28کو آپریٹوسوسائٹیوں میں برسوں سے سالانہ میٹنگز نہ ہو سکیں

28کو آپریٹوسوسائٹیوں میں برسوں سے سالانہ میٹنگز نہ ہو سکیں

 لاہور/عامر بٹ سے )محکمہ امدا باہمی کے افسران کی مجرمانہ غفلت اور سوسائٹی انتظامیہ کی بدنیتی کے باعث28سے زائد فنکشنل کو آپریٹو سوسائٹیوں میں سالانہ طور پر کروائے جانے والے اجلاس (اے جی ایم/اینول جنرل میٹنگ)کئی سالوں سے منعقد نہیں کروائی جا سکی جس کی وجہ سے ان28سے زائد فنکشنل کو آپریٹو سوسائٹیوں میں فنڈز خرد برد کیے جانے اور پلاٹوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے سینکڑوں انکشافات اور الزامات روزانہ کی بنیاد پر سامنے آ رہے ہیں روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ امداد باہمی سے منظور شدہ فنکشنل28سے زائد ایسی کو�آپریٹو سوسائیٹوں کی انتظامیہ میں بھی پائی جاتی ہے جنہوں نے عرصہ سالہ سال سے نہ تو کبھی سالانہ اے جی ایم کروائی ہے اور نہ ہی اس ضمن میں کبھی محکمہ کوکوئی وضاحت پیش کی ہے جس سے ان کوآپریٹو سوسائٹی کے انتظامی عہدوں کو سنبھالنے والے ایڈمن کمیٹی کے حوالے سے یہ تاثر بھی عام ہوتا جا رہا ہے کہ یہ محکمہ کوآپریٹو کے افسران کی منظور نظر سوسائٹیاں ہیں جن پر کسی قانون اور بائی لاز کا اطلاق نہیں ہوتا ہے ۔اس ضمن میں محکمہ کو آپریٹو کی جانب سے ان سوسائٹی انتظامیہ کو متعدد مرتبہ نوٹس تو جاری کیے گئے ہیں مگر حتمی قانونی کاروائی کا آغاز آج تک نہیں ہو سکا ان سوسائٹیوں میں انجینئرنگ یونیورسٹی ایمپلائز ،جرسٹ ہومز ، ایل ڈی اے ایمپلائز کو آپریٹو، پی سی آئی سی کو آپریٹو ، پی اینڈ ڈی ڑیپٹ ، لاہور کینال بینک ، گوشہِ احباب ،پاکستان راجپوت کو آپریٹو ، گورنمنٹ آفیسر ، ٹپ ایمپلائز ،ٹی آئی پی ایمپلائز ،ریل ٹاؤن ،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ،پاکستان ایکسپرٹیز ،واپڈا ایمپلائز ، جافریہ کو آپریٹو ، کالج ٹیچرز ،ویتھ ایپلائز ،این ایف سی ایمپلائز ، ابدالیئنز کوآپریٹو ، ، پنجاب کوآپریٹو،پاک لینڈ ورکرز ، سرگودھا کو آپریٹو ،پوسٹل ایمپلائز ، ثاقب ایمپلائز ،نیو گوشہِ احباب اور چنیوٹ کو آپریٹو سوسائٹی کے نام سرفہرست ہیں ۔ دوسری جانب یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان سوسائٹی انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کئی سال گزر جانے کے بعد بھی یہ سوسائیٹاں مکمل طور آباد نہیں ہو سکیں شہریوں کی بڑی تعداد نے سیکرٹری کو آپریٹو سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1