سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کی شدید قلت پر صارفین سراپا احتجاج

سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کی شدید قلت پر صارفین سراپا احتجاج

لاہور( خبرنگار) ماہ رمضان کے پہلے عشرے میں گھریلو سیکٹر میں گیس کی قلت ، سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کی شدید قلت پر صارفین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں 1500 سے زائد سی این جی اسٹیشن کھل گئے ہیں اور اگلے 36 گھنٹوں تک کھلنے والے سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد 1800 تک پہنچ جائے گی جس میں لاہور میں کھلنے والے سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد106 سے بڑھ کر 125 ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما کیپٹن (ر) شجاع انور کا کہنا ہے کہ سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہے اور ایل این جی کی فیس اور زرضمانت جمع کروانے والے مالکان کو سی این جی اسٹیشن کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی این جی اسٹیشنوں کے کھلنے سے سستے فیؤل کے ملنے میں آسانی پیدا ہونے لگی ہے۔ دوسری جانب سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی سے گھریلو سیکٹر میں گیس کا پریشر کم ہونا شروع ہو گیا ہے اور ماہ رمضان المبارک کے شروع میں ہی سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کا پریشر کم رہنا معمول بن گیا ہے۔ جس میں لاہور کے اکثر علاقوں میں گھریلو صارفین کو سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کے پریشر میں کمی پر شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ روز بھی صارفین سحر اور افطار کے اوقات میں گیس کے کم پریشر پر سراپا احتجاج بنے رہے ہیں۔ جس میں صارفین کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال میں بہتری نہ آئی تو پھر ماہ رمضان المبارک میں گیس کا پریشر انتہائی کم ہونے پر شدید صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ جبکہ اس حوالے سے گیس حکام کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں گیس کا پریشر کم نہیں ہو گا ۔ گزشتہ روز ساتویں روزے پر ساندہ ، سمن آباد، غازی آباد ، اسلام پورہ، خان کالونی کینٹ، ہربنس پورہ، فتح گڑھ اور رشید پورہ میں گیس کا پریشر کم رہا ہے۔

مزید : علاقائی