اسرائیل کا ٹرائل شروع ‘ آئی سی سیِ ؛ کے حوالے

اسرائیل کا ٹرائل شروع ‘ آئی سی سیِ ؛ کے حوالے

 ایمسٹرڈیم ( آن لائن )فلسطینی اتھارٹی نے عالمی عدالت انصاف "آئی سی سی" میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے مقدمہ کے آغاز کے لیے عالمی عدالت کو دستاویزی ثبوت مہیا کردیے ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہالینڈ میں فلسطینی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوج داری عدالت میں سنہ 2014ء4 میں غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اکاون روزہ جنگ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کی تحقیقات کے لیے ثبوت عدالت کو مہیا کر دیے گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت میں صہیونی ریاست کے فلسطینی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم سے متعلق یہ ثبوت پہلی مرتبہ سامنے لائے گئے ہیں۔قبل ازیں فلسطینی وزیر داخلہ ریاض المالکی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جلد ہی عالمی عدالت کی پراسیکیوٹر فاٹو بنسوڈا کو اسرائیل کے خلاف دو مقدمات کھولنے کے لیے درخواست دیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف چارہ جوئی کا مقصد 14 جولائی 2014ء4 کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کو آگے بڑھانا اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث اسرائیلی ریاست کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے۔دوسری جانب اسرائیل عالمی فوج داری عدالت میں ہونے والی قانونی کارروائی کی کھل کر مخالفت کررہا ہے۔ تل ابیب نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ کہہ رکھا ہے کہ وہ ہیگ کی عالمی عدالت کے ساتھ جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات میں کسی قسم کی مدد نہیں کرے گا۔خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ہیگ کی بین الاقوامی فوج داری عدالت میں رواں سال اپریل میں رکنیت کا درجہ حاصل ہوا تھا جس کے بعد عدالت کی خاتون پراسیکیوٹر نے صہیونی ریاست کے خلاف فلسطینی درخواست پر جنگی جرائم سے متعلق شواہد اکٹھے کرنا شروع کردیے تھے۔عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل کیخلاف قانونی چارہ جوئی ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہی ہے جب رواں ہفتے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کو سنہ 2014ء فلسطین۔ اسرائیل جنگ میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے۔

مزید : عالمی منظر