محمد رفیع برصغیر پاک ہند کے ممتاز گلوکار

محمد رفیع برصغیر پاک ہند کے ممتاز گلوکار
محمد رفیع برصغیر پاک ہند کے ممتاز گلوکار

  

آپ 24دسمبر1924ءکو بلال گنج لاہور میں پیدا ہوئے اور یکم اگست 1980ءکو بھارت میں فوت ہوئے۔ بلال گنج کا علاقہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار کے قریب تھا۔وہاں ایک مجذوب قیام پذیر تھے....(یاد رہے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار شریف سے ہمہ وقت کوئی نہ کوئی مجذوب حاضر رہتا ہے اور کم کم ظاہر ہوتا ہے۔مجھے اس کا تجربہ ہے)....محمد رفیع صاحب وہاں ان کے پاس ریاض فرماتے تھے اور وہ مجذوب انہیں بے حد پسند فرماتے اور دعا دیتے کہ ایک وقت آئے گا،جب دنیا میں گلوکاری میں تمہارا کوئی مقابلہ نہ کر پائے گا۔لاہور میں 1941ءمیں 17برس کی عمر میں ایک پنجابی فلم میں پہلا گانا گایا تھا۔ پھربمبئی منتقل ہوگئے اور 38سال تک 34ہزار گانے گا کر بھارت،پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے دلوں کو اپنی آواز کے جادو سے گرماتے رہے۔آل انڈیا ریڈیو کے لئے 1942ءمیں گانا شروع کیا اور مختلف زبانوں جن میں اردو، ہندی، مرہٹی، بنگالی، آسامی اور پنجابی شامل ہیں، گانے گائے۔غزل، قوالی، نعت خوانی، بھجن اور لوک گیت گائے اور خوب نام کمایا۔

حکومت بھارت نے انہیں ایوارڈ سے نوازنا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ لوگ مجھے رفیع ہی کے نام سے پکارتے اور یاد کرتے ہیں۔مجھے ایسا ایوارڈ دیا جائے،جس کے مطابق مجھے محمد رفیع کے نام سے پکارا کریں، اس لئے کہ مجھے جو رفعت ملی، محمد الرسول اللہ کے صدقے ملی ہے۔چنانچہ حکومت بھارت نے ضروری نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں حضور علیہ الصلوة والسلام سے کس قدر عقیدت و احترام تھا۔لیجئے آپ کی ایک نعت شریف پڑھیئے:

یاخدا ایک دن جذبہ ءعاشقی پر کرشمہ دکھائے تو کیا بات ہے

کملی والوں کے قدموں میں سر ہومیرا اور مجھے موت آئے تو کیا بات ہے

وہ مدینہ جو کونین کا تاج ہے جس کا دیدار مومن کی معراج ہے

زندگی میں خدا ہرمسلماں کو وہ نظارہ دکھائے تو کیا بات ہے

جس پہ ہو جائے ان کی نگاہِ کرم جاکے آنکھوں سے چومے نبی کے قدم تو کیا بات ہے

جانے والا وہاں دل سے جائے مگر جا کے واپس نہ آئے تو کیا بات ہے

سامنے سبز گنبد کا منظر بھی ہو لب پہ تکبیر اللہ اکبر بھی ہو

ایسے عالم میں زم زم کا ایک ساغر لاکے کوئی پلائے تو کیا بات ہے۔

مزید :

کالم -