امریکہ میں انتخاب

امریکہ میں انتخاب
امریکہ میں انتخاب

  

حسب روایت یہاں بھی امیدوار ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں.... دعوے کر رہے ہیں.... عوام کو خواب دکھا رہے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے، دُنیا بھر میں جب اختیار اور اقتدار کی جنگ ہو تو مشرق، مغرب اور شمال و جنوب ایک ہو جاتے ہیں۔ الزامات لگائے جاتے ہیں اور اسی کو انتخاب میں کامیابی کا راستہ سمجھا جاتا ہے.... امریکہ میں موجودہ صدر باراک حسین اوباما اگلی ٹرم کے لئے صدارتی امیدوار ہیں، اُن کی مخالف سیاسی پارٹی ری پبلکن کے متوقع صدارتی امیدوار مٹ رومنی اپنی مہم میں صدر اوباما پر مختلف الزامات لگا رہے ہیں۔ اب انہوں نے فیتھ اینڈ فریڈم کولائزن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار آنے کی صورت میں اُن کی پالیسیاں باراک حسین اوباما سے مختلف یا مخالف ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر باراک اوباما ایران کے جوہری قوت بننے کے برعکس زیادہ پریشان اسرائیل کی طرف سے ایران پر ممکنہ حملے کے با رے میں ہیں، حالانکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ہی امریکہ کا روائتی اتحادی ہے، جس کو صدر اوباما نظر انداز کر رہے ہیں۔

مٹ رومنی نے صدر باراک حسین اوباما پر یہ الزام بھی لگایا کہ اوباما نے اسرائیل کے ساتھ تین سال میں ”بس سے نیچے پھینکنے“ والا سلوک روا رکھا ہے.... ہمیں مٹ رومنی کے بیان سے کوئی تعجب نہیں ہوا، بلکہ اُس وقت حیرت ہوتی، جب وہ یہ سب کچھ نہ کہتے، کیونکہ اسرائیل امریکہ کے لئے انتہائی اہم ہے۔ ملک کا صدر اور دوسرے لوگ ہمیشہ اُس کی حمایت کرتے ہیں۔ حسب روایت صدر اوباما نے بھی کیا، لیکن اُن کے خاندانی پس منظر کی وجہ سے شک اور شبہ پیدا ہوا۔ اسرائیل کی حمایت کے باوجود وہاں کے لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اوباما کہیں نہ کہیں سے تھوڑے بہت مسلمان ہیں، کم سے کم خون میں کچھ قطرے ضرور شامل ہیں، اس لئے وہاں اُن کی کھلے عام مخالفت ہے، جس کا کوئی جواز نہیں۔ مٹ رومنی اسرائیل کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، اُن کے خیال میں اوباما نے اسرائیل کو بس سے نیچے پھینک دیا ہے اور یہ اسے سڑک سے اُٹھا کر اپنی گاڑی میں بٹھا لیں گے۔ شرط یہ ہے کہ انتخاب جیت جائیں، ایسا نہ ہوا تو اسرائیل بے چارہ سڑک پر پڑا رہے گا اور انتظار کرے گا کہ باراک حسین اوباما جائیں اور کوئی مٹ رومنی جیسا آئے اور اسے سڑک سے اُٹھائے۔

....ایران تمام پابندیوں اور بندش کے باوجود زندہ اور فعال ہے۔ اسرائیل بار بار ایران پر حملے کی دھمکی دیتا ہے، لیکن یہ بھی جانتا ہے کہ اگر ایران ایک بار چمٹ گیا، تو اسرائیل کو اس خطے میں اپنی جان بچانا مشکل ہو جا ئے گا، ممکن ہے عالمی جنگ شروع ہو جائے۔ امریکہ اور چین اب سیاسی جنگ نہیں چاہتے، جس میں دُنیا کی تمام طاقتیں شامل ہو جائیں۔ ملکوں اور قوموں نے دو عالمی جنگوں کی تباہی اچھی طرح دیکھی ہے اور اب اس بات کی کوشش ہے کہ عا لمی جنگ شروع نہ ہو۔ امریکی صدر اوباما اسی کام میں مصروف ہیں اور بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مٹ رومنی اس سلسلے میں کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ اسرائیل امریکہ کی حمایت کے بغیر کسی ملک پر حملہ نہیں کر سکتا۔ اسرائیل کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ دھمکیاں تو دیتا ر ہے، ایران پر حملہ کرنے کی غلطی نہ کرے۔

مٹ رومنی کو امریکہ میں رہنے والے یہودیوں کے ووٹ مل جائیں گے، لیکن وہ اس چکر میں مسلمان ووٹروں سے بہت حد تک محروم رہ جائیں گے، لیکن غالباً انہیں اس کی پرواہ نہیں، کیونکہ انہوں نے حساب کتاب اور اعداد و شمار دیکھ لئے ہوں گے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہودی امریکہ کی معیشت میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، ممکن ہے انتخابات کے اخراجات کا بڑا حصہ یہودی لابی نے دیا ہو۔ کچھ بھی ہو، امریکہ کا صدر کوئی بھی بنے، اسرائیل کو فکر نہیں، کیونکہ وائٹ ہاﺅس میں رہنے والا ہر صدر اُن ہی کی بانسری بجاتا ہے۔

مٹ رومنی کا یہ کہنا کہ اُن کی پالیسی صدر اوباما سے بالکل مختلف ہو گی، بے معنی سی بات ہے، کیونکہ قومی مفاد کے کاموں میں بڑی سطح پر تبدیلی نہیں کی جاتی۔ باقی جو دوست ہے، اس کے گلے میں باہیں ڈالی جاتی ہیں اور دشمن کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک ہی پالیسی بنائی جاتی ہے، جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، یہ امریکہ کا ”گود بچہ“ ہے اور یہ پالیسی بھی جاری رہے گی۔ امید ہے کہ صدر اوباما اگلی ٹرم کے لئے انتخاب میں کامیابی حاصل کر لیں گے، تو انہیں بھی اسرائیل کو ہر طرح نزدیک لانا ہو گا اور کھلے عام حمایت کرنا ہو گی۔ وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکیں گے کہ” بس سے باہر پھینک دیں“ چاہے یہودی لابی انہیں کتنے ہی شک و شبہہ کی نگاہ سے دیکھے.... امریکہ میں انتخابی سرگرمیاں جاری ہیں اور جب تک انتخاب نہیں ہو جاتے، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ بھی جاری رہے گی، اس لئے ان باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے، نہ فکر کرنی چاہئے۔ 

مزید :

کالم -