ڈی ایچ کیو ہسپتال سے نومولود بچی کے اغوا میں 3 نرسیں ملوث نکلیں

ڈی ایچ کیو ہسپتال سے نومولود بچی کے اغوا میں 3 نرسیں ملوث نکلیں
ڈی ایچ کیو ہسپتال سے نومولود بچی کے اغوا میں 3 نرسیں ملوث نکلیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

قصور (ویب ڈیسک) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال قصور سے نومولود بچی کے اغوا میں 3 نرسیں ملوث نکلیں۔ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ واقعے کی انکوائری کے لیے 5 رکنی کمیٹی بنائی گئی کمیٹی کے روبرو نرس گلشن نے بتایا کہ اس کا بھائی ایک اعلیٰ سرکاری افسر ہے اور وہ بے اولاد ہے، وہ اپنے بھائی کو بچی دینا چاہتی تھی۔ بچی کوبغیراجازت ڈی ایچ کیو اسپتال قصور سے دوسرے ہسپتال شفٹ کرنے پر آیاکوبرطرف کردیاگیا۔

جیو نیوز کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور ڈاکٹر فاروق نے بتایا کہ 21 جولائی کی صبح ایک نامعلوم عورت نومولود بچی کو ایمرجنسی میں چھوڑ کر چلی گئی تھی، ڈیوٹی پر موجود نرس رفعت نے ساتھی نرس گلشن کو نومولود بچی کے بارے میں بتایا، نرس گلشن نے بچی کو اٹھایا اور اپنی بھانجی نرس عنبرین کے ساتھ سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔ 

ایم ایس ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ رفعت، گلشن اور عنبرین تینوں ڈی ایچ کیو کی 17 ویں سکیل کی نرسیں ہیں، بچی کے اغوا کے بعد سکیورٹی گارڈ نے شور مچایا کیونکہ سکیورٹی گارڈ نومولود بچی کو گود لینا چاہتا تھا، سکیورٹی گارڈ کے شور مچانے پر نرس گلشن اور نرس عنبرین کچھ دیر بعد بچی کو واپس لے آئیں۔ 

ڈاکٹر فاروق کے مطابق ابتدائی انکوائری رپورٹ سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق تینوں نرسیں بچی کے اغوا میں ملوث پائی گئی ہیں، تینوں نرسوں کےخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔