افغان پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی پشاور میں ہوئی ،افغانستان ،الزام بے بنیاد ہے ،پاکستان

افغان پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی پشاور میں ہوئی ،افغانستان ،الزام بے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کابل/ اسلام آباد(آئی این پی )افغان انٹیلی جنس نیشنل ڈائریکوریٹ آف سیکورٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی پشاور میں کی گئی اور حملے کا ماسٹر مائنڈ حقانی نیٹ ورک کا عسکری کمانڈر مولوی شیریں ہے جسے پاکستانی خفیہ ایجنسی نے مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی ،دوسری جانب پاکستان نے افغان انٹیلی جنس کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے،ایسے بے بنیاد الزامات سے بین الاقومی برادری اور افغان عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا،پاکستان پر الزامات دونوں ملکوں کے بتدریج بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ گزشتہ روز افغان میڈیا کے مطابق این ڈی ایس نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سیکورٹی کے ترجمان حسیب صدیقی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 22 جون کو افغان پارلیمنٹ پر حملے کی منصوبہ بندی پشاور میں کی گئی ۔ ترجمان نے کہاکہ حقانی نیٹ ورک کے عسکری کمانڈر مولوی شیریں حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے جبکہ پاکستانی خفیہ ایجنسی کے افسر نے اسے مالی اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی تھی ۔حسیب صدیقی اپنے الزامات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکے ۔انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کیلئے 7.5 ملین پاکستانی روپے خرچ کیے گئے ۔دوسری جانب پاکستان نے افغان انٹیلی جنس کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔ترجمان دفتر خارجہ قاضی خلیل اللہ نے ایک بیان میں کہاکہ پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے بزدلانہ حملوں کی ہمیشہ مذمت کی ہے ۔پاکستان پر الزامات دونوں ملکوں کے بتدریج بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو خراب کرنا ہے ۔ایسے بے بنیاد الزامات سے بین الاقومی برادری اور افغان عوام کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔انھوں نے کہاکہپاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے ،افغانستان کے نیشنل ڈائریکوریٹ آف سیکورٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔پاکستان افغانستان میں ہمیشہ مضبو ط جمہوری نظام کا حامی رہا ہے۔ترجمان نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ قریبی تعاون سے دہشتگردی کے خاتمے کا عزم رکھتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -