بی بی سی سے ہوشیار!

بی بی سی سے ہوشیار!
بی بی سی سے ہوشیار!

  


ایم کیو ایم کے خلاف بی بی سی نے جو چارج شیٹ ایشو کی ہے اس سے مجھے پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش کی بو آ رہی ہے۔۔۔ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر گزشتہ دو روز سے اس موضوع پر جو بحث مباحثے کئے جا رہے ہیں ان میں بی بی سی کو قابلِ اعتماد عالمی شہرت کا ایک نشریاتی ادارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جو الزامات بی بی سی نے ایم کیو ایم پر لگائے، ان میں اس لئے بھی زیادہ وزن پایا جاتا ہے کہ یہ کسی بی بی سی(ہوم) پر نشر نہیں کئے گئے۔ بی بی سی کے کئی چینل ہیں جن کی رسائی(Reach) یا جن کا روئے سخن ایک محدود طبقۂ آبادی تک ہوتا ہے لیکن جب بی بی سی انٹرنیشنل کی بات کی جاتی ہے تو یہ براڈ کاسٹنگ ادارہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور اس لئے زیادہ قابلِ اعتماد تصور کیا جاتا ہے۔لیکن ایک بات جو ہمیں ذہن نشین رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ دُنیا کا کوئی بھی میڈیا ہاؤس خوا وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، اپنی قومی، خارجی، داخلی، دفاعی اور سماجی اقدار اور پالیسیوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ریاستِ برطانیہ کی پالیسی مشرق کو دیکھ رہی ہو اور بی بی سی کا رُخ مغرب کی طرف ہو۔ قومی سلامتی اور دفاع جیسے اہم موضوعات پر حکومت اور بی بی سی ہمیشہ ایک صفحے پر رہتے ہیں اور یہ پہلواس ادارے کے سٹرٹیجک مقصودات (Objective) کا ایک جزوِ لاینفک ہے۔

راقم السطور ملٹری ہسٹری کا ایک ادنیٰ طالب علم ہے اور اس حوالے سے جب مَیں دونوں عالمی جنگوں میں اتحادی یا محوری اقوام کے میڈیا کے رول کو دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ اس پاور فل پرائیویٹ میڈیا آر گن نے کتنی زیرکی اور پیشہ ورانہ اہلیت سے ایک پاور فل سٹیٹ میڈیا آرگن کا کردار ادا کیا۔بی بی سی کے ان ’’کارناموں‘‘ پر نظر ڈالئے جو اس نشریاتی عالمی ادارے نے دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کو شکست دینے میں روبہ عمل لائے۔کالم کی تنگ دامانی اگر مانع نہ ہو تو بی بی سی کا اس دوسری جنگ عظیم کے آخری برسوں (1943-45ء) میں اتحای افواج کی سپورٹ میں اور جرمن افواج کے خلاف جو رول رہا، اس پر تفصیل سے بات ہو سکتی تھی۔ تاہم مختصراً یہ عرض کر سکتا ہوں کہ اسی بی بی سی نے اس جنگ کے دوران لندن کے گردو نواح میں بیٹھ کر اپنے آپ کو ایک ایسے ’’آزاد جرمن نشریاتی ادارے‘‘ کے طور پر پیش کیا جس نے جرمن پبلک کو نہ صرف گمراہ کیا، بلکہ جرمن مسلح افواج تک کو بھی متاثر کیا۔ اس ’’بی بی سی‘‘ کا یہ ’’جرمن بہروپ‘‘ بڑا دلچسپ ہے۔جب جرمنی کے خلاف اس برطانوی نشریاتی ادارے کی خدمات کی داستان سامنے آتی ہے تو دیکھنے، سننے اور پڑھنے والا عش عش کر اُٹھتا ہے۔

ان ایام میں اس’’آزاد جرمن نشریاتی ادارے‘‘ نے کہ جو دراصل ’’بی بی سی‘‘ تھا، اپنی تمام نشریات کا رُخ جرمنی اور یورپ میں جرمن زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی طرف موڑ دیا تھا۔ اس ادارے کا سارا عملہ اُن جرمن جنگی قیدیوں پر مشتمل تھا جو برطانوی فوج نے گاہے بگاہے اس چھ سالہ طویل جنگ میں پکڑے تھے۔ ان کے علاوہ ایسے جرمن دانشور، فلاسفر اور فوجی بھی تھے جو ہٹلر کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے تھے اور پھر سب سے بڑا رول ان یہودیوں نے ادا کیا جو ہٹلر کے بدنامِ زمانہ عقوبت خانوں کی ساری تفصیلات سے باخبر تھے۔ ان میں بیشتر ایسے لوگ تھے جو کسی نہ کسی حیثیت میں جرمنی میں ریڈیو نشریات سے منسلک رہے تھے۔ اس دور میں ٹیلی ویژن تو تھا نہیں اس لئے پراپیگنڈے کا بڑا آرگن ریڈیو ہی کو سمجھا جاتا ہے اور بی بی سی ریڈیو کا نام ایک بڑا نام تھا۔

اس ’’ریڈیو فری جرمنی‘‘ سے (جو دراصل بی بی سی کا ایک فارن چینل تھا) جرمن زبان میں جو نشریات آن ائر کی جاتی تھیں، ان میں برطانوی اور اتحادی افواج اور ممالک کے خلاف بھرپور پراپیگنڈا کیا جاتا تھا۔ اتحادیوں کے مظالم کی داستانیں جب جرمن زبان میں نشر کی جاتی تھیں تو جرمنی میں رہنے والے ریڈیو سامعین کے دِلوں میں اپنے قومی ریڈیو کے خلاف اور اس ’’ریڈیو فری جرمنی‘‘ کے حق میں ایک نرم گوشہ پیدا ہو جاتا تھا۔ یہ نرماہٹ آہستہ آہستہ بڑھتی چلی گئی۔ اور ساتھ ہی اس جعلی ریڈیو سٹیشن کی پروفیشنل ساکھ بھی مسلّم ہوتی گئی۔ اس کے عملے میں ایسے جرمن باشندے بھی تھے جو مختلف جرمن شہروں کے رہائشی تھے، فوج میں بھرتی ہوئے اور جنگی قیدی بن گئے۔ علاوہ ازیں وہ یہودی مرد و زن جو ہٹلر کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر اپنے وطن مالوف کو ترک کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور برطانیہ میں پناہ لے لی تھی،وہ جب اپنے شہر کے کسی گلی محلے کا ذکر ریڈیو پر کرتے تو ساتھ ہی علاقے کا پورا جغرافیائی ماحول بھی بیان کر دیتے اور کہتے کہ فلاں فلاں محلے دار ہمارے اپنے سنگی ساتھی ہیں اور فیوہرر (ہٹلر کا لقب) بہت جلد ان کو ملاقات کے لئے بلائیں گے۔

یہ سب کچھ جب جرمنی میں سُنا جانے لگا تو جرمن سامعین اس پر ایمان لانے لگے۔ رفتہ رفتہ اس ریڈیو نے پورے جرمنی میں ایسی فضا پیدا کر دی جو اندر ہی اندر عوام الناس کو جرمن عسکری اور سیاسی قیادت سے بیزار کرنے لگی۔ عسکری محاذ پر جوں جوں جرمن افواج کو شکستیں ہوتی گئیں توں توں اس ریڈیو کی نشریات زیادہ قابلِ اعتماد شمار ہونے لگیں۔ اول اول تو اس ریڈیو نے ہٹلر کو بطور ہیرو پیش کیا۔ ہٹلر جب بھی کوئی تقریر اپنی جرمن قوم کے لئے ریڈیو پر نشر کرتا،اس کو اُسی لمحے اصل جرمن ریڈیو نیٹ ورک سے اُٹھا کر اس جعلی فری جرمن ریڈیو کے ساتھ لنک کر دیا جاتا۔ اس طرح ہٹلر کی درجنوں تقاریر لندن کے اس بی بی بی سٹیشن سے نشر ہونے لگیں!

جنگ کے آخری ایام میں جب جرمن افواج، اتحادی افواج کی برلن کی طرف پیش قدمی کی مزاحمت کر رہی تھیں تو اس ’’جعلی ریڈیو‘‘ سے جرمن زمینی فارمیشنوں/ رجمنٹوں کو ڈائریکٹ کیا جاتا تھا کہ ’’دیکھو ہمارے نازی بہادرو، یہ اتحادی کتے فلاں ڈائریکشن سے ہمارے وطنِ عزیز کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کو روکو‘‘۔۔۔ اور جب وہ جرمن فارمیشن، اُس طرف اپنا وزن ڈال دیتی تھیں تو اتحادی فارمیشن کمانڈر اپنے طے شدہ اصل پلان آف ایڈوانس کی پیروی کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔اس بظاہر جرمن دوست اور بہ باطن جرمن دشمن ریڈیو نے اپنی افواج کے شانہ بشانہ ایک ایسا رول ادا کیا جس کی تفصیل حیرت انگیز اور چشم کشا ہے۔ بہت پہلے مَیں نے (شائد) پنجاب رجمنٹ سنٹر، مردان کے آفیسرز میس کی لائبریری میں ایک کتاب دیکھی تھی، جس کا عنوان تھا: ’’بومرنگ‘‘(Boomerang) اس میں اس ریڈیو فری جرمنی کہ جو دراصل بی بی سی ریڈیو کا ایک ذیلی سٹیشن تھا، کا سارا کچا چٹھا کھول کر بیان کیا ہوا تھا۔اگر آج بھی کوئی صاحب جنگ عظیم دوم کے ایام میں بی بی سی کے کردار کی تفصیل، انٹرنیٹ سے حاصل کر سکیں تو ان کو معلوم ہو گا کہ میڈیا اور جنگ کا آپس میں کتنا بڑا گٹھ جوڑ ہو سکتا ہے۔۔۔اب ہم بی بی سی کی اس حالیہ چارج شیٹ کی طرف آتے ہیں جو آپ سب پڑھ اور سُن چکے ہیں۔ مجھے جو سوال مبتلائے شبہات کر رہے ہیں، وہ یہ ہیں:

(1) اگر ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن بھارت میں ’’را‘‘ کی طرف سے قائم کردہ کسی ٹریننگ کیمپ میں جا کر پاکستان کے مخالف کوئی ’’ ٹریننگ‘‘ لے رہے تھے تو ہمارے انٹیلی جنس ادارے کہاں تھے؟

(2) اگر دس برس سے یہ سلسلہ چل رہا تھا اور بی بی سی کو معلوم تھا کہ پاکستان کے خلاف ایم کیو ایم یہ گھناؤنی سازش کر رہی ہے تو اس کی خبر ہمارے کسی میڈیا والے کو کیوں نہ ہو سکی؟

(3) اگر ’’را‘‘ یہ سارے کارنامے انجام دے رہی تھی تو کیا ہماری ISI سو رہی تھی؟ کیا اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ بی بی سی کی یہ موجودہ سٹوری بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی کے قد کاٹھ کو بمقابلہISI، بڑھا چڑھا کر بیان کرنے کا ایک پلان ہے؟

(4) یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان کی عسکری قیادت امریکہ، برطانیہ، افغانستان اور روس جا کر وہاں کی حکومتوں کو ’’را‘‘ کے کرتوتوں کا ثبوت دکھاتی (اور سنواتی) رہی ہے۔ تو کیا بی بی سی کا یہ حالیہ انکشاف اس تناظر میں ہماری عسکری قیادت کے موقف کو تقویت نہیں دیتا؟ لیکن کیا اس کا دوسرا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ بی بی سی اور ’’را‘‘ مل کر پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو میدانِ جنگ میں تبدیل کرنے کا پلان بنا رہے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہمارے خطے میں جو بی بی سی نشریات، مواصلاتی سیاروں کی مدد سے آن ایئر ہو رہی ہیں، ان کی ساری فریکوینسیاں (Frequencies) ایک عرصے سے بھارت نے خرید رکھی ہیں؟

(5) کیا بی بی سی اتنا کھل کر کبھی بھارت کے خلاف بول سکتا تھا؟۔۔۔ یہ بھی خیال فرمایئے کہ آج ایک مخصوص وقت(Point of Time) ہی میں بی بی سی والوں کے دِل میں پاکستان کی محبت کیوں امڈ آئی اور ساتھ ہی بھارت کے خلاف ان الزامات کو کیوں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا؟ کیا یہ بی بی سی اور بھارتی را گٹھ جوڑ(Nexus) نہیں؟

(6) کیا یہ بات درست نہیں کہ امریکہ اور مغربی ممالک ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ کے قیام کے شدید مخالف ہیں؟ اور اگر ہیں تو کیا بی بی سی کا یہ نیا شوشہ/ پروگرام ’’اتحادی ایجنڈے‘‘ کا حصہ نہیں؟

(7) کیا یورپ اور امریکہ مل کر کراچی میں اس لئے گڑ بڑ پھیلانا چاہتے ہیں کہ گوادر سے شروع ہونے والی شاہراہوں کے نیٹ ورک کی تعمیر روکی جا سکے؟

(8) اگر پاکستانی حکومت بی بی سی کی اس رپورٹ کو درست مان کر ایم کیو ایم والوں کی پکڑ دھکڑ کرتی ہے تو کیا ایم کیو ایم کا عسکری ونگ زیر زمین جا کر پاکستان کے لئے نئے مسائل نہیں پیدا کرے گا؟

(9) الطاف بھائی کے خلاف اس وقت اگر مقدمہ چلا کر ان کو پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے تو کیا کراچی کا امن و امان غارت نہیں ہو گا؟ اور اس غارت گری کا کوئی اثر PCEC پر نہیں پڑے گا؟

(10) کیا الطاف حسین ماضئ قریب میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی دھمکیاں نہیں دیتے رہے؟ کیا یہ سب کچھ برطانوی حکومت کے علم میں نہیں تھا؟ اور اگر تھا تو کیا الطاف حسین برطانوی ایماء پر اس قسم کے سخت بیان دیتے رہے تھے؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ لندن میں بیٹھ کر کوئی پناہ گیر سیاسی رہنما جس کی جماعت کی پاکستان کی قومی اسمبلی میں 24سیٹیں ہوں، سندھ سے کراچی کو الگ کرنے کی بات کہے اور برٹش اربابِ اختیار اس سے بے خبر رہیں؟

میرے خیال میں قارئین کرام! بی بی سی کی حالیہ سٹوری پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔۔۔ ایم کیو ایم کے خلاف ایک سازش ہے۔۔۔اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔ اگر کل کلاں کراچی میں توڑ پھوڑ ہوتی ہے، لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، قتل و خونریزی کا بازار گرم ہو جاتا ہے تو کیا چینی قیادت اپنا46ارب ڈالر کا پراجیکٹ ختم کرنے کا نہیں سوچے گی؟

میرے خیال میں یہ وقت پاکستان کی سیاسی (اور عسکری) قیادت کے سر جوڑ کر بیٹھنے کا وقت ہے۔ یہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ کرنے کا لمحہ ہے۔ یہ ’’گوادر‘‘ کے آس پاس کے پاکستانی علاقوں کو پُرامن رکھنے کی گھڑی ہے۔ ایک ایسی گھڑی ہے جو قومی وحدت کی مقتضی ہے۔ ایک ایسا وقت ہے کہ جس میں ہمارے میڈیا کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ایسے پروگرام، ٹاک شوز اور بحث و مباحثوں سے گریز کرنا ہے، جس سے قوم کے سٹرٹیجک مفادات پر زد پڑتی ہو۔

زرداری صاحب کی حالیہ تقریر دلپذیر تو آپ نے سُن ہی لی تھی۔ کیا پی پی پی اور ایم کیو ایم دونوں ایک صفحہ پر ہو کر کراچی میں ایک بحران پیدا نہیں کر سکتے؟ عسکری قیادت کو دہشت گرد عناصر پر ہاتھ ضرور ڈالنا چاہئے، لیکن بعض قومی مصلحتیں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن کے نتائج کی نفی یا اثبات کچھ دیر کے بعد جا کر ظاہر ہوتی ہے۔ ایسے میں وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھے اور کشیدہ ماحول کو معمول پر لانے کے لئے تمام سٹیک ہولڈروں سے ملاقات کرے، عوام کو باور کرائے کہ یہ لمحہ فی الحال لڑنے جھگڑنے کا نہیں۔ حکومت کو نشریاتی اداروں اور پرنٹ میڈیا کے کرتا دھرتاؤں کی ایک کانفرنس بُلا کر اس میں ان کی تجاویز اور آراء سے مستفید ہونا چاہئے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی یا اس میں تاخیر کرتی ہے تو بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو خود اپنی نشریات کی سکریننگ کرنی چاہئے اور اپنے اینکرز، پروڈیوسرز اور دیگر فنکاروں کو واضح طور پر بتانا چاہئے کہ وہ بی بی سی کی اس حالیہ یلغار کے سٹرٹیجک مضمرات کو مدنظر رکھ کر اپنے پروگرام آن ائر کیا کریں!

مزید : کالم