پارلیمنٹ کے ارکان کی پنشن

 پارلیمنٹ کے ارکان کی پنشن
 پارلیمنٹ کے ارکان کی پنشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یہ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے اور اس کی وجہ سے تمام شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں آ گئی ہیں، پروپیگنڈے کے میدان میں اس سے بڑا ہتھیار کوئی نہیں، ہمارے ہاں بہت سے لوگ پی ٹی آئی کی کامیابی کا کریڈٹ بھی سوشل میڈیا کو دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا بیک وقت بہت کارآمد چیز بھی ہے اور خطرناک بھی، اب یہ میڈیا استعمال کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ آج اس کے ایک منفی پہلو کا ذکر کرتے ہیں۔سوشل میڈیا فیک نیوز اور مثبت یا منفی پروپیگنڈے کے لئے ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ہے، نئی نسل تو اس سے گمراہ ہو رہی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے اور تجربہ کار لوگ بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں، تین چار ماہ پہلے میرے ایک دوست نے مجھے ایک آئٹم بھیجا جس میں اینکر سمیع ابراہیم کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ نیویارک میں پی آئی اے کا روز ویلٹ ہوٹل مریم نواز کے بیٹے جنید کو خفیہ طریقے سے فروخت کر دیا گیا ہے۔ سمیع ابراہیم کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں وہ شورکوٹ کے رہنے والے ہیں اور آجکل تو اتفاق سے ایف 11 اسلام آباد میں اُسی سٹریٹ میں قیام پذیر ہیں جہاں میں پچھلے بیس سال سے رہ رہا ہوں، پتہ نہیں انہوں نے یہ بے بنیاد خبر کیسے اور کیوں چلا دی، حقیقت یہ ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل اب غالباً کسی امریکی ادارے کو لیز پر دیا جا رہا ہے یا دیا جا چکا ہے۔


اِسی طرح آجکل سوشل میڈیا پر ایک پٹیشن گردش کر رہی ہے جس میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں اور دوسرے Benefits کا ذکر کیا گیا ہے اور پڑھنے والوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں چونکہ یہ قومی خزانے کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ مجھے یہ پٹیشن چوتھی پانچویں دفعہ ملی ہے اور پھر میں چونکہ سروس کے دوران چھ سات سال پارلیمنٹ کی کوریج کرتا رہا ہوں لہٰذا مجھے اس میں دلچسپی ہے۔ اچھی بات ہے کہ جہاں کہیں قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اُس کی نشاندہی کی جائے اور رائے عامہ اُس کے خلاف ہموار کی جائے لیکن اس میں اگر جھوٹ شامل کر لیا جائے تو سارا مقصد فوت ہو جاتا ہے اس پٹیشن میں پہلا پوائنٹ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان کی پینشن ختم کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سراسر غلط بیانی ہے، پارلیمنٹ کے ارکان کوئی پنشن نہیں لے رہے لیکن بہت سے لوگ اس پر یقین کر رہے ہیں اور قومی خدمت کے طور پریہ پٹیشن آگے بھیج رہے ہیں حتیٰ کہ ہمارے یار دیرینہ ڈاکٹر رسول بخش رئیس جیسے دانشور نے بھی اپنے ایک کالم میں اِس پنشن کا رونا رویا ہے۔
پارلیمنٹ نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے بارے میں ایک کتابچہ شائع کیا ہوا ہے اور اس میں شامل تمام معلومات پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پربھی دستیاب ہیں، اس کتابچے کے مطابق پارلیمنٹ کے سابق ارکان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے لاؤنج استعمال کر سکتے ہیں اور ایوان کی کارروائی دیکھنے کے لئے انہیں ایک مستقل پاس بھی ایشو کیا جاتا ہے، وہ ایئرپورٹس پر وی آئی پی لاؤنجز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ فیڈرل گورنمنٹ کی لاجز اور گیسٹ ہاؤس میں نارمل کرایہ ادا کرکے رہائش رکھ سکتے ہیں لیکن اس میں پارلیمنٹ لاجز شامل نہیں،اس کے علاوہ  انہیں سرکاری پاسپورٹ ایشو کیا جا سکتا ہے۔ پینشن کا کہیں ذکر نہیں۔


پٹیشن میں ایک پوائنٹ یہ ہے کہ جن لوگوں کا غیرقانونی کاموں اور جرائم کے حوالے سے ریکارڈ خراب ہے انہیں ممبر شپ کا موقع نہیں دینا چاہئے، شاید اس پٹیشن کے مصنف کو یہ علم نہیں کہ جو لوگ قومی یا صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑتے ہیں وہ تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن کو پیش کرتے ہیں اور کمیشن انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے اس کے علاوہ ان کے مخالفین کسی بے ضابطگی کا معاملہ عدالت یا الیکشن کمیشن میں اُٹھا سکتے ہیں لہٰذا یہ ایک بے معنی نقطہ اُٹھایا گیا ہے اور اس طرح کی کچھ اورباتیں جیسے کہ بجلی، پانی اور راشن الاؤنس بھی ختم کرنے کا کہا گیا ہے یہ بات مضحکہ لگتی ہے، پتہ نہیں پارلیمنٹ کے ارکان کو کونسا راشن دیا جاتا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کی کینٹین پر مفت کھانا دیا جاتا ہے سوچنے کی بات ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے ارکان کینٹین میں کھانا کھاتے ہیں؟ پارلیمنٹ کے ارکان کو رکنیت کے دوران بہت سی سہولتیں ملتی ہیں مثلاً اُن کو باقاعدہ تنخواہ اور کئی الاؤنسز دیئے جاتے ہیں، فیڈرل لاجز میں رہائش فراہم کی جاتی ہے لیکن اِس میں کوئی غیرقانونی بات نہیں دنیا بھر میں پارلیمنٹ کے ارکان کو کچھ مراعات ملتی ہیں اور ملنی بھی چاہئیں کیونکہ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونا کوئی آسان کام نہیں اور یہ ہمہ وقتی کام ہے ہر سرکاری ملازم کو تنخواہ کے علاوہ بہت سے الاؤنسز ملتے ہیں تو پارلیمنٹ کے رکن کو کیوں نہیں۔ 


اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پارلیمنٹ کے ارکان کو جو مراعات دی جا رہی ہیں وہ بہت مناسب ہیں اور اُن میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں بلکہ غور کریں تو کئی چیزوں پر اعتراض لگ سکتا ہے لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کچھ ناجائز فائدے صرف پارلیمنٹ کے ارکان اُٹھا رہے ہیں کیا دوسرے طبقوں یعنی بیوروکریسی، عدلیہ اور فوج میں لوگ جو فائدے اُٹھا رہے ہیں کیا  اُن سب کا پورا جواز موجود ہے۔ کیا اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی چودہ پندرہ لاکھ تنخواہ اور دس لاکھ کے قریب پنشن اور  بیوروکریٹس کیلئے ڈیڑھ کروڑ کی گاڑی اور دو پلاٹوں کا جواز بنتا ہے۔میں تو ایک حالیہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں ضروری ہے کہ تمام طبقوں کے Benefits کو Rationalize کیا جائے لیکن کسی ایک طبقے کو برا بھلا کہنا وہ بھی غلط الزامات لگا کر مناسب نہیں لگتا۔ دراصل دوسرے طبقوں کے سلسلے میں ہر پڑھے لکھے آدمی کا کوئی نہ کوئی مفاد وابستہ ہوتاہے اور اُن پر تنقید میں کچھ خطرات بھی ہیں لیکن سیاستدان Punching Bag  ہیں اُن پر ہر الزام آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے سیاستدانوں کو بُرا بھلا کہنا ثواب کا کام ہے  اگرچہ وہ اپنے کرتوتوں سے تنقید کا کافی جواز بھی مہیا کرتے ہیں لیکن اُن کی کھال بھی بہت موٹی ہوتی ہے وہ سب کچھ سہہ جاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -