اگر آپ کو بھی سوئمنگ کا شوق ہے تو اگلی مرتبہ پول میں ڈبلی لگانے سے قبل یہ انتہائی تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

اگر آپ کو بھی سوئمنگ کا شوق ہے تو اگلی مرتبہ پول میں ڈبلی لگانے سے قبل یہ ...
اگر آپ کو بھی سوئمنگ کا شوق ہے تو اگلی مرتبہ پول میں ڈبلی لگانے سے قبل یہ انتہائی تشویشناک خبر ضرور پڑھ لیں

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے آنکھوں کا سرخ ہو جانا عام بات ہے اور آپ میں سے ہر کوئی اس تجربے سے گزر چکا ہو گا۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ سوئمنگ پول میں نہانے سے آنکھیں کیوں سرخ ہوجاتی ہیں؟اس کے جواب میں یہ مفروضہ پیش کیا جاتا ہے کہ پانی میں موجود کلورین کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہوتی ہیں لیکن ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پول میں آنکھیں سرخ ہونے کی اصل وجہ پانی موجود ”پیشاب“ ہوتا ہے۔امریکی ادارے سی ڈی سی کے ماہرین نے ڈی واٹر کوالٹی اینڈ ہیلتھ کونسل اور دی نیشنل سوئمنگ پول فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے یہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کی پول میں پیشاب کرنے کی عادت بہت بری ہے اور وہ اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی پھیلانے کے لیے ایک نئی مہم شروع کر چکے ہیں۔ 

تحقیقاتی رپورٹ کی تیاری کے لیے کیے گئے سروے میں آدھے سے زیادہ امریکی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایک ایسا کیمیکل ہے جو پول میں پیشاب کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ کیمیکل پول میں ڈالتے ہیں، اگر پول میں پیشاب ہو تو اس کیمیکل کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکیوں کا یہ مفروضہ سراسر غلط ہے کیونکہ ایسا کوئی کیمیکل موجود نہیں۔اسی سروے میں 71فیصد لوگوں نے کلورین کو آنکھیں سرخ ہونے کی وجہ قرار دیا۔

سی ڈی سی کے صحت مندانہ تیراکی پروگرام کے سربراہ مشعیل ہلاوسا کا کہنا ہے کہ کلورین سے آنکھیں سرخ نہیں ہوتیں، بلکہ کلورین اور دیگر ادویات پول میں جراثیم کا خاتمہ کرنے کے لیے ڈالی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پول میں کیا جانے والا پیشاب کلورین کو ختم کر دیتا ہے اور آنکھوں میں چبھنے والی بدبو پیدا کرتا ہے جس سے لوگوں کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے، یہ بہت سادہ ہے۔ لوگ پولز کو صرف سوئمنگ کے لیے استعمال کریں، پیشاب کے لیے بیت الخلاءموجود ہیں، وہاں پیشاب کریں اور پانی سے صفائی کے بعد سوئمنگ پول میں تیراکی کے لیے آئیں تو یہ مسئلہ فوری طور پر حل ہو جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس