متحدہ بڑے گرداب میں، نکلنا مشکل نظر آتا ہے

متحدہ بڑے گرداب میں، نکلنا مشکل نظر آتا ہے

تجزیہ چودھری خادم حسین

رینجرز کی طرف سے بھتہ خوری کرپشن اور قبضہ گروپوں کے حوالے سے تیار کی جانے والی رپورٹ کی اشاعت سے تالاب میں جو مدو جذر پیدا ہوئے اس نے اب ایک نئے طوفان کی شکل اختیار کر لی اور ایم کیو ایم اب پھر سے گرداب میں نظر آرہی ہے۔ چند روز قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے رینجرز رپورٹ کے حوالے سے تالاب میں کنکر کی بجائے پتھر پھینک کر جو زبردست قسم کی ہلچل پیدا کی اس نے بڑے بڑے تجزیہ کاروں کو چکرا کر رکھ دیا تھا اور یکایک توپوں کے دہانے آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کی طرف کر کے کھول دیئے گئے۔ پیپلزپارٹی کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنا پڑی مجلس عاملہ نے بھی جنرل راحیل شریف کے حق میں تعریفی قرارداد نما گفتگو کی اور پاک فوج کو خراج پیش کیا جبکہ آصف علی زرداری نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو نشانے پر رکھ لیا۔ ان کا انداز واضح تھا اور اب ایک معاصر میں چھپنے والے کالم میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو یاد دلایا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے بھی زمینیں ریوڑیوں کی طرح بانٹی تھیں ان سے حساب کون لے ؟ اسی طرح بعض حضرات امریکہ سے ملنے والے سپورٹ فنڈز کا حساب چاہتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے اربوں ڈالر دینے کا حساب دے دیا گیا ہے۔ یوں ایک عجیب قسم کی کھچڑی پک گئی۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا اور میڈیا والے حضرات آصف علی زرداری فیملی کی روانگی ہی کو خبر بنا رہے تھے کہ بی بی سی نے دھماکہ کر دیا اور یہ دھماکہ بہت زبردست ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے اعتدال اور انتہا پسندی کی جو بات کی جا رہی تھی وہ درست ہونے جا رہی ہے۔ عوام کو اس امر سے ہی سمجھ جانا چاہئے تھا کہ الطاف حسین کے مطالبے اور ہدایت کے باوجود عشرت العباد نے گورنر کا عہدہ نہیں چھوڑا اور حکومت نے ان کو تبدیل بھی نہیں کیا۔ اب ایم کیو ایم کے خلاف سنگین ترین الزام سامنے آ گئے اور ملک کے اندر اور باہر ایک شور مچ گیا ہے۔ ایم کیو ایم کی طرف سے تردید تو کی گئی لیکن بی بی سی کے خلاف مقدمہ کرنے کا اعلان نہیں کیا اسے تو اب تک کیس دائر بھی کر دینا چاہئے تھا کہ ایم کیو ایم ایک منظم جماعت ہے جسے اس میں کوئی دقت نہیں ہونا چاہئے لیکن ایم کیو ایم کی طرف سے جواب ڈھیلا ہے جو اس کے مزاج کے برعکس ہے۔ بہر حال یہ تو پہلے بھی کہا جا رہا تھاکہ ایم کیو ایم وقت کی رفتار دیکھتے ہوئے دھیما پن اختیار کر چکی ہے کہ ماضی میں بھی کئی بار اسی طرح وقت گزارا گیا تھا لیکن اس مرتبہ لندن والوں کا معاملہ ہے۔ منی لانڈرنگ سے اب ’’را‘‘ سے پیسے لینے کا اقرار کرنے والوں کے نام اور پھر یہ کہ لندن آفس کا انچارج بھی بھارتی شہری ہے۔ بات یہیں نہیں رکتی بلکہ صولت مرزا، معظم علی، اور دو نوجوان جو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں مطلوب ہیں۔ یہ سب مل کر ایک بڑا ہنگامہ خیز ڈرامہ بناتے ہیں، اب الطاف حسین کی تقریر یا رابطہ کمیٹی کی ڈھیلی تردید سے کام نہیں چلے گا۔ ایم کیو ایم کو بی بی سی کے خلاف فوری طور پر لندن کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا ہوگا ورنہ عوامی سطح پر بھی بات نہیں بنے گی۔ الطاف حسین نبض پر ہاتھ رکھنے والے ہیں وہ کہتے ہیں ’’جس نے جانا ہے چلا جائے۔‘‘

دوسری طرف حکومت کی طرف سے وزراء نے بھی کسی لحاظ سے بغیر کارروائی کا عندیہ دیا۔ وزیر داخلہ نے سکاٹ لینڈ کو مطلوب ملزموں تک رسائی دے دی ہے۔ ایک آدھ روز میں ٹیم آ کر پوچھ گچھ کرے گی۔ اب اس سارے تناظر میں سابق صدر آصف علی زرداری کے رویئے اور انداز فکر کا اندازہ لگایئے کہ وہ للکار کر دبک گئے اور اب بیرون ملک چلے گئے نہ صرف خود اور بچے گئے بلکہ ہمشیرہ، بہنوئی اور بعض دوسرے لوگ بھی چلے گئے اور تو اور عبدالرحمن ملک بھی ساتھ گئے ہیں، چنانچہ ان کی عدم موجودگی میں کوئی بڑی بات کہنے یا اہم فیصلہ کرنے والا ہی نہیں کہ بلاول بھی چلے گئے ہیں۔ کیا یہ معنی خیز نہیں؟ اس سے تو یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ بھڑکنا ضروری تھا۔

مزید : تجزیہ


loading...