ظلم کی حکمرانی

ظلم کی حکمرانی
 ظلم کی حکمرانی

  

حضرت علیؓ سے منسوب ایک مشہور قول کے مطابق کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے، مگر ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ ظلم کی حکومت کےا ہوتی ہے؟ کےا ظالم اور سفاک حکمران کی حکومت کو ظلم کی حکومت کہا جائے گا۔ معانی کے اعتبار سے تو ایسا ہی لگتا ہے، لیکن ایسا ہے نہیں، دراصل ظلم کی حکومت ایسی حکومت ےا حکمرانی ہے، جہاں قانون کی عملداری نہ ہو، کسی بھی مملکت ےا حکومت میں معمولات کو چلانے کے لئے قانون کی ضرورت سب سے اہم ہے۔ قانون کی عملداری سے ہی ظالم اور مظلوم کا تعین ہوتا ہے، اگر قانون کی صحیح عملداری نہ ہو تو اس بات کا فیصلہ ہی نہیں کےا جا سکتا کہ در حقیقت ظلم کس پر ہو رہا ہے اور ظالم کون ہے؟پاکستان کا قےام اگر چہ ایک بھر پور اور طویل تحریک کے نتیجے میں عمل پذیر ہوا، لیکن باقاعدہ ایک قانون کے نتیجے میں مملکت پاکستان کا قےام عمل میں آےا۔ پھر کےا ہوا کہ اسی سر زمین جہاں انگریز ایک مختصر حکومتی مشینری کے ذریعے حکومت قائم رکھنے میں کامےاب رہا تھا، وہاں وسیع حکومتی مشینری اور بہت بڑی تعداد میں سیکیورٹی پولیس فوج اور پیرا ملٹری فورس کی موجودگی کے باوجود حکومت میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔

حکومت کاغذوں میں تو موجود ہے، لیکن عملی طو ر پر ایسا نظر نہیں آتا۔ ہر شہر اور ہر علاقے میں اگرچہ کتابی طو رپر آئین پاکستان اور قوانین پاکستان ہی رائج ہیں، لیکن عملداری ہر جگہ مختلف ہے، ہر جگہ فرد اور انفرادیت کا دور دورہ ہے۔ ایک ہی شہر میں مختلف علاقوں میں قانون عملداری مختلف انداز سے نظر آتی ہے.... کےا ایسا سب ایک دن میں ہو گےا؟ ےا ایسا شروع دن سے ہی تھا؟ یقیناً نہ ےہ سب کچھ ایک دن میں ہو گےا اور نہ ہی ایسا شروع دن سے تھا۔ محمد علی جناح کو اپنا قائداعظم ماننے والی قوم قانون کی حکمرانی کے عمل کو کیوں خبر باد کہہ گئی؟ اپنی زندگی میں قانون پر عمل کرنے کا درس دینے والے لیڈر کی قوم اپنی زندگی سے قانون کی حکمرانی کا اصول کےسے ختم کر گئی؟ آپ نے کبھی غور کےا کہ ایسے ملک میں جہاں قانون کی نہ صرف مکمل حکمرانی تھی، بلکہ قانون کا نفاذ نظر بھی آتا تھا، وہاں قانون کیسے غائب ہو گےا؟

زےادہ پرانی بات نہیں، ہمارے ملک میں بغیر لائسنس کار اور موٹر سائیکل چلانا تو دور کی بات، سائیکل اور تانگے کا بتی نہ ہونے پر چالان ہوتا تھا۔ ےہ بات اگرچہ بڑی معمولی نظر آتی ہے، لیکن ٹریفک قوانین پر عملدرآمد سے ہی کسی قوم کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگاےا جا سکتا ہے کہ اس قوم میں قانون کی کےا اہمیت ہے؟ عام آدمی کے دل سے قا نون کا خوف کس نے ختم کےا۔ کےا حکومت کمزور ہو گئی ےا عوام زےادہ طاقتور ہو گئے۔ بظاہر یہ دونوں باتیں درست نظر آتی ہیں، لیکن اس ساری صورت حال کے ذمہ دار صرف اور صرف پاکستانی حکمران ہیں ۔جب حکمران اپنے اور اپنی اولاد کے جرائم پر استثناءکا قانون نافذ کریں گے تو پھر آہستہ آہستہ ہر طاقتور شخص اپنے جرائم پر استثنا کا طلب گار ہو گا۔ نا جائز اور بندوق کے ذریعے حکمران بننے والوں نے اس کا آغاز کےا اور آج نیتجہ ےہ ہے کہ ہر جمہوری حکمران فوجی آمر کو برا بھلا تو کہتا ہے، لیکن اندر سے فوجی آمر سے زےادہ مطلق العنان حکمرانی کا خواہش مند ہے۔ بقول ےار عزیز ڈاکٹر طارق احمد کھوکھر (انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر) کہ اس ملک کا اصل مسئلہ ےہ ہے کہ قانونی طو رپر اس ملک میں سب سے زےادہ طاقتور شخص ایس ایچ او پولیس ہوتا ہے اور ہر شخص ایس ایچ او بننا چاہتا ہے۔

 پاکستان میں حکمران کوئی بھی ہو فوجی آمر ےا جمہوری قانون کو اپنی ذات کے سوا ہر شخص پر نافذ کرنا چاہتا ہے۔ نتیجہ کےا نکلتا ہے کہ قانون کا نفاذ کہیں بھی ممکن نہیں رہتا۔حکمران تو ایک طرف رہے پاکستان میں حکومتی مشینری ہی قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مراعات من پسند پوسٹنگ اور کمیشن کے چکر میں گرفتار حکومتی مشینری کو نہ قانون سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ انہیں قوانین کے نفاذ کی کوئی ضرورت۔ بد عنوانی اور دولت اکٹھی کرنے کی دوڑ میں ہر اصول اور ہر قانون کو بھلا دےا گےا۔ کون سا قانون ہے جو کتابوں میں موجود نہیں۔ ٹریفک قوانین سے لے کر ملاوٹ کے خلاف۔ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی سے لے کر نا جائز تجاوزات کے خلاف، کون کون سا ایکٹ ےہاں موجود نہیں۔ امتناع شراب ایکٹ ، لاﺅڈ سپیکر ایکٹ ، منشیات ایکٹ ، رشوت ستانی ایکٹ ، حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے کا ایکٹ، ہر طرح کا ایکٹ بھی موجود ہے اور ایکٹ پر عملدرآمد کرانے کے لئے مخصوص ادارے بھی موجود ہیں، پھر رکاوٹ کےا ہے؟

قانون بھی موجود ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی، اصل مسئلہ حکمرانوں کی نیت کا ہے، اگر ایک بار معاشرے میں قانون کی عملداری شروع ہو گئی تو حکمرانوں کو اس بات کا علم ہے کہ سب سے زےادہ متاثر وہ خود ہوں گے۔ اسی لئے حکمران اور ان کے ساتھ ساتھ حکومتی مشینری کے تمام طاقتور کل پرزے قانون کی حکمرانی کے نہ خواہشمند ہیں اور نہ ہی اس کے عملی نفاذ کے لئے کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔اعلیٰ سول عہدے دار ہوں ےا عسکری قےادت سے تعلق رکھنے والے افراد....اعلیٰ ترین عہدوں پر پہنچنے کے بعد نہ انہیں ملک سے کوئی غرض ہے اور نہ قوم سے ....ذاتی مفادات اور ریٹائرمنٹ کے بعد شاہانہ زندگی کی خاطر ہمہ وقت قانون شکنی کی خاطر ےہ طاقتور ٹولہ ہر قانون شکن کا ساتھی ہے۔ ےہی وہ گٹھ جوڑ ہے جس نے آج پاکستانی معاشرے میں قانون کی عملداری تقریباً نا ممکن بنا دی ہے۔ حکمرانوں اور حکومتی مشینری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن عملی طور پر اب پاکستانی معاشرہ بگاڑ کی اس انتہا کو پہنچ گیا ہے، جہاں گورننس نام کی کوئی چیز ممکن ہی نہیں۔

 طاقتور مافیا اور انڈر ورلڈ کی بات چھوڑیئے، حکومتی اقدامات کی تو اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ پرائیویٹ سکول تک حکومت کے احکامات ماننے کو تیار نہیں۔تمام صوبائی حکومتوں نے یکم جون سے سکولوں میں تعطیلات کا اعلان کیا، لیکن پرائیویٹ سکولوں کی انتظامیہ نے حکومتوں کے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ بہت سے سکول تو آج بھی سمر کیمپ کے نام پر کھلے ہیں،جو حکومتیں سکولوں کی معصوم انتظامیہ پر اپنے احکامات نافذ نہیں کر سکےں۔ ان سے دہشت گردوں ، چوروں، ڈاکوﺅں اور عوام کو ہر طریقے سے لوٹنے والے مافیا کے خلاف اقدامات کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟....انتخابات کے ذریعے حکومتیں قائم ہوں یا بندوق کے ذریعے، اصل مسئلہ قانون کی حکمرانی کا ہے۔ہر قسم کے حکمرانوں کی نہ یہ ترجیح ہے اور نہ ہی ان کا یہ مسئلہ۔ 18 کروڑ عوام نے بھی شاید اب اس بات کا احساس کر لیا ہے کہ پاکستان میں قانون کی نہیں، بلکہ طاقت کی حکمرانی ہے، اسی لئے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج اب لوٹ مار میں تبدیل ہو گیا ہے اور عدالتوں کے بجائے جرگہ اور پنچایت کانظام پھیل رہا ہے۔ قانون دم توڑ رہا ہے اور ظلم پھیل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود حکمرانوں اور ان کے ظالم ساتھیوں کو قذافی، صدام اور حسنی مبارک کا انجام نظر نہیں آتا۔ ان حکمرانوں کا انجام ایک حقیقت ہے ۔ نہ یہ کوئی کہانی ہے اور نہ ہی ماضی بعید کا قصہ۔  ٭

مزید :

کالم -