پٹ انگر یز ی تھا نے اپنی دھر تی آپ وسا

پٹ انگر یز ی تھا نے اپنی دھر تی آپ وسا
پٹ انگر یز ی تھا نے اپنی دھر تی آپ وسا

  



سند ھو دریا کے کچے کی تحصیل کو ٹ ادو کی سر سبز اورسونا اگلنے والی سر زمین سے تعلق رکھنے والے۔سر ائیکی زبان میں صو فیا نہ کلا م کو ایک لا زوال شہرت دینے والے اور اپنی دھرتی کے سچے عاشق پٹھا نے خان نے اپنی دلکش آواز میں خواجہ غلام فر ید کی قلم سے لکھی ہو ئی کافی ” پٹ انگر یز ی تھا نے اپنی دھر تی آپ وسا “گاکر کئی عشر ے پہلے اپنے وقت کے ارباب اختیار کو آگاہ کر دیاتھا کہ اب وقت آگیاہے کہ انگر یز کی غلا می کے دور کی نشانیو ں میں سے ایک نشا نی پو لیس کو ختم کر کے کوئی ایسا صاف شفاف نظا م لایا جائے جس سے اپنی دھر تی کو ہم خو د ہی بسائیں تو شا ئد قتل و غارت گر ی ،ڈکیتی ،چو ری اور رہز نی جیسی واردتو ں سے چھٹکارا ملے اور لو گ پہلے کی طر ح رات کوبھی چاند کی روشنی میں سفر کر سکیں ،لیکن اسلا م آبا د کی پہاڑیو ں پر رات کی تنہائی میں پٹھا نے خان کو ساتھ بٹھا کر ان کی گائی ہو ئی ایک اور مشہور کافی ”دکھاں دی ماری جندڑی علیل اے “ سن کرزار و قطار آنسو بہانے والے ذوالفقا ر علی بھٹواس سے پہلے کہ اپنے پسندیدہ لو ک گلو کارکی التجاءکو عملی جامع پہناتے ،انگریزکی غلامی کی نشانی پولیس تھانوں کو ختم کر کے کوئی نیا نظام لاتے ،ایک رات کی تاریکی میں فو جی جر نیل نے بھٹو کی حکو مت ختم کردی ، پھر بھٹو کوتختہ دار پر لٹکا کرگڑ ھی خدابخش روانہ کردیا۔

بات ہو رہی تھی پٹھانے خان کی، جی ہاں پٹھا نے خان بھی اسی سر زمین کاباسی تھا جو مختاراں مائی کا وطن ہے اور جہا ںآج کل آمنہ دفن ہے ،جی ہاں کچھ ہفتے پہلے مظفر گڑھ میں حو ا کی ایک بیٹی آمنہ نے پولیس انصا ف سے مایو س ہوکر پو لیس تھا نے کے باہرخو د کوآگ لگا کر مو ت کو گلے لگا لیاتھا ،کیو نکہ اسے یقین ہو گیا تھا کہ سر خ وسفید رنگ کی چو نے اور پتھر کی بنی بے رحم عمارت سے اسے کبھی انصا ف نہیں ملے گا ۔افسو س ناک بات یہ ہے کہ اس کی مو ت کو نظام کے منہ پرطمانچہ قر ار دینے والے پچھلے کئی عشر وں سے خود اس نظام کے وارث ہیں ۔ہے کو ئی مائی کالعل جو پو چھ سکے کہ ”مٹ جائے گی مخلوق خد ا تو انصا ف کر و گے“؟ یاد ماضی کے عذاب کو چھوڑئیے یہ تو کل کی بات ہے کہ ہماری مستعد پو لیس نے نو ماہ کے بچے کو بھی قاتلانہ حملے کا ملز م بنا دیا ہے ۔اس نو ماہ کے کریمنل پر الز ام ہے کہ اس نے چند لو گو ں کے ساتھ مل کر پو لیس پر قاتلانہ حملہ کر نے کی کو شش کی۔

 جی ہاں یہ دنیا کا آٹھو اں عجو بہ اور کہیں نہیں، پاکستان کے سب سے بڑ ے صوبے پنجاب کے دارلحکو مت لاہور میں دیکھنے میں آیا۔ مقدمہ درج ہو نے کے بعد اس نو ماہ کے ملز م نے نظام عدل کا سہارا لیا اور منہ میں فیڈر لئے اپنے باپ کی گو د میں بیٹھ کر اپنی ضمانت کر انے عدالت آیاتو اس شر ط پر ضمانت ملی کہ تفیش میں تعاون کرسکے ،جبکہ مقدمہ ابھی باقی ہے ۔ نوماہ کے ملزم کے خلا ف مقد مہ درج کر نے والے میٹر ک فیل منشی پر افسو س کیو ں کریں ،جب بھی کو ئی سیا سی جماعت بر سر اقتدار آتی ہے تو اس کے منشو ر میں درج ہوتاہے کہ وہ اقتدار میں آکر ملک میں سب سے پہلے تھا نہ کلچر ختم کر دے گی اور جب حکو مت جانے لگتی ہے تو دعوی کر تی ہے کہ سو فیصد نہیں تو اسی فیصد منشور پر عمل ہو گیاہے۔پچھلے دنو ں لاہور ہی میں میٹر ک اور فر سٹ ائیر کے چار طالبعلمو ں کو پو لیس نے گھر کی چادر اور چاردیواروں کو اپنے بو ٹو ں کے نیچے روند تے ہو ئے گر فتا ر کر کے نامعلو م جگہ پر منتقل کر دیا، پھرایک ہفتے بعد مجسٹر یٹ کے سامنے پیش کر نے سے تھو ڑی دیر پہلے پچھلی تاریخو ں میں درج نامعلو م افراد کے خلا ف ڈکیتی کے مقد ما ت میں ان کا نام ڈال دیا،اللہ اللہ خیر سلا ۔

ہمارے ملک میں قانون بنانادنیاکے آسان کاموں میں سے ایک کام ہے ، اگرآپ پو لیس آرڈر 2002ءکا دوسرا باب پڑ ھیں تو حیر ان ہو جائیں جو کہ پو لیس کے فر ائض اور ذمہ دار ی کے بارے میں ہے۔ اس با ب کے پہلے اورپولیس آرڈر کی تیسری دفعہ جس میں پو لیس افسر ان کوعوام الناس سے سلو ک کے بارے میں چندضروری باتیں تاکید کی گئی ہیں۔ سب سے پہلی شق کچھ یو ں ہے کہ عام لو گو ںسے ادب و آداب، سلیقے اور خو ش اخلاقی سے سے پیش آئیں،اسی طرح دوسر ی شق میں شہر یو ں کے ساتھ اخلا ص ،اتفاق اور رفاقت کو بڑھانے کی تاکید کی گئی ،اس کے علا وہ اور بھی اسی طر ح کی مزید کئی شقیں ہیں ،ان میں بھی بہت کچھ لکھا ہو ا ہے، اس قا نون پر عملدرامد ہوتاتو آج ہم بھی دنیا کی مہذب ترین ریاستوں میں سے ایک ریاست ہو تے ، لیکن صو رت حال اس کے برعکس ہے اور عملی طور پر پورے ملک میں پو لیس کا ادارہ ایک خو ف کی علا مت کے سو ا کچھ بھی نہیں ہے ۔آج بھی پولیس کی گاڑی دیکھ کر سند ھ ،پنجاب کے دور دراز علا قو ں میں لو گ اپنے کچے گھر وں کے دروازے بند کر کے مٹی اور لکڑ ی کے بنے کمزور کمروںمیں پناہ لینے پر مجبو ر ہو جاتے ہیں ،کیو نکہ پولیس کی وردی پہنے ہوئے عام سپاہی ہو یااعلیٰ افسر ،اپنے آپ کو زمین کا خد ا سمجھتاہے ۔

 حال ہی میں سند ھ ہائیکو رٹ نے سکھر کے ایک ایس ایچ او کو ہتھکڑ ی لگا کر عدالت میں پیش کر نے کا حکم دیا، کیو نکہ مو صو ف خو د پچیس سے زائد مقد ما ت میں مطلو ب ہے ۔آج کی دنیا مہذ ب ریا ستو ں کی دنیا جانی جاتی ہے نہ کہ پو لیس ریاست کی ، تواب اس بات کا فیصلہ بھی پچھلی صد ی میں ہو ئی مر د م شماری کے اعداد و شمار کے اندازوں کے مطابق ساڑھے سترہ کر وڑ عوام کریں گے کہ کیاہم پولیس سٹیٹ ہیں یا دنیاکی ایک مہذب ریا ست ۔گڈگورننس کے دعویدار وں سے کون پو چھے گاکہ دنیاکا کو نساقا نو ن پولیس کو اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ ملز م کو پکڑ نے میں نا کا م ہو گئے تو ملز م کے خاند ان کے دوسر ے افرادکو اٹھا کر تھا نے میں بند کر دیں، پھر کئی دن انہیںخلاف قانون تھا نو ں میں رکھ کر ان پر تشد د کر یں اور پھر پیسے لیکر چھو ڑ دیں ۔اگر ضابطہ فو جداری کے دفعہ 491اور آئین پاکستان کا آرٹیکل199 نہ ہوتے تومو جو دہ صو رت حال میں پاکستان میں ہر دوسرے شخص کاشما ر لا پتہ افر اد میں ہو تااور پھر ان کی بازیابی کے لئے شائد کسی لانگ مارچ کی بھی ضرورت نہ ہوتی۔ ٭

مزید : کالم