپ انگلینڈ سے ہارو،بنگلہ دیش سے ہارو،افغانستان یا زمبابوے سے ہارو ہار کا یہ داغ تو آپ کے ماتھے پر ہی لگتا ہے۔اب چونکہ انگلینڈ کے ساتھ سیریز ختم ہو چکی اور قومی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے شہر بار با ڈوس بھی پہنچ چکی ہے۔سیریز سے قبل میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ قومی کرکٹ ٹیم کا ویسٹ انڈیز کے خلاف ریکارڈ اچھا ہے لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ویسٹ انڈیز کے دورے پر ان دنوں موجود آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ انہوں نے کیا حال کیا ہے۔آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو ٹی ٹونٹی سیریز میں چار،ایک سے شکست دے کر انہوں نے پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کو خبر دار کیا ہے کہ سیریز دلچسپ اور کانٹے دار ہو گی ہمیں ترنوالہ سمجھنے کی بجائے آسٹریلیا سے سیریز بارے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتا کہ فخر زمان اور دیگر آؤٹ آف فارم کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں رکھ کر کیا نتائج لئے جا سکتے ہیں۔انگلینڈ کے خلاف دوسر ے ٹی ٹونٹی اور تیسرے ٹی ٹونٹی میں جو ان کی پرفارمنس رہی ان سے لاکھ درجے بہتر تو انگلینڈ کے معین علی نے اپنے آپ کو ثابت کیا۔اعظم خان کی فٹنس دیکھ کر مجھے شرجیل خان جنہوں نے پی ایس ایل 6میں اسلام آباد جیسی مظبوط ٹیم کے خلاف سینچری سکور کی تھی پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ پرفارمنس دے کر بھی ٹیم میں ہونے کے باوجود باہر بیٹھے رہے ان کو اور اعظم خان کو ذہن میں رکھ لیں اور اندازہ لگائیں کہ کس کی فٹنس بہتر ہے۔سفارشی کلچرہمارے ہاں آج بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے جہاں میرٹ پر آنے والے پر سفارش والے یا پیسے والے کو فوقیت دی جاتی ہے۔اگر یہ سب اسی طرح چلتا رہا تو ہماری ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کی تیاریاں خاک میں مل جائیں گی اور اچھی ٹیم بننے کی بجائے ہم ان ٹیموں میں شامل ہو جائیں گے جو اس عالمی کپ میں سب سے پہلے باہر ہوں گی۔آپ کب تک رضوان اور بابر اعظم پر بھروسہ کرتے رہیں گے سلیکٹرز کو چاہئے کہ اب تجربات کی بھینٹ چڑھنے کی بجائے عملی اقدامات کریں بھول جائیں کون کس کا بیٹا ہے،کس کی سفارش ہے بس میرٹ کو ترجیح دیں۔مجھے حیرانگی ہوتی ہے جو کوچز کو بُرا کہتے ہیں بھائی ان کاکام گراؤنڈ سے باہر کا ہے کھلاڑیوں نے اندر جا کر پرفارم کرنا ہے کوچز نا ہی کھلاڑیوں کو بُرا بھلا کہہ سکتے ہیں نا ہی ان کے خلاف ایکشن لینے کا سوچ سکتے ہیں۔خیر اب ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی سیریز سے قبل کھلاڑیوں کو اس سیریز میں کامیابی کے لئے اپنی حکمت عملی پر غور کرنا ہو گا۔کسی کے پہلے یا بعد میں آجانے سے پرفارمنس پر اثرنہیں پڑنا چاہئے۔   

مزید :

رائے -کالم -