اقبال نے کہا ہے: یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

اقبال نے کہا ہے: یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ...

  

5جون2013ءکو جناب میاں محمد نواز شریف نے قومی اسمبلی جس کا دستوری نام شوریٰ بھی ہے، میں بڑی کثرت رائے سے وزیراعظم پاکستان کا منتخب ہونے پر جو خطاب کیا، اس میں پاکستان کی اساس اور ذاتی ترجیحات کا بھرپور انداز میں احاطہ کیا گیا اور پھر تھوڑی دیر بعد ایوان صدر کے موقر ہال میں پُروقار تقریب میں جو کچھ ہوا، یعنی کلام پاک کی منتخبہ آیات کی تلاوت اور حلف برداری کے الفاظ کا ایک بڑے نمائندہ اجتماع میں واشگاف طریقہ پر زبانی اقرار یہ سب واقعی ذمہ داری کے احساس سے وعدہ کرنے والے کو ہی نہیں سامعین اور حاضرین کو بھی ان الفاظ کے سمجھئے جو جہان پر اس کی ذمہ داری سے لرزاں کر دیتا ہے۔

کیا یہ اعلان ایک رسم ہے جو صرف ادا کر دی جاتی ہے یا اس کی اخلاقی، قانونی، سیاسی اور سماجی حیثیت بھی ہے۔ یقینا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اپنے مسلمان ہونے، اللہ کے نبیوں پر ایمان لانے، کتابوں پر ایمان لانے اور اللہ کی آخری کتاب اور آخری نبی پاک پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں تو یہ کوئی ایسے ویسے ڈائیلاگ یا ووٹ حاصل کرنے کا وعدہ کسی طرح نہیں، بلکہ یہ اس ذات ِ پاک کو حاضر و ناظر جان کر ہی اس کے ساتھ عہد کیا جاتا ہے۔ یہ الفاظ جو ہمارے دستور کا حصہ ہیں، جو ہماری قومی اسمبلی کی عمارت پر کندہ بھی ہیں۔ ہماری سیاسی، سماجی، معاشرتی اقدار کا منبع بھی ہیں۔ مرجع بھی ہیں اور ہمارے راستے کی منازل طے کرنے کے اصول و قواعد بھی ہیں۔

ان الفاظ اور قرآنِ کریم کی سورہ ¿الانعام کی آخری آیات کے سادہ معنی پر بھی اگر غور کر لیا جائے ،تو پاکستان کی اساس کے بارے میں جو لایعنی اور بے سروپا باتیں مختلف افراد اور اداروں کی طرف سے اُٹھتی رہتی ہیں ان کا ذکر اور ان کی تکرار وہی کر سکتا ہے، جسے اس مملکت ِ خداداد کی بنیادوں کا دور تک کوئی علم نہیں اور اگر ہے، تو پھر وہ اپنی ان حرکتوں سے ملک کی اساس اور بنیادوں پر نشتر چلانے کا کام کر رہے ہیں۔

امید ہے کہ نومنتخب وزیراعظم جو تیسری بار اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ تجربات سے ایک نئے ولولہ خدمت اور اللہ کے حضور احسان مندی اور اطاعت کے جذبہ سے اپنی ذمہ داریوں کو پوری امانت، دیانت، خدا خوفی اور خلق ِ خدا کی صحیح خدمت کے جذبہ سے ادا کریں گے۔

تیسری بار وزیراعظم بننے کا جو اعزاز انہیں حاصل ہوا ہے، اللہ کرے کہ جیسے انگریزی کا محاورہ ہے، ''Third time Lucky'' جناب میاں محمد نواز شریف صاحب کو خوش قسمتی نصیب ہو گی اور پاکستان کے عوام اُن کے عہد میں خوش و خرم رہنے لگیں گے، فوراً کا تو کوئی مطالبہ بھی نہیں کر سکتا، مگر صحیح منزل کا اگر تعین ہو گیا ہو تو پھر راستہ بھی آسان ہو جاتا ہے۔ قرآن ِ پاک میں ارشاد ہے کہ جو اس کی راہ میں جہاد (کوشش) کرتے ہیں اللہ ان کے راستے آسان کر دیتا ہے۔

اللہ ہمارے نئے وزیراعظم کے لئے بھی راستے آسان کر دے کہ ہم اب زیادہ بھٹک بھٹک کر اپنی دُنیا اور عاقبت دونوں خراب نہیں کرنا چاہتے۔  ٭

مزید :

کالم -