خواتین کی خودمختاری اور پنجاب حکومت

خواتین کی خودمختاری اور پنجاب حکومت
خواتین کی خودمختاری اور پنجاب حکومت

  

آج کل پاکستان سمےت بےن الاقوامی سطح پر” خواتین کی خود مختاری“ Women Empowermentکو از حد اہمےت کے حامل مسئلے کے طور پرلےا جارہا ہے اورسےاست دانوں اوردانش ور طبقے سمےت میڈےا مےںاس حوالہ سے بحث راقم الحروف سمےت بہت سے لوگوں کی عام دلچسپی کا موضوع بن چکی ہے۔ اس تناظر مےںہم نے بھی اپنے محدود وسائل کے دائرہ مےں رہتے ہوئے اس امر کا جائزہ لےنے کی کوشش کی کہ ہماری منتخب حکومتےں عوامی دلچسپی کے حامل اس اہم مسئلہ کی طرف کتنی توجہ دے رہی ہےں۔ ہمےں صوبہ پنجاب کے اےک عام شہری کی حےثےت سے خوشگوار حےرت کا سامنا کرنا پڑا جب ہمارے ناچیز مطالعہ نے ہمےں بتاےا کہ اپنے فعال اور وژنری وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قےادت مےں موجود ہ پنجاب حکومت خواتےن کے حقوق کی طرف روز اول سے ہی انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

 وزیر اعلیٰ کی اس اہم موضوع سے ذاتی دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگاےا جا سکتا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ روا رکھے گئے کسی ظلم ےا زےادتی کے بارے مےں جانتے ہی بذات خودموقع پر جا پہنچتے ہےں اور شکاےت ےا زےادتی کے فوری ازالہ کےلئے موقع پر ہی احکامات صادر کرتے ہےں۔شہباز شریف کی ےہ فعالےت چند لوگوں کےلئے اس طرح شکاےت کا باعث بھی بن جاتی ہے کہ ان کی وجہ سے متاثرہ فریق میڈےا مےں گفتگو کا موضوع بن کر نفسےاتی اور معاشرتی نوعےت کے مسائل سے دو چار ہوجاتا ہے۔ےہاں موجودہ صوبائی حکومت کے ان اقدامات کا اےک اجمالی جائزہ پےش کےا جارہا ہے جو Women Empowermentکی حالےہ تحریک کے حوالے سے اہمےت کے حامل ہےں۔

 موجودہ صوبائی حکومت خواتین کے بہتر مستقبل کو اپنی ترجیحات مےں اولین مقام دے کر پہلے دن سے ہی اس حوالے سے مصروف عمل ہے اور قلیل ترین مدت مےںناصرف خواتین کوسماجی ،سےاسی اور معاشی سطح پر مضبوط کرنے کےلئے کئی مو¿ثر اور نتیجہ خےز اقدامات اٹھائے بلکہ خواتےن کی ترقی اوران کے محفوظ مستقبل کوےقینی بنانے کےلئے رواں سال ” وےمن اےمپاورمےنٹ پےکےج ©“کا اعلان بھی کردےا گےا ہے جس کے تحت حاصل کردہ خصوصی مراعات ہماری خواتین کو اپنے پاﺅں پہ کھڑاہو نے کے قابل بناسکےں گی ۔

علاوہ ازیں ہمارے معاشرے مےں رائج قبیح روائج اور قباحتوں کے باعث موروثی جائےداد کی تقسےم کے ضمن مےںخواتےن کوجن عمومی مسائل کا آئے روزسامنا کرنا پڑتا تھا،وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہداےات پر اُن کے تدارک کےلئے خاص طور پرقانون مےں ترمےم کی سفارش کی گئی ہے تاکہ ان کے وراثتی حق کو تحفظ دےا جا سکے۔اس اقدام کے تحت گھرےلو تشدد سمےت صنفی امتےاز پر مبنی پُر تشدد روےہ کا شکار بننے والی خواتین کو تحفظ فراہم کےا جا سکے گا ۔

 مزید بر آںمہنگائی کے اس دور مےں معاشی حالات کو بہتر بنانے کےلئے ملازمت کرنے والی خواتےن کو اپنے فرائض کی بجا آوری کے دوران جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے ، ان مےں سب سے بڑا مسئلہ خواتےن کو ہراساں کرنے کا ہے،اےسی ورکنگ ویمن کو خوف وہراس کے خلاف تحفظ دینے کیلئے قانون سازی عمل مےںلائی جا رہی ہے۔نیزہماری سوسائٹی مےں جو درندہ صفت لوگ خواتےن پر تےزاب پھےنک دےتے ہےںان کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے حکومت پنجاب کی کاوشوں سے قانون مےں ضروری ترامےم کی جا رہی ہےں جس کے نتیجے میں اس جرم مےں ملوث افراد کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائیگا۔ اسی تناظر مےں پنجاب حکومت کی جانب سے گھرےلو سطح پر ملازمت کرنے والی خواتین کے حقوق کی خاطربھی خصوصی قانون سازی کیلئے پیش رفت کی جا رہی ہے جس کے ذریعے اےسی خواتین کی عزت نفس اور ملازمت کے حقوق کوقانونی تحفظ فراہم ہو گا۔

 موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے جسمانی اور ذہنی تشدد کی بنا پر نفسےاتی مسائل مےں الجھی ہوئی خواتےن کےلئے ضلع کی سطح پر ہےلپ ڈےسک بنائے جارہے ہےں جہاں متاثرہ خواتےن کو قانونی ، نفسےاتی اور بنےادی طبی سہولےات اےک چھت تلے فراہم کرنے کےلئے ضروری اقدامات اٹھائے جا ئےں گے۔ مظلوم اور مجبور خواتین کی مدد کےلئے ہمہ وقت چوکس یہ ہیلپ ڈیسک دن ہو ےا رات24گھنٹے کام کرتے رہیں گے۔

  خواتین کےلئے باعزت روزگار کے زےادہ سے زےادہ مواقع کی فراہمی کے عزم کے تحت ہنر مند خواتین کیلئے” وزیرِ اعلیٰ خود روزگار سکیم“ کا آغاز کیا گیاہے جس کے تحت با ہنر خواتین کو سالانہ2ارب روپے کے بلا سود قرضہ جات فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ منفرد منصوبہ خواتین کی معاشی خود کفالت کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہاہے ۔ یہاں اس امرکا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ اس سکیم کی سربراہی کیلئے پاکستان کی مشہورخاتون سیاست دان ماروی میمن کو چنا گیا ہے ۔چونکہ اےک درد مند خاتون ہی خواتین کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہو سکتی ہے لہٰذا وہی اپنی بہنوں کے مسائل کے حل کی جانب سنجیدگی سے توجہ بھی دے سکے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ اقدام خواتین کی صلاحیتوں کے اعتراف اور ان کو لیڈر شپ کے مواقع فراہم کرنے کی پالیسی کا مظہر ہے۔

 موجودہ صوبائی حکومت کی اہم ترین ترجیحات مےںمعاشرہ کے پسماندہ طبقات کے رہائشی مسائل کاحل بھی روز اول سے شامل رہا ہے ۔ وزیر اعلیٰ کی خصوصی توجہ کے نتیجہ مےں دیہی علاقوں کے 90ہزار گھرانوں کو جناح آبادی سکیم کے تحت مفت چھت فراہم کی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ پرائےوےٹ سطح پر قائم ہونے والی کچی آبادیوں کے ایک لاکھ10ہزار گھرانوںکے علاوہ دیہی علاقوں میں سرکاری زمینوں پر بنی ہوئی کچی آبادیوں کے7لاکھ خاندانوں کو بھی مالکانہ حقوق دیئے گئے ہےں۔ یہاں یہ بتانا بےحد اہمےت کا حامل ہے کہ مذکورہ تمام مالکانہ حقوق خاوند اور بیوی دونوں کے مشترکہ نام پر جاری کئے گئے ہےں ۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی جو آئندہ بھی خواتین کے سماجی تحفظ کے حوالے سے مشعل راہ ثابت ہو گا۔

  خواتین کے بنےادی مسائل کے مو¿ثر حل کےلئے جاری کئے گئے ان اہم منصوبوں کے علاوہ خواتین کےلئے باعزت اور محفوظ روزگار کے مواقع بڑھانے کےلئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سرکاری ملازمتوں میں25 فیصد جنرل سیٹیں مختص کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔اسی طرح حکومت کے تمام اداروں، کمپنیوں ، پارلیمانی کمیٹیوں حتیٰ کہ خصوصی مقاصد کیلئے بنائی گئی ٹاسک فورسز میں بھی خواتین کیلئے ایک تہائی سیٹیں مختص کرنے کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ خواتین کے اےک دےرینہ مسئلہ کے حل کے طور پر خواتین کو ملازمتوں کے حصول کیلئے عمر کی حد میں 3سال کی خصوصی رعایت دینے کے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ انہےں درپیش چیلنجز کے مقابلے کےلئے مضبوط تر بنایا جا سکے۔

 پنجاب مےںبچےوں کےلئے معےاری تعلیم کے وسیع تر مواقع کی فراہمی کی خاطر” پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام“ کے تحت60 فیصد فنڈز صرف اور صرف لڑکیوں کے سکولوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔نیزپرائمری سطح کے سکولوں میں 70 فیصد خواتین اساتذہ کی بھرتی ممکن بنائی جا رہی ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کی راہ مےں حائل رکاوٹوں کے خاتمہ کےلئے ضلع کی سطح پر خواتین کو ہاسٹل کی

agenices data/onlinephoto/26.06.2012/colum women enpowement (Final)

سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح تمام تحصیلوں میں خواتین کے لئے علےحدہ ڈگری کالج کا جلد از جلد قےام ےقینی بنائے جا نے کے ساتھ ساتھ تمام گرلز کالجز میں ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

 دےہی خواتین کےلئے صحت عامہ کی سہولےات بڑھانے کے خصوصی پروگرام ”CHARM“کے تحت زچہ و بچہ کی بہتر نگہداشت کیلئے بنیادی مرکز صحت کی سطح پر 24گھنٹے سہولیات فراہم کی جا رہی ہےں۔ یہ پروگرام ایسے 20اضلاع میں خدمات انجام دے رہا ہے جہاں پہلے ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے اعدادو شمار حوصلہ افزا نہیں تھے۔ خواتین کے علاج معالجہ کی طرف موجودہ صوبائی حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگاےا جاسکتا ہے کہ ہمہ وقت مریضوں کی عیادت اور تیمارداری میں مصروفِ عمل نرسوں کی تنخواہوں میںحال ہی مےں1.5ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نرسوں کی حوصلہ افزائی اور ان کے مقدس پیشہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے مترادف ہے۔

 صوبائی سطح پرعنقریب ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جس کی سربراہ بھی ایک خاتون ہو گی۔جبکہ بیواﺅں کیلئے آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم بنا کر ان کےلئے اپنی چھت کی فراہمی کی جانب پہلے ہی سنجیدہ توجہ دی جاچکی ہے۔ خواتین کی خود مختاری کی جانب اےک اور اہم پےش رفت کے طور پر ےیلو کیب سکیم میں پہلی مرتبہ خواتین کو بھی شامل کیا گیا ۔اسی طرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پنجاب یوتھ پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے تحت نوجوان بچیوں کیلئے کروڑوں روپے کے سکالر شپس، رہائش کیلئے ہاسٹل اور ملازمتوں میں15فیصد کوٹہ دیا گیا۔اسی طرح نوجوان بچے اور بچیوں کیلئے 2ارب روپے سے سپورٹس ڈویلپمنٹ فنڈ بھی قائم کیا گیاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو پروفیشنل ٹریننگ کے مواقع فراہم کرنے کیلئے پیڈ انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے

اےک اور اہم پہلووزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مظلوم خواتین کی موقع پر ہی داد رسی ہے۔ ماہ رواں ےعنی جون 2012 کے دوران ہی وزیرِ اعلیٰ پنجاب جنسی تشدد کے اےک افسوس ناک واقعہ کی شکار خواتین کے گھر گئے اور ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھااور انہےں ضروری قانونی تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔

 ےہاں اس امر کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ پنجاب مےں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ( ن) میں خواتین نہایت ہی اہم عہدوں پر سرگرم خدمات انجام دے رہی ہیں اور انہےں اس سلسلے مےںکسی بھی رکاوٹ یا امتیازی سلوک کی شکایت نہیں۔ ان میں انوشہ رحمن کا نام بڑا اہم ہے جو سینئر وائس پریذیڈنٹ پاکستان مسلم لیگ ن لائر ونگ کے عہدہ پر کام کر رہی ہیں اور ہر جگہ سیاسی طور پر بڑی سرگرم نظر آتی ہیں ۔

  خواتین کی سیاست میں حوصلہ افزائی کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن )کی پالیسی روز روشن کی طرح عیاں ہے جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ میاں نواز شریف کی صاحبزادی نے جب خود عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو میاں نواز شریف نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ محترمہ مریم نواز کی حوصلہ افزائی کی ۔ اسی طرح جب ماروی میمن نے پی ایم ایل ن میں شرکت کا اعلان کیا تو میاں نواز شریف نے انہیں اپنی بہن قرار دیا جو مسلم لیگ کی جانب سے خواتین کو عزت دینے کے حوالے سے ان کی مثبت سوچ کی ایک روشن مثال ہے۔

 تحفظ حقوقِ نسواں کی خاطر حکومتِ پنجاب کی جانب سے اٹھائے گئے مذکورہ بالا ہراقدام پر کئی کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں تاہم یہاں لفاظی مقصود نہ تھی اس لئے محض عوامی آگاہی کیلئے عوامی دلچسپی کے حامل چیدہ چیدہ اقدامات مختصراً بیان کئے گئے ہیں۔

 

مزید :

کالم -