پابندیاں لگوانے کی بھارتی کوشش اورچین کاویٹو

پابندیاں لگوانے کی بھارتی کوشش اورچین کاویٹو
 پابندیاں لگوانے کی بھارتی کوشش اورچین کاویٹو

  


چین نے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے حوالے سے قائم کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کی طرف سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی قرارداد ویٹو کردی۔ بھارت نے ممبئی حملہ کیس میں ملوث قرار دئیے گئے، ذکی الرحمن لکھوی کی پاکستان میں رہائی کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان سے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر جواب طلب کیا جائے۔ سلامتی کونسل کی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی درخواست پر ہوا جس میں چین نے بھارتی قرارداد کو یہ کہہ کر ویٹوکر دیا کہ بھارت نے ذکی الرحمن لکھوی سے متعلق ضروری معلومات اور ثبوت پاکستان کو فراہم نہیں کئے اور یہ قرارداد سیاسی طور پر لائی جا رہی ہے۔ چونکہ سلامتی کونسل نے القاعدہ سے تعلق والے افراد پر سفری پابندیوں، اثاثے منجمد کرنے اور ہتھیاروں کی پابندی کی سفارش کر رکھی ہے، لہٰذا بھارت نے ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر پاکستان کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ رہائی اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی میں 5مستقل، جبکہ 10 غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل طور پر عمل کر رہا ہے اور بھارت کی یہ قرارداد عالمی فورم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سازش تھی اور پابندیوں سے متعلق کمیٹی کو سیاسی بنانے کی کوشش تھی۔اس 15 رکنی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی درخواست پر بلایا گیا تھا، جس میں پاکستان سے پوچھا جانا تھا کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں گرفتار کئے جانے والے شخص ذکی الرحمان لکھوی کو جیل سے کیوں رہا کر دیا گیا۔ وزیراعظم مودی نے اس حوالے سے چین کی اعلی قیادت سے معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ چین کے سوا تمام ارکان بھارت کی قرارداد کے حامی تھے۔ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پابندیاں لگانے والی کمیٹی کا بھی رکن ہے۔

بھارت کا الزام ہے کہ ذکی الرحمن لکھوی 2008ء میں ممبئی پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔ 2008ء کے حملے میں 166 افراد مارے گئے تھے۔ بھارت کے مطالبے پر لکھوی سمیت چھ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے 9 اپریل 2015ء کو لکھوی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کئے گئے تھے ہائی کورٹ نے ان کی قید کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ لکھوی کی رہائی پر امریکہ سمیت روس برطانیہ اور فرانس نے بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ امریکہ نے یہ بھی کہا تھا کہ لکھوی کو پھر سے گرفتار کیا جانا چاہئے۔یہ بھارتی میڈیا کا کمال ہے کہ ایک سادے سے پاکستانی کو بھارت کے سامنے ایک ڈراؤنا خواب بنا دیا ہے۔ جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے بھارتی عوام کے دِلوں میں پاکستان کی نفرت میں اضافہ کرنے کی کوشش کی۔ حیرت کی بات یہ ہے ادھر ممبئی میں حملہ ہوتا ہے ادھر انڈین نیوز چینلز اس کی پلاننگ اور اس کے مامسٹر مائنڈ کے نام تک بتانے شروع کردیتے ہیں۔ اگر ان کے پاس اتنی معلومات تھیں تو حملوں کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔ اتنا بڑا حملہ کیوں ہونے دیا گیا کہ جس سے پوری دنیا میں بھارت کے دفاع کی جگ ہنسائی ہوئی۔

بھارتی میڈیا نے اس میں پاکستانی اداروں خصوصاََ آئی۔ایس۔آئی ،کشمیری جماعت لشکر طیبہ ،جماعۃ الدعوۃ ، حافظ سعید ،ذکی الرحمٰن لکھوی اور دیگر کئی پاکستانی افراد کو ملوث قراردیا۔ اس وقت سب کی زبانیں پاکستان اور مذہبی جماعتوں کے خلاف زہر اگل رہی تھیں۔اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں نے بھارتی دباؤ کے زیراثر حافظ سعید ،ذکی الرحمٰن لکھوی اور دیگر سرکردہ رہنماؤں کو نظر بند یا جیل میں قید کر دیا،لیکن اس وقت پاکستان کی آزاد عدالتوں نے جرأت مندانہ فیصلے کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کی رپوٹوں اور ناکافی ثبوتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حافظ سعید اور دیگر رہنماؤں کو آزاد کردیا۔پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھارت کے خلاف عالمی عدالت میں کشمیریوں کے حق میں مقدمہ دائر کرکے بھارت کو دہشت گرد مُلک قرار دلوائے کہ جس نے آٹھ لاکھ سے زائد فوج کو نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے کے لئے رکھا ہوا ہے۔ پاکستان سے ان کے حق کے لئے کوئی بھی آواز اٹھتی ہے تو اس کوبھارت دہشت گردی کے زمرے میں لے آتا ہے اوران کے خلاف اقوام متحدہ میں باقاعدہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ان کودہشت گرد قراردیا جائے۔ کیا اقوام متحدہ کو نہیں پتا کہ اس کی اپنی قرار دادیں کشمیر کے متعلق کیا کہتی ہیں؟ ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی کے بعد سے بھارتی میڈیا اور بھارتی ذمہ داران مسلسل پاکستانی عسکری اداروں اور پاکستانی عدالتوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اور اسی ہرزہ سرائی اور اپنے جھوٹ کے پلندے کو لے کر بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد لے گیا،جس کو ہمارے انتہائی پیارے دوست چین نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنا پر ویٹو کر دیا۔ ہمارے حکمرانوں پر اسی واقعے سے ہی بھارتی دشمنی اور چینی دوستی کی حقیقت آشکار ہوجانی چاہئے۔

مزید : کالم